Category اردو تحاریر

یہ حصہ اردو زبان میں تحریر کردہ اُن مضامین پر مشتمل ہے جو سماج کے پوشیدہ تضادات، سیاست کے طاقت کے ڈھانچوں اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ پرتوں کو فکری و تنقیدی انداز میں بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ تحاریر وقتی جذبات یا سطحی بیانیوں کے بجائے شعور، سوال اور تجزیے کو مرکز بناتی ہیں۔ یہاں فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق، خوف اور امید کی کشمکش، اقتدار کی نفسیات، شناخت کے بحران، اور اجتماعی رویّوں پر سنجیدہ مکالمہ پیش کیا جاتا ہے۔ مقصد قاری کو محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے اور اپنے گرد و پیش کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دینا ہے۔

یہ اردو تحاریر اُن قارئین کے لیے ہیں جو لفظوں میں گہرائی تلاش کرتے ہیں، اور تحریر کو محض اظہار نہیں بلکہ فکری ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ایک حسین کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا

ایک چشمٍ زدن میں منظر گھوم جاتا ہے. کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے وطنٍ عزیز کے ایک متوسط شہر کی سرکاری ہسپتال ہے، جسے عرفٍ عام میں "”سول ہسپتال”” کا نام دیا جاتا ہے. فجر کے وقت سے ہی فرش…

مزید پڑھیےایک حسین کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا

اعتراف

کیا مردے بولتے ہیں؟…. نہیں ہم بولتے ہیں، مردہ لوگوں کی کہانیاں ہم بول کر انہیں زندہ رکھتے ہیں! کم از کم انہیں اپنے خیالات میں زندہ رکھتے ہیں!تاریخ مردہ لوگوں سے بھری پڑی ہے. اور اسے ہی تو تاریخ…

مزید پڑھیےاعتراف

ایکسٹیزی

“امر! درد ہو رہا ہے نہ؟” میری چہیتی بہن ڈاکٹر فاطمہ کی آواز کنسول میں لگے چھوٹے سے اسپیکر سے آرہی تھی. “امر… امر؟ …. فیاض؟؟؟؟؟” مجھے ایسے لگا جیسے دور کسی صحرا سے کوئی بُلا رہا ہو….. اور میرے…

مزید پڑھیےایکسٹیزی

انسان، غلامی میں آقاگیری کا شوقین

انسان، اس وقت تک کھوجی ہوئی کائنات میں سب سے بڑا معمہ ہے۔ یہ وہ پہیلی ہے جو ابھی بوجھی نہیں گئی۔ اور میرا خیال ہے کہ شاید بوجھی بھی نہ جائے!بلا کا اندرونی طاقت رکھنے والا کتنا کمزور الجسم…

مزید پڑھیےانسان، غلامی میں آقاگیری کا شوقین

یہ بندے بن گئے ہیں اب یہاں ٹارگیٹ اوریئینٹ

غیر سرکاری تنظیموں کا جاوا وہاں ہوتا ہے جہاں ریاستی ادارے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ جہاں ریاستی ادارے فعال ہوتے ہیں وہاں غیر سرکاری فلاحی اداروں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ (یہ معاشرتی وہ فارمولا ہے جسے اب تک میں نے…

مزید پڑھیےیہ بندے بن گئے ہیں اب یہاں ٹارگیٹ اوریئینٹ

قبرستان، زندہ لوگوں کے لیے ایک علامت

"چار دناں دی زندگی۔۔۔۔”"فانی دنیا۔۔۔”"ہم سب مسافر۔۔۔”"دنیا کیا ہے؟ گند کا ڈھیر۔۔۔”"زندگی کیا ہے؟ دو دن کا کھیل۔۔۔”"آخرت کی تیاری کرو۔۔”"یہ مایا جال ہے۔۔۔”اور اس طرح کے رٹے ہوئے جملے یہاں ہر کوئی مبلغ، ہر کوئی ملا پنڈت پادری ربائی…

مزید پڑھیےقبرستان، زندہ لوگوں کے لیے ایک علامت

کینڈیڈ کل بھی تنہا تھا اور وہ آج بھی تنہا ہے

آپ میں سے کسی دوست نے اگر والٹیئر کا ناول "کینڈیڈ” پڑھا ہے تو اسے ناول کے تین اہم کردار ضرور یاد ہونگے! جن میں اول تو خود کینڈیڈ تھا جو کہ بہت غریب، سادہ دل رکھنے والا، اپنے دل…

مزید پڑھیےکینڈیڈ کل بھی تنہا تھا اور وہ آج بھی تنہا ہے

وہ جو تاریک دنوں میں جھلس سے گئے

"اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے اس کا استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوالو… اور ہاں! جہاں اتنی محنت ہوگی، وہاں ایک کام اور بھی کروا لینا… اپنی…

مزید پڑھیےوہ جو تاریک دنوں میں جھلس سے گئے