کوئی اٹھارہ سئو برس ہی نہ گذرے ہونگے کہ مصر کی غاروں سے ایک کتاب مل ہی گئی جس نے پوری عیسائیت کو بھونچال میں ڈال دیا۔ سب کی سب اس کتاب کو جھوٹا ثابت کرنے میں جٹ گئے، لیکن پھر بڑے پوپ نے سب بشپ، آرک، اور سینٹ پادریوں کو حکم نامہ بھیج دیا کہ خاموش ہوجائیں۔۔ اور اس پنگے کو اب مزید مت اچھالیں کیونکہ "جن لوگوں نے نہیں سنا ہوگا وہ بھی سن جائیں گے اور یوں اس کی شہرت ہمارے لیے بدنامی رسوائی اور ذلت کا ساماں پیدا کریگی۔” (کتنے عاقل اور دانا ہیں یہ لوگ۔۔ کاش ایسے ہمارے مسلمان علماء بشمول خمینی بھی ہوتے جن لوگوں نے مفت میں سلمان رشدی کو دنیا کا مقبول بندہ بنا ڈالا تھا)
خیر تو مندرجہ بالا کتاب کیا تھی۔ اور اس میں کیا تھا؟ ہم پوچھتے ہیں جناب جوزف برانڈی سے جو پرانے اور قدیم لکھائی کے پروفیسر صاحب ہیں اور اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں۔ تو وہ صاحب کہتا ہے: "درحقیقت یہ کتاب عیسائیت کی موت بھی ثابت ہوسکتی ہے۔۔ دیکھیں نا، کہ جس صاحب کو آپ اب تک ملعون و مطعون ٹھہراتے ہیں کہ جس نے عیسیٰ مسیح کی چغلی کھائی تھی اور اب تک پوری عیسائیت کی لعنت اس کی گردن پر جاتی ہے۔۔ اور ایک وقت ایسا آجائے کہ ایسا ثبوت ملتا ہے جس میں وہ معصوم ثابت ہوجائے۔۔ کہ اسے تو خود عیسیٰ مسیح نے ہی حکم دیا تھا کہ کل تمہیں میرے بارے میں چغلی کھانی ہے۔۔ اور اس کے عیوض تمہیں فی الحال لعن طعن ہوگا لیکن یاد رکھنا روز حشر تم میرے ساتھ بلند درجے پر ہوگے۔۔۔”
جی ہاں یہ کتاب "جوڈاس کا صحیفہ” ہے یعنی اس ایسوکرتی کی داستان جس نے بعد میں خودکشی کی تھی۔۔ اور ہاں اس چغلی ے عیوض جو اسے سونے کی اشرفیاں دی گئی تھی وہ تمام اس نے دینے والوں کے منہ پر پھینک کر کہا تھا۔۔۔ تم جانتے نہیں کہ میں کس کرب میں ہوں۔۔۔ کہ میں نے یہ کیا کر دیا ہے۔۔۔ اور یہ بھی کہ معنت ہو تمہارے چہروں پر”۔
بہرحال۔۔۔۔ اس سے عیسائی فرقے گناسٹک والوں کو بڑی ترغیب ملی اور ان لوگوں نے سینہ تان کر کہا۔۔ لو جی ہم نہ کہتے تھے یہ "بڑا ڈرامہ تھا۔”
اور مین نہ گناسٹک نہ ملامتی صوفی۔۔۔ لیکن ایک منتظر ضرور ہوں۔۔ مہدی کا نہیں، لیکن قبلہ عزازیل بعرف عام جناب ابلیس کا، جو جوڈاس کی طرح خدا کا بہت پیارا تھا، اور پتہ نہیں کیوں، اچانک انکار کر بیٹھا۔۔ کہ پوری دنیا کی بدی کا خدا ہوگیا۔۔ تمام لعنتیں اس کے سر۔۔۔ لیکن وہ کب اپنا منہ کھولے گا کہ سنو بھائیو اور بہنو۔۔۔ مجھے تو خود خدا نے کہا تھا کہ ایسا کروں۔!
(ویسے اتنی عقل تو مجھ میں بھی ہے کہ سمجھ سکوں کہ بالفرض عزازیل بھی سجدہ کر بیٹھا ہوتا تو یہ سب کاروبار ارض ممکن تھے؟)




