“امر! درد ہو رہا ہے نہ؟” میری چہیتی بہن ڈاکٹر فاطمہ کی آواز کنسول میں لگے چھوٹے سے اسپیکر سے آرہی تھی.
“امر… امر؟ …. فیاض؟؟؟؟؟” مجھے ایسے لگا جیسے دور کسی صحرا سے کوئی بُلا رہا ہو….. اور میرے ہونٹوں پر جیسے کسی نے پلاسٹک کی موٹی تہ کو چپساں کردیا ہو… اچانک مشین رک گئی. میں محسوس کر رہا تھا. مشین کی بے سری اور کان کو ڈرل مشین کی طرح چھید کرتی آواز بند ہوئی، تب میں نے اپنے منہ سے الٹی کو صاف کرنا چاہا، لیکن میرے ہاتھ پلاسٹک سے بند تھے. کیپسول کھولا گیا، اور میں نے دھندلے مناظر میں فاطمہ کو دیکھا، ایسے لگا جیسے وہ دور بہت دور کھڑی تھی. اس کی اب بھی صدائیں مجھے محسوس ہو رہی تھی… “امر! آر یو الرائیٹ؟”….
میں نے بولنا چاہا لیکن الفاظ نہیں نکل رہے تھے… بس آنکھوں کو ہلا کر اسے کہا… “ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں… بلکل ٹھیک ہوں میں… بس تم اپنا کام کرو… جلدی ختم کرو اسے….” لیکن انہوں نے مجھے مشینی بیڈ سے کھول کر اٹھایا… تو یہ کیا تھا؟ میں نے فاطمہ سے پوچھا “کیا ریڈیئیشن مکمل ہوگئی؟..” لیکن وہ چپ تھی، اور مجھے تکے جا رہی تھی.. میں نے ایسے محسوس کیا جیسے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بڑی اونچی آواز میں پوچھا..” کیا تم نے نہیں سنا؟ ریڈیئیشن پوری ہوگئی…؟”
جواب ندارد… اور میرا سر چکرانے لگا.. ایسے لگا جیسے سسیفس کے پہاڑ سے وہ بڑا پتھر پھر پاتال کی ڈھلان کی طرف لڑھکتا نیچے گرتا جا رہا تھا…. اور میں نے محسوس کیا جیسے میرے چار سو روشنی کے جھماکے سے ہونے لگے… صرف سفید روشنی، دودھ کی طرح پاکیزہ روشنی… اور اچانک جیسے میرے تحت الشعور میں چُھپا موت کا تصور جگمگانے لگا… تو میں مر گیا ہوں؟ خود سے پوچھنے لگا… دل نے چاہا کہ ایک چٹکی اپنی بازو پر لگا کر دیکھوں، لیکن میرے ہاتھ تو کجا آنکھوں کے پپوٹے تک جیسے اب میرے نہیں رہے…. ہاں میں مر گیا ہوں.. شعور کو یقین ہوگیا… اب میں ادھر اُدھر دیکھنا چاہتا تھا، کہ میرے پاس اور کون کون ہیں…. کہ اچانک احمد فراز کا شعر ابھر آیا: “یہ میرے پاس کیسی روشنی ہے… یہ مجھ کو مجھ سا دیکھا نہ جائے”…. تو یہاں بھی احمد فراز ہے؟ موت کے بعد؟
ہو سکتا ہے.. کیوں کہ احمد فراز اب اُس دنیا سے کُوچ کر کے یہاں آچکے تھے… پھر میں نے محسوس کیا کہ جیسے مجھے باندھا جا رہا ہے؟ تو میں جہنم کی طرف جا رہا ہوں؟ باندھنے والوں کے چہرے نمایاں نظر نہیں آرہے تھے… سوچا ملائکوں کے چہرے؟ میں تو اب تک انہیں طاقتیں، قوتیں، توانائیاں ہی سمجھ رہا تھا لیکن یہ کیا؟ پھر ذہن میں عجیب سا سوال ابھرنے لگا. میں نے کیا کیا گناہ کیے؟…. میں نے کیا گناہ کیے ہیں! خود سے ہی پوچھ رہا تھا… کوئی جواب نہیں مل رہا تھا…کیوں کہ جن عوامل کو میں گناہ کے زمرے میں ڈال رہا تھا اس عوامل کے پیچھے ان سے بھی بڑے دلائل موجود نظر آرہے تھے… اور وہ نام نہاد گناہ ان دلائل کے آگے ایک ذرہ برابر لگ رہے تھے…. اور میں انہی گتھیوں میں پھر الجھنے لگا.
میں نے محسوس کیا جیسے کسی نے میری کمر میں ایک بکسوئا چبھودیا ہو… اور میں پھر پہاڑ کی ڈھلان سے نیچے، اور نیچے پاتال میں گرتا چلا گیا… میری تمام سوجھ بوجھ ختم ہوچکی تھی.
پتہ نہیں کتنی صدیاں گذر گئی ہونگی… شاید! اربہا اربہا نوری برس… یا وقت بالکل ساکت ہو گیا ہو… ایسے ہی… کہ مجھے لگا جیسے سینیما کا پردہ اٹھایا جا رہا تھا…..نیچے سے اوپر…
پتہ نہیں کیا رنگ تھا… یہ کوئی کمرہ تھا… تو یہ کیا؟ پردہ پھر گرگیا…. اور پھر سکوت سا چھا گیا.
اب کی بار سینیما کا پردہ قدرے نمایاں لگ رہا تھا… مجھے رنگ محسوس ہو رہا تھا، اسکرین پر ہلکی کریم کلر کی پینٹ کی ہوئی تھی…. کہ اچانک ایک سائیڈ سے بہت سندر سی لڑکی ظاہر ہوئی….
میرے دماغ کے پس منظر میں یاروق ملک کا گایا ہوا امیر خسرو کا غزل اپنی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ راگ درباری کا رس میرے کانوں میں انڈیل رہا تھا…
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
ایک پل مجھے ایسے لگا جیسے میرے محبوب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا ہو، لیکن میرا جسم وہاں پر ہی پڑا رہا… میں نے اپنی آنکھیں زور سے جھپکپائی، اور خیال سے پھر دیکھنے لگا…
وہ کوئی سینیما نہیں تھی، کوئی پردہ نہیں تھا، بس میری آنکھیں کھل رہی تھی… میں ہسپتال کے کمرے میں تھا. وہ نرس تھی… فاطمہ کی وجہ سے آغا خان ہسپتال میرے لیے ایسے تھا جیسے میرا گھر، جیسے میرا چھوٹا سا فارم ہاؤس… اور فاطمہ میرے لیے اب کی بار لندن سے آئی تھی… اور اب وہ کمرے میں پہنچ چکی تھی… پتہ نہیں کون سا پرفیوم لگا تھا اس کو… وہ بہت اچھے پرفیوم لگاتی ہے… آتی ہی میرے پاس آ بیٹھی… “کیسا ہو؟”
“بُرا..” پتہ نہیں میرے منہ سے کیسے نکل گیا.. وہ ہنس پڑی… “یہ روز کا معمول ہے… میں ابھی کا پوچھ رہی ہوں… کیسا فیل کر رہے ہو؟”
“آم فائن…”
“گڈ….” وہ فائیل اٹھا کر دیکھنے لگی… “فیاض سنو… اب تمہیں کچھ نہیں ہوگا.. سمجھے تم؟ کوئی الٹی پلٹی حرکت نہیں کرنے کو… سمجھا کیا؟”
اسے کبھی کبھی مستی آجاتی تو وہ ٹپوری زبان میں بولنے لگتی… اور یہ سچ ہے کہ اس کے منہ سے ٹپوری لہجہ مجھے ایسے لگتا جیسے اپنے اکلوتے بچے کی توتلی زبان…
“تمہیں کل صبح تک یہاں رہنا ہوگا… تب تک ان فارمی مرغیوں جیسی نرس کو دیکھو، اور بس صرف دیکھو… اور محسوس کرو کہ زندگی کتنی حسین ہے… سمجھا؟” وہ تڑاتڑ بول رہی تھی…
میں الٹا اس پوچھنے لگا… “اپیا… ریڈیئیشن ہوگئی؟”
“جی.”
“کب؟”
“دو گھنٹے پہلے..”
“دو گھنٹے؟”
“ہاں… کیوں؟”
“میں سمجھ رہا تھا کہ مجھے یہاں آئے برس گذر گئے ہیں…”
“تم پاگل ہو… سچ میں”
“اور میں کب سے ہوں ہسپتال میں؟”
“کیوں؟”
“ایسے ہی…..”
“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟”
“مجھے کیا پتہ اپیا؟”
“تمہیں کوئی چار گھنٹے بھی نہیں ہوئے ہیں… میں لائی تھی تمہیں… فیاض سچ بتاؤ کیا محسوس کر رہے ہو؟”
اس کے چہرے میں پریشانی کے بادل نظر آنے لگے…. اور کسی اکبر کو فون کر کے بلایا….
“فیاض کی ایم آر آئی کروانی ہے….” وہ کہ رہی تھی
“ایم آر آئی؟؟؟؟ پر کیوں فاطی؟” میں چیخ اٹھا
“میری جان ضروری ہے….” وہ میرا ہاتھ سہلاتے بول رہی تھی
“پلیز اپیا، میں ٹھیک ہوں… مولیٰ جانتا ہے… مجھے کمزوری محسوس ہو رہی ہے.. اور کچھ نہیں.. یا شاید درد کا احساس… لیکن پلیز ڈونٹ ڈو دس… آپی… پلیز….”
اس نے میری ایک نہ سنی.. اور میرا ادھ موا جسم پھر ان کمینی مشینوں کے حوالے کردیا… پروفائل انجیکشن لگی تو.. بجلی کے جھماکے کی طرح وہ میرے ذہن میں کوند آئی…..
ّعذاب ایک لست میں تبدیل ہوگیا… درباری سُر چھڑ گئے…
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد……
وہ میرے سامنے آگئی…. اس کے جسم پر سفید کپڑے اسے اور پاکیزہ بنا رہے تھے….
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد……
اور میں نے اپنا سر اس کی سخی اور داتا دامن میں چھپادیا…… وہ اپنی انگلیوں سے میرے الجھے ہوئے بال سلجھا رہی تھی….
بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد……
پھر منظر بدل گیا… ہر طرف تاریکی کا سامراج راج کرنے لگا.. اتنی تاریکی کہ جس میں میرا وجود مجھے کہیں نظر نہیں آرہا تھا… میں بھی نہیں تھا… شاید میں پھر مر گیا تھا… لیکن اب یہ سوچ بھی مر گئی تھی.
کئی برس پہلے جب میں نے ڈکشنری لکھی تھی تب وہ ایکسٹیزی لفظ میرے ذہن میں اور ہتھوڑے مارنے لگا تھا….
سارہ سے لیکر پروین تک… مجھے ایکسٹیزی انسانی وجدان کا معراج ہی لگتی، جہاں مکمل خلا ہو… کچھ بھی نہ ہو، پھر بھی ایک بلیک ہول کی مانند وجود ضرور ہو… میں مانتا ہوں کہ کائنات کی تمام تر زبانیں ابھی اس معراج پر نہیں پہنچی ہیں جہاں وہ ایسی کیفیات سے مکمل انصاف کرتا لفظ ایجاد کر سکیں… اسی لیے تو کہتا ہوں، ہم خارجیت پر مشتمل حدبندیوں کا شکار ہیں… ہر جگہیں حدیں ہیں.. لیکن داخلیت لامحدود، ایک کے اندر ایک اور ایک…. وہاں گنتی نہیں ہوتی، وہاں ایک کے اوپر ایک کا حساب ہوتا ہے… وہاں ایک ایسی بھی حالت آجاتی ہے جب انسان مکمل طور پر اپنی ذات کی خلا میں داخل ہوجاتا ہے. اسٹیٹ آف ایمپٹینیس… شاید میں اس خلا کے بلیک ہول میں پھر آ چکا تھا… شاید.. جہاں وقت اپنی معنی کھو بیٹھتا ہے.. وہ کائنات میں انتقال ہونے کا ایک ٹریلر ہوتا ہے…. اور میں اس انسیپشن کی شاید ساتویں یا آٹھویں طبقے پر پہنچ گیا تھا.. جہاں شعور بے معنی ہوجاتا ہے… وہاں خود معنی کا کوئی وجود نہیں ہوتا… کچھ بھی نہیں ہوتا وہاں، بس کہ ایک خلا…
پھر میرے اندر راگ درباری کا دھیوت سر ہچکولے کھاتا شعور کے دروازے میں اندر محسوس ہورہا تھا.. میں واپس آرہا تھا…
لیکن ایسے محسوس ہوا جیسے واپسی کا سفر بھی چاند کے سفر سے بھی بڑا تھا… میں نے اپنی آنکھیں آھستہ آھستہ کھولنے کی کوشش کی. تیسری بار کامیابی ہوئی…
میری آنکھیں بھیگی ہوئی تھی… وہ میرے سامنے کھڑی تھی… رنگ برنگی ساڑھی میں… اس کے ہاتھوں میں پھول تھے…لیکن وہ خوبصورت سیاہ پھول جو اس کے پاکیزہ چہرے پر چمک رہا تھا، جسے میں چومنا چاہتا تھا۔۔ جیسے ہر وقت یہ تمنا میرے دل میں ہی تشنہ رہتی ہے اور پھر اس بار بھی حسبِ معمول وہ جیت گئی اس نے میری پیشانی چوم لی…
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد………..
میں ہوش میں نہیں آنا چاہتا تھا… اس کا خوبصورت تصور میری آنکھوں کے گیلاپن سے جیسے دھل رہا تھا.. وہ اور سج رہی تھی… وہ کتنی مجھ سے دور تھی…
میری آنکھیں بھرا اٹھیں….
“فیاض؟ تم رو رہے ہو؟” یہ فاطمہ کی آواز تھی….
مجھ سے ایک حرف نہ نکل سکا…
“سنو… میں تمہیں اٹھانے میں مدد کرتی ہوں، تم تھوڑا چل پھر لو پلیز… میرے بھائی ہو نا.. پلیز….”
میں چپ…..
“اب اٹھو نہ پلیز…. مجھے چل کر دکھاؤ نہ…. دیکھو، میں جا نہ پائونگی پھر… پلیز فیاض….” وہ منتیں کرنے لگی… میں نے اسے دیکھا اور بلایا…
اس نے میری بازو کو پکڑنا چاہا لیکن میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا…. وہ مسکرائی… “اف کتنی انا ہے تم میں فیاض….!”
اور میں اٹھ بیٹھا… کمر میں درد کی کی ایک سلاخ سی لگی ہوئی تھی… لیکن میں اٹھنے لگا، اور لڑکھڑاتے ڈولنے لگا… وہ میرے ساتھ کھڑی تھی… میرے ذہن کے کسی گوشے میں اس وقت جیسے گرڈجیف بن بلائے مہمان کی طرح آگیا تھا…میرے جسم پر ایک طرف اس نے اپنے بازو حائل کردیے تو دوسری طرف وہ رخِ محبوبی کی مانند مجھے سنبھال رہی تھی. میں نے محسوس کیا کہ فاطمہ بھی آرہی تھی تو میں نے اسے ہاتھ سے روک دیا… “فاطی، نہیں…. وہ آگئی ہے…”
اور وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی… دروازے تک پہنچ کر پھر میں واپس ہولیا.. بیڈ کے نذدیک پہنچا کر پھر وہ دونوں غائب ہوگئے… اور میری کمر میں گیارہ ہزار وولٹیج کی ایک لہر سی گذر گئی… چہرے پر میں نے محسوس کیا جیسے کھنچاؤ سا آگیا… پھر دماغ میں وہ سوچ کود پڑی…. تو کیا ہے؟ وجود کا معراج؟
درد؟
درد کی آگہی؟
درد کے نتیجے میں الہامی آگہی؟
اور پھر اس آگہی کے آگے؟
کیا بدھا بیوقوف تھا؟ تیاگ کیا…. لیکن پھر کیا ہوا؟ اس نے تیاگ کو بھی تیاگ کردیا…. پایا کیا؟
آگہی؟ لیکن کس بات کی آگہی؟ دکھم سروم، سروم دکھم… یہی آگہی ہے؟
دکھ …. انسان کی ازلی سیڑھی… یا منزل؟ نہیں منزل دکھ نہیں ہو سکتے…
تو… اور کیا منزل ہے؟
ابدی خوشی؟ دکھوں کی کوکھ سے جنم لینے والی مہ لقا دیومالائی بیٹی سما خوشی؟
یا خدا…. میرا دماغ پھٹ رہا ہے…
کوئی سرا نہیں مل رہا..
تو محبت؟ کونسی محبت؟ حاصل… لا حاصل عشق؟ اف…. آپا بانو نے اسے الجھا دیا ہے…
یہ سب پڑھے لکھے لوگ، ادبی بورژوا… ادبی وڈیرے، ادبی چودھری، ادبی پرماری…
جسم کی ضرورت کو کیوں وہ “ڈس اون” کرتے ہیں…؟ کیوں؟
دوسروں کے لیے خود کو نقصان دینا، بھی تو ڈاکہ زنی ہوتی ہے… تو یہ کیا؟ عشقِ لاحاصل کو بھی “ہپی رومانس” دے دیا گیا ہے….
پھر کیا…. اور میں اسکیزوفرنیا یا یوفوریا میں پتہ نہیں کیا سے کیا بکتا جا رہا تھا…. جسے ڈاکٹر فاطمہ جوہری جیسی جراح نیوروسرجن ویلیم کی انجیکشن سے سلجھانے میں لگ گئی… اور میں نیند کی گھاٹی میں اس سے ہاتھ ملا کر دھستا جا رہا تھا… میں اس کی گداز آغوش میں چلا گیا تھا… پس منظر میں وہ ہی درباری چل رہی تھی….
خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد
ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد
کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد
بیک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد
وہ دوسرا دن تھا…. میں فلیٹ میں پہنچ چکا ہوں. لیٹا ہوا ہوں… اور اپنے من ہی من میں اس سے جھگڑ رہا ہوں… “بتاؤ نہ، یہ کیوں ہے دوری؟”
“میری کھوئی ہوئی انا! آجاؤ…..دیکھ لو… کہیں تم سے پہلے، موت میرے دل کے دروازے پر اپنی فتح کا جھنڈا نہ گاڑدے، اور میں دور بہت دور انو دیوتا کے پاس اپنے ان دیکھے وجود کی پوجا میں گم ہوجاؤں…”
بہ لبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بہ چہ کار خواہی آمد.




