انسانی نفسیات اور فطرتی قوانین

میں جب بچہ تھا تو پوری دنیا میرے لیے ایک کھلونا تھی۔

نوجوان ہوا تو ایک لامرئی سا تسکین کدہ بن گئی یہ پوری دنیا۔

جوان ہوا تو سب جگہ حسن ہی حسن۔۔۔ عشق ہی عشق۔۔۔ کیا ہے دنیا میں باقی ؟

بڑا ہوا، اب پورا مرد بن گیا تو زندگی مجھے بیگار کیمپ کی مانند لگنے لگی!

میں جب خوش ہوتا ہوں تو کہتا ہوں یہ زندگی اور دنیا کتنی اچھی ہے، حَسین ہے۔

میں جب دکھی ہوتا ہوں تو گوتم کی فوٹو اسٹیٹ کاپی بن جاتا ہوں کہ دکھم سروم، سروم دکھم۔

میں جب کمینہ بن جاتا ہوں تو چیخ کر کہ اٹھتا ہوں کہ یہ دنیا کنجر خانہ ہی تو ہے۔

میں جب زلیل ہوجاتا ہوں تو مٹھی بھکوڑ کر کہتا ہوں اف یہ زندگی کتنی گھٹیا ہے۔

میں جب خودپرست بن جاتا ہوں تو کہتا ہوں "کہاں ہے انسانیت؟”

بوڑھا ہوا ہوں تو مجھے ہر جگہ خوف سا محسوس ہونے لگا، اب چارپائی بھی قبر لگنے لگی ہے۔۔ اور زندگی کا مقصد صرف بنانے والے کی عبادت ہی سمجھنے لگا۔

مر رہا ہوں تو کہ رہا ہوں۔۔۔ لوگو کچھ بھی نہیں ہے یہاں۔۔۔ چلنے کی فکر کرو۔۔۔۔۔

لیکن میرے ادوار سے دُور، بہت دُور۔۔۔

میرے مزاجوں سے مُبرا، بہت بے پرواہ، زندگی وہ ہی روشن و درخشان سورج کی طرح ہر صبح نوید لاتی ہے، ہر صبح گذری ہوئی شام کی ملگجی آلودہ فضا کو معطر کرکے بادِ نسیم بناتی رہی ہے۔۔۔

اور ہم سب کو کہ رہی ہے۔۔۔۔۔ بچہ!

سب تمہارے اپنے ڈھونگ ہیں، خود ساختہ۔۔۔

ابھی تو تم کنارے پر سیپیاں ہی چُن رہے ہو!

ابھی عمیق ساگر کی گہرائی۔۔۔ !!!!

تم کیا سمجھو تم کیا جانو!