انسان، غلامی میں آقاگیری کا شوقین

انسان، اس وقت تک کھوجی ہوئی کائنات میں سب سے بڑا معمہ ہے۔ یہ وہ پہیلی ہے جو ابھی بوجھی نہیں گئی۔ اور میرا خیال ہے کہ شاید بوجھی بھی نہ جائے!
بلا کا اندرونی طاقت رکھنے والا کتنا کمزور الجسم ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں!
فطرت سے لیکر مافوق الفطرت کی قدرت کا کرشمہ یہ انسان اب تک باہر کی دنیا کو سمجھنے، پرکھنے اور اسے دریافت کرنے میں جٹا ہوا ہے، نہیں سمجھا، پرکھا یا دریافت کیا تو صرف اپنا من، اپنا اندر!
قبضہ گیری پر آئے تو کچھ نہیں چھوڑے گا، اوروں کا ستیا ناس ہو تو ہوجائے کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ حاصل کرنے کے لیے آخری وقت تک ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا، تو دوسری طرف خود کو دوسروں کے ناموں سے پہچان کرا کر اپنی ہی نفی بھی زبردست کرتا ہے۔
آپ نے گائوں میں اکثر ایسی ٹریکٹر ٹرالیاں دیکھی ہونگی جن پر بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوا ملیگا کہ "ٹرالی میکر فلاں استاد اور کسی کونے میں چھوٹے حروف میں ٹرالی کے مالک کا نام لکھا ہوگا۔ اب یہ بڑے مزے کی بات ہے، ٹرالی خریدی گئی ہے، ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ کاریگر کا نام کسی کونے میں چھوٹے حروف میں لکھا ہوتا، لیکن نہیں۔۔۔۔ وہ بڑے حروف میں ہوگا۔ کیوں؟ کیونکہ خریدار جو اب مالک بنا ہوگا وہ سینہ ٹھوک کر فخر کریگا کہ یہ میں نے کس استاد سے بنوائی ہے!
(اپنا نام چھوٹا لکھوا کر مستری کا نام بڑا لکھوا کر درحقیقت خود کی نفی کرتا ہوا مالک کس طرح دوسرے ہاتھ خود کی بڑائی گنوانا چاہتا ہے!)
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ:
"پانچ دنوں کا بھوکا اور پیاسا ایک کتا کسی ریگستان سے رینگتا ہوا کچھ نہ کچھ کھانے اور پینے کے لیے تگ و دو کر رہا تھا کہ اس نے برسوں پہلے کسی مردہ جانور کی ہڈی دیکھی، اس نے جھٹکے سے اسے منہ میں ڈالا اور اپنے بقیہ زور سے توڑنے لگا! خشک اور دھوپ کی جلی ہوئی ہڈی کرچیاں کرچیاں ہونے لگی، ہڈی کی کرچیاں کتے کے مہاسوں کو چیر رہی تھیں، تب کتے نے محسوس کیا کہ اس کے منہ میں پانی آگیا تھا۔ کتا اسی یقین میں طاقت محسوس کرنے لگا کہ یہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ذرات، یہ خون درحقیقت اس نے ہڈی سے نکال ہی لیے۔”
جس طرح وہ کتا، اپنا ہی گوشت، اپنا ہی لہو اس ہڈی کے نام منسوب کر رہا تھا ٹھیک اسی طرح ہم بھی اپنی ہی قوتیں، اپنی ہی محنت ہمیشہ اوروں کے نام منسوب کرتے ہیں۔
اور یہی خودشناسی کا قحط انسان کو اب تک جانور ہی بنائے ہوئے رکھتا ہے۔ وہ کبھی بھی مالک نہیں بن سکے گا، وہ ازل سے غلامی کا طوق جو گردن میں سجاکر جو گھوم رہا ہے وہ جب تک خودشناسی سے آشکار نہیں ہوگا، وہ اسی طرح پرائے اشارے پر چلتا ہوا ملیگا! اور پھر اپنی غلامی کو بھی نرگسیت کی بھینٹ چڑھائے گا! کیونکہ زبانیں تو اس کی دائمی لونڈیاں ہی ہیں نا، جیسے وہ چاہے انہیں استعمال کرے۔۔۔ اور میرا خیال ہے بس اب تک انسان کی جو مالکی ہے وہ انہی زبانوں پر ہی ہے۔۔۔
(اقوالِ زرین سے پیوستہ انسان لیکن افعال قرین سے بلکل ناشناسا)