اکیس فروری دو ہزار نو کو یونیسکو نے دنیا کی زبانوں پر ایک نقشہ دیا جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ اس وقت دنیا میں کل چھ ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے ایک سو ننانوے ایسی ہیں جن کے بولنے والے دس یا دس سے بھی کم رہ گئے ہیں جب کہ ایک سو ستتر زبانیں تو ایسی ہیں جن کے بولنے والے دس سے پچاس کے درمیان ہیں۔ ان معدوم ہوتی زبانوں میں دریا سندہ کے مشرقی کنارے کوہستان میں کلائی اور مہرین گاؤں میں بولی جانے والی گاؤورو زبان کو بھی شدید خطرے میں قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید یہ بھی مزید بتایا گیا ہے کہ انیس سو نوے کی مردم شماری کے مطابق گاؤورو زبان بولنے والوں کی تعداد صرف دو سو تھی۔
یونیسکو تو خیر ایسی ہی رپوٹ دیگی کیونکہ ان کے چارٹر میں زبانیں تہذیب اور تمدن کی علامات ہوتی ہیں، لیکن یہاں میں جس معدوم ہونے والے گروہ کی بات کرنے جا رہا ہوں افسوس کہ ان کے لیے کوئی نہیں سوچتا!
میرا ننہیال "سُنی” مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے. بہت چھوٹا بچہ تھا، جب میرا نانا جمع کے دن ہمارے گاؤں کی جامع مسجد میں نماز پڑھنے آتا تھا. اٹھنی کے چنے شکر میں ملا کر اپنی پہلو والی جیب میں رکھے ہوئے وہ چھوٹے بچوں میں بانٹتا ہوتا آتا، اور وہ جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوتا تو ایسے لگتا جیسے پورے بچوں کا اسکول ساتھ میں لے کر آیا ہو. کہتے ہیں کہ جب میرے ابو کی شادی ہورہی تھی تب کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ دولہا شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے. اور یوں، میری امی اپنے سُسرال میں آکر ان کے رنگ میں ڈھنگ گئی، کسی کو کوئی اعتراض نہ ہؤا! اور کیوں ہو، جب سب سُنی شیعہ پنجتن پاک کو سرورٍ کائنات صلعم کے بعد مانتے، اور مجالس اور وعظ ہو یا دس محرم ہو، یا بارہ ربیع الاول سب گاؤں کے لوگ مکمل عقیدت سے یہ دن مناتے. کوئی فرق نہ تھا. نیاز ہو یا خیرات، ماتم ہو یا جشن ولادتٍ نبی صلعم، پورا گاؤں شریک ہوتا، اور یہ بات صرف ہمارے گاؤں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ سنتے چلے آئے ہیں کہ سب جگہ اسی طرح سے ہی ہوتا تھا، کوئی مسلک بازی نہ تھی، کہ پتہ نہیں کہاں سے "آدم بُو، آدم بُو” کی چیخ مارتا ایک بُھوت ہمارے ملک میں آتا ہے کہ ہمیں جیسے پہلی بار یہ پتہ چلتا ہے کہ شیعہ کوئی اور مخلوق ہے.
یہ پاکستان ٹُوٹنے کا "سائیڈ افیکٹ” ہم پر پڑا. پاکستان میں "کلون شدہ” قومپرستی اپنا دم توڑ رہی تھی تو اس کی جگہ ملک کے کرتا دھرتائوں نے یہاں اسلام پرستی کا پیوند لگانا شروع کردیا! تب کہیں "نو ستاری” ملائوں کو یاد آگیا کہ یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا تھا، جس میں صرف پاکائی ہی دکھائی دینی چاہیے. انہوں نے بھٹو جیسے آزاد خیالوں کو بلیک میل کرکے ملک میں مذہب کی مارفین انجیکشن پولیو کے قطروں کی طرح انڈیلنا شروع کردی.
رہی سہی کسر ضیائی "نظامِ مصطفیٰ” نے پوری کردی.
یہاں عقل و دانش اور سائنس کو ہٹا کر بوسیدہ اور جھوٹی تاریخ لکھوا کر نصاب کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا.
شراب بند کروادی گئی. جس کا اثر یوں ہوا کہ ہیروئین جگہ جگہ پھیل گئی، اور نوجوان نسل غرق ہونے لگی.
پہلے بڑے شہروں میں "لال گلی” ہوتی تھی اسے بند کروا دیا گیا اور یوں گلی گلی میں جسم فروشی ہونے لگی.
احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، جس کی وجہ سے یہاں یہاں اچھے ذہن ملک بدر ہوگئے، جن میں ہمارے ملک کو نیا داغ بیل ڈالنے والا ڈاکٹر عبدسلام چلا گیا!
محبتوں کے امین بریلوی سُنیوں کی جگہ وہابی میدان میں اتارے گئے جنہوں نے یہاں مساجد کا بھی بٹوارا کردیا، پہلے جو مساجد اللہ کے نام پر ہوتی تھی اب وہ افراد کی اجارہ داری میں چلی گئیں.
ہم سب نے اپنے "سُنی” بھائیوں کی طرف دیکھا! تو پتہ چلا کہ جیسے وہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جارہے تھے. مجھے یاد ہے جب میں نے ریلوے کے ایک ڈبے پر "شیعہ کافر” کی چاکنگ دیکھی، اور نیچے سپاہ صحابہ پاکستان کا نام دیکھا تھا!
لگے ہاتھ ایک عجیب تشبیہ آپ سب کے سامنے رکھتا چلوں: وہ یہ بھارت اور پاکستان میں "ایس ایس پی” نامی دو مختلف شدت پسند تنظیمیں وجود میں آئی تھی.
پاکستاں میں "سپاہِ صحابہ پاکستان”
اور بھارت میں "شو سنہا پارٹی”. مزے کی بات دونوں تنظیموں کے لیڈران کا ایک جیسا بیان ہوتا تھا.
مثال پاکستانی ایس ایس پی کے لیڈر علی شیر حیدری کا یہ بیاں کہ "اگر میرا بس چلے تو تمام لغات سے لفظ شیعہ مٹادوں”
اور بھارتی ایس ایس پی کے لیڈر بال ٹھاکرے کا یہ بیاں کہ "اگر میرا بس چلے تو تمام لغات سے لفظ مسلمان مٹادوں”
اور اس طرح پاکستان میں ایک عجیب سی وبائی لہر دوڑتی چلی گئی جس میں "وہ سنی” معدوم ہونے لگے. ان کی جگہ "دیوبندی” متاثر نو مولود طلباء نے لینا شروع کردی، کہ جن کے آنے سے مدرسوں سے پرانے خطبوں کی کتابیں جن میں مخدوم محمد ھاشم ٹھٹوی، مولانا احمد ملاح، اور عبدالرحیم گرہوڑی کے منظوم خطبے تھے، اور جن میں سرکارٍ دو عالم صلعم اور چودہ معصومین سے لیکر صحابہ کرام کا ذکر بڑی عقیدت سے کیا جاتا تھا، وہ تمام تر کتب پتہ نہیں کہاں غائب کردیے گئے اور ان کی جگہ پتہ نہیں کہاں کہاں سے عجیب و غریب خطبے سنائے جانے لگے.
"اب تو یہ عالم ہے کہ ہمیں نماز پر بھی شبہ ہونے لگتا ہے کہ یہ نمار ہے یا ایک عجیب سی نئی نئی روایات!” ایک پرانی عمر کے ہمارے بزرگ محمد صادق نے یہ بتایا.
"ہم پہلے محبت کی بات کرتے تھے، اس طرح نفرت کی نہیں! اسلام کا مقصد ہی سلامتی اور امن ہے، لیکن اب تو یہ عالم بنایا گیا ہے کہ فلان ایسا تو فلاں ویسا! اللہ اللہ کیا زمانہ آگیا ہے…. اب تو ہمارے پیچھے وہ نماز بھی نہیں پڑھتے، کہتے ہیں کہ امام سُنی ہے…… حتیٰ کہ جنازہ نماز بھی تبدیل کردی گئی ہے!” اس کی آنکھوں میں آنسو ایسے بہ رہے تھے جیسے اس کی کوئی متاع چھینی جا چکی ہو!
اور یہ بات مجھے بڑی چھبتی تھی اور اب تو مزید دیمک کی طرح کھائے جا رہی ہے کہ وہ محبتی سنی کہاں گئے؟
کہ جن کے پاس محبت ہی محبت تھی!
ازواجٍ مطہرات کو وہ "اماں” کہتے، اور امام حسنین علیہ السلام کو وہ شہزادہٍ جنۃ سے پکارتے! اور اب انکی جگہ ممبران پر جن مسند برداروں نے لی ہے وہ سرٍ عام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم کو "یا رسول اللہ” کہنا بھی شرک ہے! اس سے مانگنا تو دور کی بات! وہ ہماری طرح ہی خاکی تھے نور بس اللہ کی ذات! مانگنا ہے تو اس سے مانگو!
وہ بھری مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر لعنت ملامت کرتے ہیں، حتیٰ کہ اپنے سُنیوں کو بھی، کہ وہ "یا رسول اللہ” کیوں کہتے ہیں.
پتہ نہیں کہاں سے پئسے آرہے ہیں ان کے پاس کے مسجدوں پہ مسجدیں بنتی جارہی ہیں، اور اپنے طلباء کو ماہانہ وظیفہ نہیں بلکہ ایک خطیر رقم بھی دیتے ہیں.
اور یوں پئسے سے اس طرح ایک عزم کشی کی جا رہی ہے.
وہ سنی معدوم ہوتے جارہے ہیں، اور انکی اولاد پر "ملمع کاری” کرتے دیوبندی، لشکری، جھنگوی، طیبی، جہادی، سپاہی، وغیرہ وغیرہ اپنی آبادی بڑھاتے چلے جا رہے ہیں! اب کوئی اکہ دکہ اصل سنی مل بھی جائے تو وہ اتنا ڈرا ہوا ہے کہ جیسے کوئی اسے مار دیگا.
دوستو "دو قومی نظریہ” پر بنے اس ملک پر آج کل کونسے اسلام کی حکومت چل رہی ہے، یہ ہر حکومت میں سوال اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے!
شیعہ شیعہ وہ ہی رہے، سنی اقلیت میں جارہے ہیں!
ایسی کوئی "یونیسکو” ہے جو ان محبت کے سفیروں کی بقیہ گنتی کرے!
نہیں تو یہاں پھر کوئی نوح نہ آئے گا! یہ پیٹ بڑے ملا، کھاجائیں گے اپنے ہی نسل کو…!



