قبرستان، زندہ لوگوں کے لیے ایک علامت

"چار دناں دی زندگی۔۔۔۔”
"فانی دنیا۔۔۔”
"ہم سب مسافر۔۔۔”
"دنیا کیا ہے؟ گند کا ڈھیر۔۔۔”
"زندگی کیا ہے؟ دو دن کا کھیل۔۔۔”
"آخرت کی تیاری کرو۔۔”
"یہ مایا جال ہے۔۔۔”
اور اس طرح کے رٹے ہوئے جملے یہاں ہر کوئی مبلغ، ہر کوئی ملا پنڈت پادری ربائی آپ کو کہ کر ایک ان دیکھی دنیا کی جنت، سورگ یا پیراڈائیز کی طرف لُبھاتا ہے۔
مزید اس سے پوچھیں کہ: "پھر ہم آئے کیوں؟”
تو جواب دیں گے:
"ایسے سمجھیں کہ ہم ایک سفر پر ہیں اور یہ دنیا؟ ریولے اسٹیشن کا مسافر خانہ۔ جہاں دو دن قیام کر کے ہمیں یہاں سے نکلنا ہے سو خبردار یہاں کوئی انسیت نہیں دکھانی! اصل جہاں آنے والا ہے۔۔۔”
اور ہم سب؟
انتہا درجے کا سادے اور سادیت پسند لوگ! ان کی ڈھکوسلی باتوں میں آکر اس زندگی کو "ریلوے اسٹیشن کا مسافر خانہ” سمجھ کر، کس طرح غلیظ کر رہے ہیں، کبھی سوچا؟
یہاں تھوکیں گے،
یہاں غلاظت پھہلائیں گے
اسے بے ترتیب کریں گے
یہ سوچے بغیر کہ آنے والی نسل یا آنے والا مسافر خود ہماری ہی پیڑھی ہوگی۔ انہیں ہم ترکے میں گند ہی دے کر جارہے ہیں۔۔ بالکل ایسے جیسے ہمیں ملا!
لیکن اس ساری بھیڑ میں زندگی کو جس جس نے سمجھا اسے اپنا گھر ہی سمجھا۔۔ اور اپنے گھر ہی طرح سنبھالنے لگے۔ اور نتیجہ؟ انہوں نے ایک تخیلی سورگ، جنت یا پیراڈائیز یہاں ہی بنا ڈالی!
ایک مزے کی بات مزید بتاتا چلوں!
فطرت کی لاٹھی بڑی تیز اور بے آواز ہوتی ہے۔ اب مندرجہ بالا رویوں کا انتقام کیسے لیتی ہے، اس کا عملی مظاہرہ دیکھتے جائیے گا!
جن لوگوں نے زندگی کو مسافر خانہ سمجھ کر یہاں گندگی ہی پھہلائی ہے ذرا ان ہی لوگوں کے قبرستان میں جا کر دیکھئیے۔ قسم سے گھن آئے گی!
اور جن لوگوں نے اس دنیا کو ہی جنت بنانے کا تہیہ کرکے بنانے میں تُل گئے ان لوگوں کے قبرستان میں جا کر دیکھئیے۔
آپ کا دل کہے گا کہ کتنا سکون، کتنا حسین، کتنا دلکش نظارہ ہے۔۔۔! آپ سارے دن کی تھکان وہاں اتار سکتے ہیں۔۔ کیوں کہ مرنے والوں نے مرنے کے بعد بھی یہاں زندگیوں کو سکون دینے کا عزم جو کر رکھا تھا!