کیا مردے بولتے ہیں؟…. نہیں ہم بولتے ہیں، مردہ لوگوں کی کہانیاں ہم بول کر انہیں زندہ رکھتے ہیں! کم از کم انہیں اپنے خیالات میں زندہ رکھتے ہیں!
تاریخ مردہ لوگوں سے بھری پڑی ہے. اور اسے ہی تو تاریخ کہتے ہیں. ایک قبرستان، جہاں زلزلے آکر قبروں کے کتبے اکھاڑ دیتے ہیں اور ہم پھر انہیں اپنی مرضی سے اپنی پسند سے کتبے پھر لگاتے رہتے ہیں، جہاں اکثر غلط کتبے غلط قبروں پر لگ جاتے ہیں!
اور زندوں کو کیا ملتا ہے؟ …. انہیں موت دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے ہم بھی اس گدھ جاتی کی نسلیں ہیں جو مختلف کام ایک دوسرے کے ذمے لگا کر اپنے اپنے فرائضٍ منصبی ادا کرتے ہیں.
کچھ اس کام پر معمور ہیں کہ ایک چلتے پھرتے انسان کو زخمی کردیں، تو کچھ اسے مختلف گھاؤ دیکر اور لہولہاں کرنے میں جٹ جاتے ہیں اور جب وہ گر پڑتا ہے تب اس کے اوپر منڈلاتے پھرتے ہیں. کہ مرے!… کہ مرجائے اب… اور پھر جیسے ہی وہ مرجاتا ہے تب اس کی نوحہ خوانی میں لگ جاتے ہیں! مزاریں بناتے ہیں، بڑی بڑی اونچی ….. کتبوں پر یہ لکھوا کر اس کے فقیر بن جاتے ہیں کہ یہاں ایک ولی صفت دفن ہے.
مردہ پرستی!… تاریخٍ انسانی کا مرغوب تریں پیشہ!
زندہ تھا تو کوئی یہ نہیں دیکھتا تھا کہ اس کے اندر بھی ایک دل ہے. ایک روح ہے. قطعی نہیں….
ایسا کیوں کریں؟ جب ہمارے آباء اجداد نے ایسا نہیں کیا تو ایسا کیونکر ہم پر واجب؟
ہم تو برسوں سے مردہ پرستی کے “جین” اپنے جسموں میں سمائے چلے آتے ہیں.
اور اس پر عجبٍ ماتم کہ ہم تو سچ بھی مردوں سے سننا چاہتے ہیں! ہم نے زندہ سچ سنا کب تھا؟ نہ ہی ہمارے اجداد نے سنا اور نہ ہم سنیں گے. سچ… جسے عارف لوگ خدا کا نام دے گئے، کہ اگر کوئی نہ مٹنے والی ذات ہے، اگر کوئی ازل سے ابد تک تابندہ ذات ہے تو وہ ہے خدا! اور یہی سچ ہے. باقی سب تغیر…. اور اس تغیر کو سچ کا نام دیکر ہم اسے بھی صرف مردہ لوگوں سے سننا چاہتے ہیں.
ایسا کیوں ہے؟
وہ جب دعویٰ کرتا تھا کہ مجھ سے پوچھو! میں سب جانتا ہوں، اس کرہ زمیں کی تو بات کیا، مجھ سے تو تم آسماں کی وسعتیں پوچھ…. آؤ لوگو پوچھو! وہ سچ کی خیرات بانٹ رہا تھا…. اور تاریخ گواھ ہے کہ اس سے پوچھا کیا گیا؟… یہی کہ ہمیں بتادو کہ پائخانہ کا ذائقہ کیا ہے!!!!!!!!!!؟
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اسی باب العلم نے فرمایا تھا کہ “تعجب ہے جب نا معقول شاگردوں کو معلم ملتے ہیں! اور حقیقی طالبٍ علموں کو نا معقول اساتذہ!!!!
فطرت میں اتنا عدم توازن کیوں ہے؟
مجھے اکثر لگتا ہے کہ وہ ہومر والا یونانی قیدی “پرومیتھیوس” میں ہوں، کہ جسے اونچے پہاڑ کے ٹیلے پر باندھا گیا اور چیلیں اس کے بدن کو نوچتی رہتی، اور اس کے جسم کے اطراف پریاں اس کے نوحے گاتی ہیں!
اسے سچ کی سزا ملی تھی…..
نیند کی حالت میں تم نے کبھی آسماں کی سیر کی ہے؟ کہ جس سیاحت میں تمہیں دنیا کی تمام بدی اور اچھائی ایک ہی وقت دکھائی دے؟
اب سوچتا ہوں کہ فطرت نے پرندوں کو اخلاقٍ انسانی نہیں دیا تو کیوں نہیں دیا!
جب ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ چار مردار خور زبردستی کرتے ہیں! تب بھی وہ کوئل گاتی ہے. اس “کو” کی آواز میں کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی.
جب کربلا لمحہ لمحہ یہاں بپا ہوتی ہے، تب بھی فاختائیں اڑتی ہیں…. چڑیا اپنی چوں چوں نہیں چھوڑتی…
جب ایک ماں کا بیٹا کسی آوارہ گولی شکار ہوتا ہے، تب بھی کبوتر ویسے ہی غٹر غوں کی آوازیں کرتے ہیں، انہیں کچھ نہیں پتہ کہ خواب بھی کچھ ہوتے ہیں!
اور وہ بھی کیوں جانیں؟ جب ہم ابنٍ آدم بھی نہیں جان سکے کہ ہابیل کا درد کیا ہوتا ہے!
قابیل مرا کہاں تھا؟ اس کا بدن ختم ہوگیا ، لیکن روح امر ہے….. وہ تو صدیوں سے اپنا روپ بدلتا آیا ہے. کبھی وہ کنعان کے کنویں میں بھائی پھینکتا ہے، تو کبھی نمرود کے بدن میں سانسیں لیتا ہے. فرعوں سے جنم جنم کا رشتہ جوڑتا ہؤا اپنی بربریت میں ارتقا لاتا ہؤا کبھی ابنٍ ملجم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے. یزید تو اس کا سلسہ ہے…..
تو کس نے کہا کہ کربلا ہو بھی چکی؟
تو کس نے کہا کہ حسین علیہ السلام زندہ جاویدہ ہے تو یزید مرگیا؟
بھول ہے تمہاری…. یزید آج بھی ہے. اور وہ منافق بھی کہ جن کے لیے سرور کونین کو بھی خبردار کیا گیا تھا کہ ان کی باتوں میں نہ آنا……
سب ہیں!
قابیل آج بھی ہے. بھول ہے ہماری…. جب ہم سچ کو مردوں میں تلاش کرتے ہیں! تب ہمیں یہ کیوں غلط فہمی ہوتی ہے کہ سچ کو مردوں میں تلاش کرنا ایک مردگی ہی ہوتی ہے. مردے مر گئے، اپنی باقیات چھوڑ گئے اور ہم…. ہم اس باقیات کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے تھکتے بھی نہیں!
ابنٍ آدم کب سمجھے گا، کہ جو مر گئے وہ ہمارے لیے عبرت ہی چھوڑ گئے!
کم از کم ہم سے وہ کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چننے والا ہزار گنا اچھا! گند سے بھی کام والی چیز چن چن کے اٹھاتا ہے…. اور ہم؟
اچھی اچھی چیزوں میں بھی جوئیں نکالنے کے لیے عالمٍ استغراق میں چلے جاتے ہیں!
اس ہنس سے بھی سیکھا جا سکتا ہے کہ:
تال سوکھ کر پتھر بھیو ہنس کہیں نہ جائے
پچھلی پریت کے کارن وہ کنکر چن چن کھائے…..
پہلے ہی عذاب کم ہیں کہ چلے ہیں خود کو لہو لہاں کرنے! اور اوروں کو بھی ذخمی کرنے!
(ہم اپنی ذات کے اندر کتنے Sadomasochist ہو گئے ہیں!)
ہاں تو….. اب؟
اب چلے ہیں میرے مرنے کے انتظار میں کاغذ اور قلم سنبھالے!
کہ میں مرجاؤں تو مجھ پر بڑی بڑی محفلیں سجیں…. کہ امر ایسا تھا کہ امر ویسا….
میں مر جاؤں تو میری قبر پر کتبے لکھے جائیں گے کہ یہاں ایک فقیر سو رہا ہے، آرام سے گذریں…. زندہ تھا تو اس کی زندگی میں نیند نہ تھی، اب سونے دیں اسے…
میرے اقتباس چھپیں گے، بلکل ایسے جیسے آج کل ہم حسین بن منصور کو گاتے ہیں.
بلکل ایسے جیسے ایک وقت کا سیانا تھا.
ایسا کیوں ہے؟
ہم اپنے اندر شتر مرغ کی دونوں نفسیات کیوں چھپائے بیٹھیں ہیں؟
کہ اپنا منہ ریت میں ڈال کر ساری دنیا کو بیوقوف کردینے کی غلط فہمی میں گم بھی ہوجاتے ہیں تو اپنی ذات کے بھی دو نام رکھا دیتے ہیں. شتر بھی تو مرغ بھی!
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نہ شتر ہیں کہ بوجھ اٹھاسکیں اور نہ ہی مرغ ہیں کہ تھوڑا بھی اڑ سکیں…
اب اگر مجھ پر ملحد کی فتویٰ بھی لگاؤ تو کوئی حیرت نہیں ہوگی مجھے. جانتا ہوں کہ ابنٍ آدم ایسا ہی کرتا آیا ہے.
اب اگر مجھے قتل بھی کروائوگے تو کوئی شرمساری نہیں ہوگی مجھے. جانتا ہوں کہ پھانسی دیتے وقت جلاد کا ہاتھ کپکپاتے جب تم دیکھو گے تو شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کرلوگے. اور وہ ہی میری فتح ہے.
کیا فرق پڑتا ہے کہ اب عتراف کرلوں کہ میں آنکھ سے وہ کچھ دیکھ رہا ہوں کہ جس کو دیکھنے کے لیے تمہیں مرنا پڑے گا. کم از کم اس زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ تم وہ کچھ دیکھو، جو میں دیکھ رہا ہوں!
سقراط نے زہر کا پیالہ پی کر بھی کہا تھا کہ پوری زندگی گذر گئی میں نے کوئی انسان نہ دیکھا تو کیا ہؤا!
حسین بن منصور نے اپنے کٹے بازو اٹھا کر اپنے منہ پر اپنا خوں لگایا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میرا منہ پیلا پڑ گیا ہے…. لیکن جو اذیت اسے شبلی نے دی وہ تو تختہ دار کی تڑخ سے بھی تیز تھی. میں دیکھ رہا ہوں کہ شبلی آج بھی وہ ہی پھول اٹھائے گھوم رہا ہے. کہ مل جائے منصور تو پھینکوں اس پر….
ہاں، آج اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے موت دیکھی تھی.
اس دن جب مجھے چھٹا دن گذر گیا تھا ابو بن ادہم کی درگاہ والی پہاڑی کی سرنگ میں. وہاں ان دو قبروں کے بیچ جب میں سو گیا تھا. مجھ سے تین سانپ ملے تھے. میرے بدن کے اوپر رینگ کر گذر گئے تھے. ہاں میں نے دیکھا تھا کہ انسان کا شعور کتنا بزدل اور منافق ہے. جب خاموشی میرے کانوں سے سائیں سائیں کی آوازیں بھی چھین گئی تھی. اور میں گذر گیا تھا. وقت کی حدوں سے دور…
اپنے آپ کو خلا میں تیرتے محسوس کر رہا تھا! مجھے ایک جگہ بابا بلہے شاہ اور گرو نانک گلے لگا کر روتے ہوئے ملے. 47 سے وہ مسلسل رو رہے ہیں. یہ ان کے خواب نہ تھے! کیا خوابوں کی بھی چوری ہوتی ہی؟ اور وہ چوری شدہ خوابوں کو چور ترمیمیں بھی کرتے ہیں؟ میں تیرتا تیرتا اپنے ہی مہا لیڈروں کو گوئبلر اور نمرود کے ساتھ دیکھے. یہ کیا؟ میں تو ان کے قصیدے گاتا ہوں؟…. اپنے پورے وجود سے جیسے بے حسی سی محسوس ہونے لگی، تب جانا کہ میں مر چکا ہوں! کجھے کوئی غصہ نہیں آسکتا، مجھے کچھ خوشی مل نہیں سکتی…. میں مر گیا تھا!
ہاں شاید مر گیا تھا. میں کوئی اصحابٍ کہف نہ تھا، مگر پتہ نہیں کیوں غاروں سے انسان کتے کیوں لے آتے ہیں. پھر بس اتنا محسوس ہؤا تھا کہ امی اور ماموں مجھے اپنے ہاتھوں سے اٹھائے اس غار سے باہر لا رہے تھے. اور ایک کتا! بیسویں صدی میں بھی کتے ساتھ نہیں چھوڑتے! وہ شاید میرا نفس تھا! میرا ہم نفس، میرا کتا! جو بعد میں پھر میرے اندر داخل ہوگیا! کیا انسان اپنے اندر کا کتا مار سکتا ہے؟ ہاں مجھے ادراک ہؤا تھا اس بات کا! کہ صرف انبیاء اور اولیاء پاک ہیں باقی ہم سب اپنے اندر ایک کتا پالے ہوئے ہیں! (کتا! انسان کا پرانا رفیق) اور وہ کتا ہمیں اپنی تمام تر قوت کے ساتھ دھکیلتا رہتا ہے… اور ہم اس غلط فہمی میں کہ ہم کتے کو گھسیٹ رہے ہیں. نام ہزار رکھیں اس کے. لیکن رہتا اپنے جوہر میں وہ کتا ہی ہے. ہم جہاں جاتے ہیں اسے لیے گھومتے ہیں. حد یہ ہے کہ مسجد میں بھی وہ ساتھ رہتا ہے! وضو کرلیا باہر کا لیکن وہ اندر کا کتا وہ ہی پلیت ہی رہتا ہے!
اور اس دن میں نے وہ اندر کا کتا دیکھا تھا جب میں ماموں کے کندھے پر تھا! وہ کتا اس غار کے باہر ہی میرا انتظار کر رہا تھا! میں آج تک اس کی صورت نہیں بھولتا!
اور جب وہ کتا بھونکتا ہے تب ایک چیخ اندر سے اٹھتی ہے. اور میں لکھنے بیٹھ جاتا ہوں کہ وہ چپ رہے. اس کو چپ کرانے کا ایک ہی حل ہے، کہ میں بولوں، یا میں لکھوں، اور جب بولوں تو ایک انسان کی تمام تر قوت کے ساتھ کہ دوں کہ جو بھی ہو رہا ہے کم از کم ٹھیک نہیں ہو رہا!
ہم آج بھی اس وحشی دؤر میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کی کسوٹی اس کی طاقت سے کی جاتی ہے! اس بات کو تو کوئی نہیں دیکھتا کہ کون کتنا کسی کو فائدہ دے رہا ہے… نہیں بلکہ کون کسے کتنا زلیل کر سکتا ہے….. مجھے تلوار پر کشیدہ کیے کلمے یزید کے شرابی نعرے لگتے ہیں… کہ جن سے مجھے انسانی گوشت کی بو آتی ہے! مجھے ترشول سے رام نہیں راون ہنستے دکھائے دیتے ہیں! مجھے آج بھی صلیب پر ہزاروں مسیح مصلوب ہوتے نظر آرہے ہیں!
مجھے تمہارا کلمہ نہیں چاہیے کہ جس میں معرفت کم اور اپنی ہٹ دھرمی زیادہ دکھائی دے رہی ہے. مجھے کلمہ شہادت ہی کافی ہے. کم از کم قرآن میں تو ہے، کم از کم اسے سرورٍ کونین صلعم تو پڑھتے تھے!
مجھے ہر اس چیز سے نفرت ہے جسے انسان پر حکومت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے! وہ چاہے فرقہ پرستی ہی کیوں نہ ہو! اگر یہی بات ہے تو میں ایسے ہی ٹھیک ہوں! خدا میرے بارے میں تم سے نہیں پوچھے گا، تم جاؤ اور اپنے بچوں کی خیر مانگو! مجھے رہنے دو.
مجھے سدھارنے کا ٹھیکہ مت اٹھاؤ! میں نہیں سدھرنے والا!
مجھے سقراط کی طرح اب زہر نہیں پینا! تم نے بہت سقراط مارے، لیکن اب نہیں!
مجھے منصور کی طرح پھانسی پر بھی نہیں چڑھنا! جلاد اب کمزور ہے، اب منصور بولے گا بھی، اور گائے گا بھی!
نارٍ نمرود سے تم آگ جلا رہے ہو! لیکن اب نہیں….
اب میں بتادینا چاہتا ہوں تمہیں کہ میں نے زندوں کے لیے علم اٹھایا ہؤا ہے. مجھے زندہ رہنا ہے، ابھی بہت جینا ہے، اور لوگوں کو بتانا ہے کہ سچ زندہ ہے اور قائم و دائم ہے.وہ سچ ہمارے خیالوں کی الٹ ہے تو کیا ہؤا! ایک دن تو مانیں گے. جب وہ یقیں عطا ہوگا! تجھ کو. تب اعتراف کروگے، میں تو آج بھی کر رہا ہوں.




