Category اردو تحاریر

یہ حصہ اردو زبان میں تحریر کردہ اُن مضامین پر مشتمل ہے جو سماج کے پوشیدہ تضادات، سیاست کے طاقت کے ڈھانچوں اور انسانی نفسیات کی پیچیدہ پرتوں کو فکری و تنقیدی انداز میں بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ تحاریر وقتی جذبات یا سطحی بیانیوں کے بجائے شعور، سوال اور تجزیے کو مرکز بناتی ہیں۔ یہاں فرد اور معاشرے کے باہمی تعلق، خوف اور امید کی کشمکش، اقتدار کی نفسیات، شناخت کے بحران، اور اجتماعی رویّوں پر سنجیدہ مکالمہ پیش کیا جاتا ہے۔ مقصد قاری کو محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے اور اپنے گرد و پیش کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دینا ہے۔

یہ اردو تحاریر اُن قارئین کے لیے ہیں جو لفظوں میں گہرائی تلاش کرتے ہیں، اور تحریر کو محض اظہار نہیں بلکہ فکری ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

یشودھارا – گوتم کی بیوی – عرفان کی منزل

نو برس کے تیاگ اور پھر چار برسوں کی تبلیغ کے بعد گوتم بدھا کو حالات اپنے ہی شہر "کپل” لے آئیں!اس کی بیوی یشودھارا کو پتا لگا۔ وہ شام کے وقت اپنے چودہ برس کے بچے راہول کو ساتھ…

مزید پڑھیےیشودھارا – گوتم کی بیوی – عرفان کی منزل

وجود زن سے ہے فطرت میں رنگ اور بھنگ بھی

یہ پچھلی دہائی کی بات ہے میں ایک سندھی جریدے میں "بیڈ ورڈس ڈائری” لکھتا تھا. مجھے یاد پڑ تا ہے میں نے لاشعوری طور پر ایک کالم میں لکھ دیا تھا کہ "میں ہر وقت اپنی ماں اور بیوی…

مزید پڑھیےوجود زن سے ہے فطرت میں رنگ اور بھنگ بھی

ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی ڈیئر بابا اشفاق احمد

ٹررررررررررررر…….. ٹررررررررررررر……ٹررررررررررر…..ٹرررر (ٹڑک) ہیلو!دوسری جانب پشتو آمیزش ملا جواب پاکر میں نے عرض کیا: “السلام علیکم، جی مجھے اشفاق صاحب سے بات کرنی ہے.”“جی صیب تو بیمار ہے، آپ کون صیب؟”“جی میرا نام فیاض ہے، اور میں سندھ سے آیا…

مزید پڑھیےہیپی برتھ ڈے ٹو مائی ڈیئر بابا اشفاق احمد

نصاب اور ٹی وی بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

ابھی پچھلے ہفتے ہی کی بات ہے۔ ہم ایک کرم فرما کی ضیافت میں تھے۔ موصوف کا بڑا بیٹا او لیول سے نکل کر اسکالرشپ کے لیے اپنے پر تول رہا تھا۔ نصاب کے ساتھ بچے کو لبرٹی سے کتب…

مزید پڑھیےنصاب اور ٹی وی بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

میرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا

کہتے ہیں کہ ہم سب اس فانی جہان میں آتے ہی اسی لیے ہیں کہ واپس جائیں! یہ بھی کہا جاتا ہے (خصوصی طور پر لاماؤں میں) کہ ہم پیدا ہوتے ہی ایک بڑی جیل میں داخل ہوجاتے ہیں۔ واللہ…

مزید پڑھیےمیرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا