یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں مدرسہ آلٍ عمران (جانی برڑہ، خیرپور میرس) میں پڑھتا تھا. فلسفہ اور منطق پر مولانا ابوالنصر الفارابی (محمد بن محمد بن ترخان) کی کتاب “المنطق” میں ایک جگہ “سچ” کی تشریح کچھ یوں بیان کی گئی ہے: “سچ اسے کہا جاتا ہے جو زماں و مکاں کی پابندیوں سے مبرا ہو. سچ کی کوئی بھی داخلی یا خارجی وصف ایک دوسرے سے تضاد میں نہیں آتی. یک ہی سچ پر دو الگ الگ اگر باتیں ہوں تو ان میں ایک سچ ہوگی باقی غلط، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں باتیں غلط ہوں، پر دونوں باتیں درست نہیں ہوسکتی. تب ایک نہیں ہزاروں خیال میرے ذہن میں گردش کرتے تھے. ایک پھوہڑ دماغ ہونے کے ناتے اپنے استادٍ محترم قبلہ سید علی رضا شاہ جعفری صاحب کو میں نے دق کردیا تھا. بہرحال تشفی نہیں ہوپاتی تھی. انہیں سوالوں کے طفیل ایک دن مجھے مدرسہ سے ایسے رخصت ہونا پڑا جیسے عزازیل (عرفٍ عام شیطان) کو نکالا گیا تھا.”
بہرحال میرے تعلقات مولوی حضرات سے آج بھی اچھے خاصے ہیں، جن میں قبلہ محترم پروفیسر حکیم ترابی صاحب علامہ طالب جوہری صاحب، قبلہ کرم علی صاحب اور مولانا طاہر قادری صاحب سرٍ فہرست ہیں. ان صاحبوں سے اکثر بات چیت چلتی رہتی ہے اور کافی بحث بھی رہتی ہے جن سے میں بہت کچھ سیکھتا رہتا ہوں. پھر بھی سچ تو یہ ہے کہ کافی باتیں اب بھی تشنہ ہی رہی ہوئی ہیں. آج اچھا خاصہ وقت بیت گیا ہے. نوکری کے سبب ان حضرات سے ملنا ذرا کم ہی ہوتا ہے. لیکن میرے دماغ میں ایک بات بہت تنگ کرتی ہے. یہاں اہلٍ علم اور صاحبٍ ذوق انسان بیٹھے ہوئے ہیں. سوچ رہا ہوں کہ ایک موضوع کو کھول ہی دیا جائے. تو حضرات! بلاخر “وہ دائمی سچ کہاں ہے؟”
میں نے جب والمیکی کا “رامائن” پڑھا تھا تب اس میں بھی یہی بات لکھی ہوئی ہے کہ “بھگوان رام نے ایودھیا میں جنم پدھار کیا تھا”. ڈاکٹر ول ڈیورانٹ نے اپنے مشہور کتاب “ہندستان” میں بھی یہی کچھ کہا ھے. آج تک میں نے کسی بھی جگہ، اور کسی بھی بشر سے یہ نہیں سنا کہ رام سرکار کسی اور شہر میں پیدا ہؤا تھا. تو پھر اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ پندھرویں صدی سے پہلے تمام ہندو ایودھیا کو کچھ ایسے ہی عقیدت سے دیکھتے ہونگے جس طرح ہم “مکہ المکرمۃ” کو دیکھتے ہیں! پھر سن 1528ع میں میر باقی نے ٹھیک وہاں پر جہاں ہندو مانتے تھے کہ اس جگہ رام پیدا ہؤا تھا، مسجد کی بنیاد کیوں ڈالی، جسے اپنی طاقت اور دولت کے ہتھیار سے ظہیرالدین بابر نے بہت بڑی ہوادار اور عالیشان مسجد میں بدل کر اپنا نام بھی وہاں لگادیا، کہ یہ اب ہندؤں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی مقدس جگہ یعنی “بابری مسجد” ہے. ہندو کیا کرتے؟ نہ طاقت نہ حکومت، لیکن اپنے اندر نفرت کا ایک ہیروشیما سمائے چپ ہوگئے.
نہایت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ سن 1853ع میں یہاں پہلی بار ہندؤں اپنا مندر واپس لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے، جس پر بھی کافی معصوم لوگوں کا خون بہا تھا. وقت چلتا رہا، پھر 1949ع میں مسجد سے کچھ مورتیاں بر آمد ہوئی. کہا گیا کہ وہ ہندؤں نے اندر چھپا کے رکھی تھی جنہیں بعد میں ظاہر کرکے فساد کرایا گیا. حقیقت کیا تھی، خدا ہی بہتر جانتا ہے. اس فساد کو کانگریسیوں نے سیکیولرزم کا نام نہاد بھرم رکھنے کے لیے کورٹ کے حکمنامے کے تحت چپ کرادیا کہ تفتیش جاری ہے، لہذا سب لوگ خاموش ہوجائیں. لیکن 1989ع جیسے ہی آیا، بھارت اپنی کانگریس سے تنگ دکھائی دینے لگا اور ایک تنگ نظر گروہ میدان میں جگہ جگہ نظر آنے لگا.
اور پھر وہ ہی ہوا، یعنی 1992ع میں بھارتی جنتا پارٹی کے توسط سے وہ سانحہ ہو ہی گیا جس کے لیے اردو کی بے باک ناول نگار قرعۃ العین حیدر نے کہا تھا کہ یہ تو ہونا تھا. مسجد مسمار کی گئی اور وہاں مندر بننے کی باتیں ہونے لگی! پاکستان بھر میں مسلمانوں نے وہ احتجاج کیا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی. یعنی اپنی ہی عمارتیں جلائی گئی، اپنے ئی ثقافتی ورثے تباہ ہوئے، اپنا ہی سرمایہ نذرٍ آتش کیا گیا. آج تک میں نے کسی بھی مفتی، کسی بھی مولوی کسی بھی پڑھے لکھے پاکستانی سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ کیا ہؤا؟ جیسی کرنی ویسی بھرنی!
کل ہم نے کونسا اچھا کام کیا تھا کہ آج چلے ہیں اپنے نام نہاد بادشاہوں پر پردہ پوشی کرنے؟ کس جگہ پاک کتاب “قران مجید” میں لکھا ہے کہ کسی کی مذہبی عمارت تباہ کرکے وہاں اپنی مساجد کی بنیاد ڈالو؟ کیا آنحضرت صلعم نے ایک مسجد کی بنیاد ڈالنے سے پہلے اس زمین کے مالک دو یتیم بھائیوں کا انتظار نہیں کیا جس کی اجازت مقصود کیا واجب تھی، اور انہیں رقم دے کر، راضی کر کے مسجد کی بنیاد ڈالی تھی؟
آخر کیوں ھم سچ کہنے سے اتنا ڈرتے ہیں!
کہیں ایسا تو نہیں کہ آج جو ملک کی حالتٍ غیر نظر آرہی ہے اس کے پیچھے ہم سب کی خاموشی ہی اصل مجرم ہے؟”



