ایک بادشاہ کو وہم اور پریشانی کے دورے پڑنے لگے. اور پھر وہ یوں پریشانی پر سوچتے سوچتے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چھند چھند ہونے لگا. درباری طبیبوں سے جب بات بڑھنے لگی تو باہر کے طبیب بلوائے جانے لگے. لیکن الٹا بادشاہ کی حالت دوائیوں سے زیادہ اور پریشانی میں تبدیل ہونے لگی تب اس نے غصے سے حکم صادر کردیا کہ اگر کوئی بھی طبیب علاج میں ناکام ہوجائے تو اسے قتل کردیا جائے! یہ حکم کیا تھا قیامت کا سماں پوری رعیت میں سرایت کر گیا! کوئی چار ہی مہینے نہ گذرے کہ حکیم و طبیب کم ہونے لگے. مرتے جو جا رہے تھے!
ایک دن کسی چالاک وزیر نے بغیر یہ شرط بتائے یونان سے ایک حکیم کو یہ چکمہ دیکر بلایا کہ علاج ہونے کے بعد آپ کو بادشاہ سلامت چوتھائی حصہ اپنی بادشاہی کا دان میں دے دیگا! اور جب اس ماہر حاضق حکیم نے بادشاہ کو پرکھا، خوب الٹا پلٹا کر کے بیماری کی نوعیت دیکھنا چاہی، تب اسے پتہ چلا کہ بادشاہ جسمانی طور پر تو بالکل صحتمند تھا ہاں البتہ اسے وہ بیماری باحق تھی کہ جس کا علاج سوائے خدا کے کسی اور کے پاس نہیں.. تب وہ سوچ میں پڑگیا! اسے اپنی جان بھی بچانی تھی! اور یوں کوئی چوبیس گھنٹون کے بعد حل کھوج کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوکر کہنے لگا: "میرے آقا! آپ کا علاج نہایت ہی آسان ہے. بس کہ صرف ایک ہفتہ آپ اپنی بادشاہی کا چوغہ اتار کر ایسے بندے کی شلوار پہن لجیے جسے دنیا کا کوئی بھی مسئلہ، کوئی بھی پریشانی کسی طرح کا بھی رنج یا الم نہ ہو! اور ہاں.. وہ شلوار پہننے سے پہلے ذرا مجھے ایک گھنٹے کے لیے ضرور دیجیئے گا تو میں اس کو یاقوتی تیل سے دھو ڈالوں اور کچھ معجون سلیمانی ہے میرے پاس وہ لگادوں!”
لو جی! یہ بھی کوئی بات ہے؟ بادشاہ نے فوری طور پر اپنے بڑے وزیر کو دیکھا! نظر کرم کا واحد ہی مقصد تھا کہ وہ اسے اپنی شلوار دے.. لیکن سچ تو یہ ہے وزیر نے اپنا کاندھا جھکادیا! اس کی نو بیٹیاں تھی، دوگھر والیاں اور دونوں کی دونوں اس کے لیے بڑا درد سر تھی، یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم صاحب چوبیس گھنٹے دربار میں رہنا پسند فرماتے تھے. تو بات یہاں نہ بنی! خیر، دوسرے وزیر سے پوچھا گیا، تیسرے سے چوتھے سے نیز سب سے. پتہ چلا کہ کسی کے ہاں فلاں قسم کی پریشانی ہے تو کوئی فلاں غم میں گھلتا جا رہا ہے! کوئی اپنے بیٹوں کی وجہ سے تو کوئی اپنی بیٹی کے لچھنوں سے.. کسی کو دمہ تھا تو کسی کو بواسیر! اب بادشاہ کا پارہ چڑھنے لگا!
حکیم کو تو شاہی مہمان خانے میں بڑے آئو بھگت میں ٹھاٹھ سے ٹھہرایا گیا لیکن یہاں پوری دربار، پھر مسند والے شہر اور یوں پوری بادشاہی میں کھلبلی سی مچ گئی! بادشاہ کی تمام تر فوج نے تلواریں اپنی میانوں میں کس دی اور ایسے آدمی کی "مہا تلاش” میں جٹ گئے کہ جس کو کوئی مرض، کوئی واہمہ، کوئی پریشانی، کوئی غم نہ ہو! لیکن ملک کا چپہ چپہ چھان مارا گیا، وہ بندہ نہ ملا!
محلات میں بادشاہ ایک طرح سے تو دیکھا جائے اپنا مرض بھول گیا اور پوری رعایا کی آدمشماری میں بسر کرنے لگا! کہ ایک دن، نگر نگر کا ایک بنجارہ اس شہر میں آیا! مدعا معلوم ہونے کے بعد فوری طور پر دربار پہنچا اور عرض رکھی کہ فلاں شہر کے فلاں گائوں میں ایک آدمی ہے. جو ہر وقت مسکراتا ہے، اسے کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں. کیونکہ اسے کوئی اولاد نہیں، کوئی مسئلہ نہیں.. بس وہ یا تو سوتا رہتا ہے، یا مسکراتا اور قہقہے لگاتا رہتا ہے. بنجارے کا یہ بتانا تھا کہ پوری فوج کی پلٹن وزیر اعظم کی سربراہی میں اس جگہ کو بھیج دی گئی! تین دن کی مسافت کے بعد اس بندے کو سب کے سب ،سامنے دیکھ رہے تھے. وہ تپتی دھوپ میں بھی بڑی سی رضائی جسم پر لپیٹے ایسے گھوم رہا تھا جیسے کڑاکے دار سردی کا موسم ہو!
وزیر اس کے نزدیک آکر اس سے پوچھنے لگا: میاں کیسا محسوس کر رہے ہو؟
"واہ وا.. کیا بات ہے! کمال! زبردست…” وہ یہ کہ کر پھر مسکرانے لگا!
"کوئی پریشانی؟ کوئی دکھ؟.. کوئی مسئلہ؟.. دیکھو میاں میں اس ملک کا وزیر اعظم ہوں.. کوئی بھی مسئلہ، پریشانی یا دکھ ہو تو بڑے شوق سے بے تکلف ہو کر مجھے بتائیے! میں حاضر ہوں” وزیر نے اس سے ذرا اپنے دلی تسلی کے لیے پوچھا! لیکن وہ حیران ہوا جب اس سامنے والے بندے نے کہا.. "بہت شکریہ.. میری زندگی میں کوئی بھی مسئلہ نہیں! میں خوش ہوں. بہت خوش..!”
اب وزیر اپنی بات پر آگیا: "تو جناب ایک عرض ہے! ہمیں آپ اپنا لباس دو ہفتوں کے لیے عنایت فرمائیں گے؟ ہم اس کے عیوض آپ کو سونے سے بھی مہنگا لباس دینگے! آپ کی شلوار سے کسی کی جان بچ سکتی ہے، اور وہ بھی ہمارے بادشاہ سلامت کی.. تو کیا ہماری عرض مانیں گے آپ؟”
"کیوں نہیں! یہ لیجئیے.” یہ کہ کر اس فقیر منش بندے نے جسم سے رضائی کھینچ کر اتار دی!
لوگ حیران ہوگئے. وزیر پریشان ہوگیا. جیسے سب پر سکتہ سا طاری ہوگیا! کیونکہ وہ بالکل ننگا تھا! اور سب کے منہ کھلے دیکھ کر وہ شاید پہلی بار پوری طاقت سے قہقہے مارنے میں لگ گیا! اور چیخ کر کہنے لگا! "او احمقو! جو بندہ اپنا جسم ڈھانپتا ہو وہ کبھی خوش رہ سکتا ہے! تم پاگل ہو! یہ رضائی میں اس لیے اٹھاتا ہوں کہ رات کو سونے میں کام آتی ہے، تو کبھی اسے کاندھوں پر رکھتا ہوں تو کبھی جسم پر پھیلا دیتا ہوں!”




