پیر صاحب پاگاڑہ

یہ بات انتہائی کم لوگ جانتے ہیں؛ انگریز بہادر بھی شاید کم! بالکل اسی طرح سے جیسے اپنی برسہا برس سے لگاتار لغات کی کتب دیتے یہ بات، کہ لفظ "ایٹم” یونانی زبان کا "آتما” نہیں بلکہ یہ اہلٍ ہند کا لفظ "آتما” ہے، جسے وہ کل کائنات کا جوہر مانتے ہیں. ٹھیک اسی طرح سے یہ بھی بات کہ دنیا میں سب سے پہلے "گوریلا چھاپا مار جنگیں” کہاں لگی اور اس کا مؤجد کون تھا! کوئی نہیں بتا رہا!
تو چلیے ہم یہاں اس بات کو اٹھاتے ہیں.
سن اٹھارہ سؤ نوے بھی نہ گذرا ہوگا کہ ایک طرف برطانوی سائنسی ادیب "ایچھ. جی. ولس” ٹائیم مشین اور چاند پر اپنے پاؤں رکھنے کی سوچ رہا تھا اور دوسری طرف سندھ کے سانگھڑ علائقہ کے "مکھی جنگل” میں انگریزوں کو اس پاک دھرتی سے کس طرح نکالا جائے، کی ایک رکنی ایجنڈا پر سورہیہ بادشاہ پیر صاحب پاگارو اپنے خاص مریدوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کر رہے تھے. انہی صلاح و مشاورت نے سندھ ملک میں ایک تحریک کا سنگٍ بنیاد رکھا، جس کا نام بعد میں "حر تحریک” سننے میں آیا.
بہرحال یہ تحریک ریشمی رومال تحریک کی طرح کچھ وزن کھو چکی تو پھر سوشلسٹ رشیا بننے کے بعد یہ لاوا پھر سے ابھرنے لگا! ظاہر ہے اس بغاوت کو بھی خیرپور ریاست کے "پیر جو گوٹھ” کے سپہ سالار پیر صاحب پاگارو اول ہی کر رہے تھے. اس بار سندھ میں ایک نیا جوش دیکھنے میں آیا اور انگریز بہادر اپنی آبائی چالبازیوں پر اتر آئے، انہوں نے یہاں پر بلوچ اور مرہٹوں کو خرید کر اس شامت کو منہ دینے کے لیے بھیجا، لیکن جلد ہی وہ بھی پسپا ہوتے نظر آئے.
پھر خدا کا کرنا ایسا ہؤا کہ سندھ بمبئے سے علحدہ ہوگئی اور ایک بصری دھوکہ دیکر سندھیوں اور پنجابیوں میں دراڑ ڈالنا شروع کردی گئی، اور اس بار انگریز بالکل قریب تھے کہ وہ یہ معرکہ فتح کرلیں، لیکن، اچانک سورہیہ بادشاہ پیر صبغت اللہ ثانی نے حر تحریک سوم کی بنیاد ڈال دی!
پیر صاحب گاؤں گاؤں میں اپنی پالکی پر گھومتے اور حر تحریک میں سپاہیوں کو بھرتی کرتے جاتے. نتیجا یہ ہؤا کہ کوئی چھ مہینے بھی نہیں ہوئے ہونگے کہ حر لشکر میں تیس ہزار سے زیادہ مرد اور عورتیں انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کے لیے تیار ہوگئیں!
"مکھی جنگل” سانگھڑ میں زیرٍ زمین تربیت گاہیں بن گئیں، مردوں کے لیے جدا برگیڈ تو عورتوں کے لیے جدا آرمی تربیت لے رہی تھی تاریخ شاہد ہے کہ ایشیا کی پہلی عورتوں کی منظم گوریلا ونگ بننے جارہی تھی یہ.
"مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میں جیسے کربلا میں یزید سے لڑنے کے لیے تیار ہورہا تھا. اسی لیے تو کم عمری میں ہی میں نے اپنا نام حر سپاہی کے لیے دیا تھا.”” یہ الفاظ تھے ایک سو سات برس عمر میں بھی اپنی گھنی ڈاڑھی کو میندی لگانے کے بعد سچ تو یہ ہے جوان عزم حاجی عبدالرحیم ہنگورو کے جن کے ساتھ میں ابھی تھرپارکر جاکر ملا تھا!
"”ہمیں اوپر سے یہ آرڈر آگیا تھا کہ جرمن، گوروں کو صفحہ ہستی سے اکھاڑنے پہ تلی ہوئی ہے اور ہٹلر صاحب نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ یہ سندھ ہمیں اسی طرح سے ملے گی جس طرح گوروں کے آنے سے پہلے تھی، اسی لیے راتوں کے آخری حصوں میں انگریزوں کی چھاونیوں پر حملہ کرو اور جتنے جہنم رسید کر سکو، کرو، اور ان یزیدیوں کے ہتھیار ساتھ میں لے آؤ.”” یہ جملے کہتے ہوئے حاجی صاحب کی دھندیالی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی آگئی: "”میرے ساتھ کمانڈر ہوندل خاصخیلن کا بھی دستہ تھا، ان بائیس عورتوں نے تیرہ گورے جہنم رسید کیے.””
یہ چھاپے اتنے تو زوردار تھے کہ سانگھڑ، میرپورخاص اور نوابشاہ کے اکثر علائقاجات انگریز چھوڑ گئے، اور اپنی چھاونیاں ختم کی، اس گوریلا جنگ کا نقطہ عروج تب بنا جب گمبٹ خیرپور کے درمیاں روتوں رات حر سپاہیوں نے ریل کی پٹڑی کھولی جس سے گوروں کا نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان بے انتہا تو ہؤا ہی لیکن انکی اخلاقی پست کی شروعات بھی ہوچکی تھی. سو انہوں نے مرہٹے اور راجستان سے فوجیں بلا کر قریبی ایک جگہ سے سورہیہ بادشاہ پیر صبغت اللہ پاگارو کو گرفتار کرکے غائب کردیا، اور فوجداری مقدمہ لگا کر اسے بیس مارچ انیس سو تینتالیس پر پھانسی دے دی گئی.
یہ وہ وقت تھا جب دوسری جنگٍ عظیم اتحادیوں کے سر پر آن پہنچی تھی، اور وہ جان چھڑانے کے چکروں میں تھے، لیکن انہوں نے ایک عجیب کام کیا کہ وہ اس پیر صاحب پاگارو کا بیٹا جس کا نام سید علی مردان شاہ تھا، اسے اپنے اٹاچی کے ساتھ لندن روانہ کردیا. وہ چھوٹا بچہ وہاں کے ماحول میں پلا بڑھا اور جب جوان ہونے لگا تب اسے لیاقت علی خان، اس وعدے کے ساتھ واپس لے آیا کہ آپ کی پیری مریدی یونہی چلتی رہے گی سو وہ چار فروری انیس سو باون کو واپس سندھ لوٹایا گیا.
یہاں اسی دن باقاعدہ دستار بندی ہوئی، اور بقول حاجی صاحب کے اس دن "”پیر جو گوٹھ”” میں تین لاکھ سے زیادہ پیر سائیں کے مرید سرکار کی زیارت کرنے آئے ہوئے تھے.
بچپن سے مخفی علوم کا رسیا، جن میں پالمسٹری، علم الاعداد، جنتریوں کا حافظ اور اچھے اچھے قیافہ شناس پیر پاگارو کے آگے کچھ نہیں ہوتے، کمپیوٹر پر ستاروں کی چالوں سے لیکر بارک اوباما کی پیشنگوئیاں بھی کرتا ہے. گھڑ سواری کا شوقین، اور تحصیل نارہ میں واقع اپنے مصنوعی جنگل میں ہر قسم کے جانور پالتا ہے.
وہ جہاں بھی جاتا ہے، وہاں مریدوں کا ایک سمندر ٹوٹ پڑتا ہے. یہ بات یہاں عام سنی جاتی ہے کہ پیر سائیں پاگارو کی ایک بھی جوتی نے مٹی نہیں دیکھی، وہ اس لیے کہ جہاں جہاں سے وہ گذرتا ہے، اس کے مرید وہاں وہاں اپنی چادریں بچھاتے جاتے ہیں.
آپ یہ بھی نہ سمجھیے گا کہ پیر پاگارو ایک فرسودہ نظام کی تولید ہے لہٰذا اسے یہ سب کچھ ٹھیک ہی لگتا ہے.
"”میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح اگر لوگ میری جوتی کے آگے اپنی چادریں رکھتے ہیں تو میری انا کو پانی ملتا ہے یا، کوئی اسلام خطرہ میں پڑ جاتا ہے، میں تو ان کے لیے کیا کیا کرتا ہوں شاید آپ نہیں جانتے، آج میرے فقیروں کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا، وہ پی پی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ کی! فوجی ہو یا سول، سب کی حکومت میں اگر میرا انکار شامل ہوجائے تو آپ انکا حشر دیکھیے، آج میرے چالیس ہزار فوجی جوان پاکستان پر سر دینے کے لیے "”مجاہد فورس”” میں ہیں!””
پیر صاحب نے جواب دیا، جب میں نے آپ کے ذہن میں ابھرے ہوئے سوال کو سامنے رکھا! وہ جگہ جگہ جاکر اپنے مریدوں کو تعلیم پر زور دیتا ہے اور باالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر تو بہت زیادہ!.
اور یہ بات ٹھیک بھی ہے. آج حر مجاہد کمیونٹی پاکستان کے جس بھی کونے میں ہیں وہ امن اور سکھ سے گذر کر رہی ہے. وہ ہر برس دو بار "”پیر جو گوٹھ”” جاتے ہیں، جہاں انکا مرشد انہیں اپنی زیارت کرواتا ہے. وہ آج بھی امریکا سے لیکر ملک کے اندر فساد پھیلانے والوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، سندھ میں یہ واحد ایک لیجینڈ زندھ ہے،
لیکن افسوس کہ یہ لیجینڈ پرنس کریم آغا خان نہ بن سکا. یا اس جیسا ہی کہ جس کی وجہ سے ہزاروں بے روزگار نوجوان روزی پا سکیں اور تعلیم کے زیور سے اپنی اولاد آرائستہ کرسکیں….”