پنجابی زبان کا مختصر خاکہ اور سامری الفابیٹ

موجودہ تاریخی تناظر میں قیام پاکستان کے بعد بھی پنجابیوں کی جدوجہد کبھی حکمران طبقات کے خلاف نہیں رہی ہے۔ یہاں کی اشرافیہ، جاگیرداراور سرمایہ دار طبقات نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا ہے۔ پنجابی زبان کے فروغ کے دعویٰ داروں نے علامتی طور پر احتجاج اور مطالبات کئے ہیں۔ اس حوالہ سے منعقدہ پنجابی عالمی کانفرنسیں محض میڈیا کی زینت بن سکی ہیں مگر عام پنجابی بولنے والوں میں کوئی تحریک پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اس طرح پنجابی زبان بالعموم پنجابیوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں بن سکی ہے۔ پاکستان میں جاری پنجابی زبان کی ترویج کی تحریکوں کے اسلاف سیاسی، ذاتی یا ادبی حوالوں سے ہیں۔ ان کی عام آدمی کے مسائل کے حوالہ سے کوئی تعلق داری پیدا نہیں کی جاسکتی ہے۔
کچھ گروہ اس کو ادبی اور لسانیت کے حوالہ سے فروغ دینا چاہتے ہیں، کچھ اس کو سیاسی قوت کے طور پر استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں اور کچھ علاقائی زبان کے مختلف لہجوں کے حوالہ سے تقسیم کر تے ہیں جس میں پوٹھوہاری، وسطی پنجاب اور سرائیکی بیلٹ شامل ہیں۔
اس وقت پنجابی بولنے والوں کی تعداد پاکستانی پنجابی علاقوں میں آٹھ کروڑ ہے جو کہ پاکستان کی کل آبادی کا 55 فیصد ہیں۔ 10 ملین کے قریب پنجابی جن میں زیادہ تعداد سکھوں کی ہے، ہندوستان سے باہر برطانیہ، شمالی امریکہ، مشرق بعید (ملائیشیا میں 2لاکھ سکھ آباد ہیں) اور مڈل ایسٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان پنجابیوں میں 54 فیصد مسلمان، 29 فیصد ہندو، 14 فیصد سکھ اور 3 فیصد عیسائی شامل ہیں مگر سیاسی اور معاشی قوت کے حوالہ سے صورتحال بالکل ڈرامائی ہے۔ پاکستان سیاسی، فوجی اور معاشی قوت کے حوالہ سے انتہائی حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ ملک ایک پنجابی ریاست ہے جس کو پارلیمنٹ، فوج اور دیگر سول اداروں، تجارت اور صنعت میں بالادستی حاصل ہے ۔ پنجابی جاگیردار سیاست اور ریاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر پنجابیت کے حوالہ سے ان کی سرگرمیاں بالکل متضاد ہیں اور دیکھا جائے تو وہ اپنی مادری زبان کی ترویج پر کوئی سنجیدہ قدم تک نہیں اٹھاتے ۔
اگر پورے کرہ ارض پر ذرائع ابلاغ میں دیکھا جائے تو دنیا میں 55 کے قریب پنجابی چینل قائم ہیں۔ لاتعداد ایف ایم ریڈیو پنجابی زبان میں نشریات پیش کر رہے ہیں۔ گلیوں، بازاروں اور عام آدمی کی زبان پنجابی ہے۔ پاکستان میں پنجابی زبان کے ٹی وی چینلز کو سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہے۔ سب سے زیادہ شاعرانہ کلام پنجابی زبان میں مقبول عام ہے مگر اتنے موثر اظہار فصاحت و بلاغت کے باوجود تاریخی طور پر پنجابی ریاستی زبان کا درجہ اختیار نہیں کرسکی ہے جس کی سو فیصد ذمہ داری پڑھے لکھے پنجابیوں اور بیورو کریسی پر ڈالی جا سکتی ہے جنہوں نے اپنے مادری زبان کی ترویج و توسیع کے لیے خاطر جدوجہد کے بجائے جذبہ حب الوطنی اور بیوروکریسی کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی سرکاری کے بجائے ہمیشہ عام آدمی کی زبان رہی ہے۔ یہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا کمال ہے کہ اس نے اب اس کو ہمارے بالائی حکمران طبقات کے خاندانوں کے کلچر میں داخل کر دیا ہے۔
پنجابی شاعری اور زبان کو زندہ رکھنے والوں میں میلوں ٹھیلوں، تھیٹرز کمپنیوں اور لوک فنکاروں کا خاص کردار ہے ۔ بہرصورت معروضی صورتحال میں گلوبلائزیشن کے نئے کلچر، زبان و کردار کے باوجود پنجابی زبان میں زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہے۔ خصوصاً وہ زبانیں جو کہ مقامی ثقافت اور کسی مذہب کے ساتھ جڑت رکھتی ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان میں پنجابی زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھنے کے باوجود یہ ابھی تک پنجاب میں اکثریتی آبادی کی زبان ہے۔ یہ واحد زبان ہے جس کو دوسری زبانیں بولنے والے آسانی سے سمجھ اور بول لیتے ہیں۔
ملک میں موجودہ ترقی پسند جماعتوں نے ہمیشہ علاقائی زبانوں کی حمایت کی ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب میں اس زبان کے مختلف لہجوں اور تلفظ کی وجہ سے کوئی پنجابی زبان کے فروغ کی اجتماعی تحریک جنم نہیں لے سکی ہے۔
سابقہ پنجاب حکومت میں چوہدری پرویز الہٰی نے بطور وزیراعلیٰ پنجابی کے فروغ کے لئے ادارے قائم کئے تھے اور اس ضمن میں کچھ تحقیق اور تخلیقی کام بھی شروع ہوا تھا۔ اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پنجابی زبان کے فروغ کے لئے ادارے قائم کرے اور اس کو پرائمری کی سطح تک نصاب میںبھی پڑھایا جائے ۔
پاکستان میں پنجابی زبان کے فروغ کے لئے ممتاز دانشور فخرزمان، پروفیسر خالد ہمایوں، شہباز ملک اور سید نجم الحسن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مذہبی تعصب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کو اپنی دھرتی کی مٹی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔پنجابی انسانوں کے ذہنوں اور دلوں میں رچ بس جانے والی زبان ہے اور اس میں زندہ رہنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
لیکن اس ساری صورتحال کے ہوتے ہوئے بھی تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے. وہ ہے پنجابی زبان کا مستقبل کچھ اتنا بھی شاہوکار نظر نہیں آرہا جتنا کہ اس کی شاندار تاریخ ہے. بنیادی طور پر اس کی کچھ اہم وجوہات ہیں. جو درج ذیل ہیں:

  1. حکمرانی کی دوڑ میں اردو زبان کو اپنے اوپر رضاکارانہ بنیادوں پر مسلط کرنا:
  2. مکاتب کے نصاب میں پنجابی زبان کو پرائمری سے ہی‌ جگہ نہ دینا.
  3. شاہ مکھی اسلوب میں تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اس کی بڑے پئمانے پر پذیرائی نہ پا سکنا
  4. پنجابی زبان کو مکمل الفابیٹ نہ ہونا
  5. متوسط طبقے سے لیکر مراعات یافتہ طبقے تک پنجابی زبان سے کنارہ کش ہونا.

ان تمام دلائل اور باتوں کو سامنے رکھ کر میرے ذہن میں ایک خاکہ ہے، کہ پنجابی زبان اس سائبر دور میں بچ سکتی ہے لیکن اس کے لیے کچھ سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ جیسے کہ:
شاہ مکھی اسلوب کو چھوڑ کر نیا اسلوب استعمال کرنا چاہئیے۔
اردو زبان کی الفابیٹ بنیادی جان کر پنجابی زبان کی الفابیٹ بنائی جائے، لیکن جہاں حروف ایسے آئیں جو کہ اردو میں ناپید ہیں تب وہ حروف سندھی سے اٹھائے جائیں۔
فوری طور پر نئی الفابیٹ پر کام شروع کرکے یونیکوڈ کنسورشیئم میں داخلہ لیکر پنجابی زبان کو نئی تختی کے ساتھ متعارف کیا جائے۔
پرائمری اسکول سے لیکر یونیورسٹی تک اعلیٰ تعلیم میں پنجابی زبان کو شامل کیا جائے۔
کلاسیکل شعراء، پنجابی لوک ورثے کی طرح ہیں انہیں احمد شاہ ابدالی، مغلیہ بادشاہوں، ماضی کی نرگسی تاریخی جنگی کرداروں سے جدا کر کے فوقیت دی جائے تاکہ آنے والی نسل کو ادھارے کرداروں سے زیادہ اپنی مٹی کے کرداروں پر فخر محسوس ہو۔
پنجابی زبان میں لوک دانش کو اکٹھا کر کے اسے کتابی شکل میں لا کر عام کیا جائے۔
پنجابی اور سرائکی زبان کی ترقی و ترویج کے لیے ایک آزاد اتھارٹی کا قیام لانا ضروری ہے جس میں پرانے کتابی ادباء مشاورتوں میں ضرور رہیں لیکن یہ کام نئے ٹیکنولجی کے ماہروں کے حوالے کیا جائے۔
میرا خیال ہے کہ اس موضوع پر ایک وسیع پئمانے پر سیمینار منعقد کرواکے مباحثے کروائے جائیں تاکہ اس مقدس فریضے کو پورا کیا جائے، اور ایک بات یاد رکھئیے گا کہ اگر اس طرح کی کوششوں کو پروان نہیں چڑھایا گیا تو آنے والی نسل ہماری کی ہوئی خطائوں کی وجہ سے بربادی کے دہانے پر کھڑی ہو کر ہمیں کوستی ختم ہوجائے گی۔
(مضمون کا اوپر والا حصہ، سوشل میڈیا واچ سے مستعار کیا گیا ہے، مندرجہ ذیل خدشات، اور اصلاحات میرے رقم شدہ ہیں – امر فیاض)