میں اس وقت کالیج کے دوسرے برس میں پڑھتا تھا۔ یاد نہیں پڑتا کہ کالیج کیوں بند ہوگئے تھے لیکن اتنا پتہ ہے کہ میں شہر سے گائوں میں رہنے لگا تھا! سردی خطرناک پڑ رہی تھی، اور ایک شام پتہ نہیں کیا ہوا۔۔ میرے اندر عجیب سی بیچینی پیدا ہوگئی۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، اور سر جب شدید پھٹنے لگا تو مجھے شراب کی ضرورت جاگ گئی۔
پئسے کم تھے۔ سو میں بابا کے پاس گیا۔ وہ بھینسوں کے باڑے میں بیٹھے شام والی بی بی سی کی بلیٹن سُن رہے تھے۔ میں بابا کے پاس چپکے سے بیٹھ گیا، ایک پل کے لیے بابا نے مجھے دیکھا اور ریڈیو بند کرکے مجھے کہا:
"بابا، کچھ چاہیے؟”
"ہاں بابا! مجھے ایک سئو ساٹھ روپے چاہیئیں!”
"ھمممم۔۔۔” بابا نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا، سوچا اور اپنی قمیص سے ایک سئو روپے نکال کر دیئے اور امی کو آواز دیکر امی کو بولے: "بابا کو ایک سئو تو دیجئیے!”
ہاں ایسا ہوا کہ اگر میں دو سئو روپے مانگتا تو شاید ایسا نہ ہوتا لیکن ایک مخصوص عدد بتانے سے بابا پوچھ بیٹھے:
"بابا، خیریت تو ہے؟۔۔۔ کیا چاہیے؟”
"بابا، مجھے آدھیہ منگانا ہے۔” میرا جواب پاکر وہ بڑے سکون میں ہی رہے۔ امی آئیں اور مجھے سئو روپیہ دیکر چلی گئی۔
میں اٹھنے لگا، ابھی تھوڑا ہی دور گیا ہوگا کہ بابا نے بلایا، اور بہت دھیرے سے بولے:
"بابا جو مرضی میں آئے ضرور کریں، شراب پیئیں، جُؤا بھی کھیلیں، عیاشی کریں۔۔۔ لیکن اس طرح سے کیجئیے کہ کم سے کم میرا نام درمیاں میں نہ آئے۔ کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں ان چیزوں سے بڑا خود کو دور رکھا ہے۔۔ اور اب جب آپ ایسے کام کریں گے تو لوگ کہیں ایسا نہ کہیں کہ فلاں کا بیٹا ایسا کر رہا ہے۔۔۔اور مجھے پتہ ہے کہ آپ میرا نام ایسی باتوں سے نہیں جوڑنے دیں گے۔۔۔”
میں شرم سے جھک گیا۔ دل میں آیا اے دھرتی جگہ دے کہ میں تم میں دفن ہوجائوں۔۔۔ پورا جسم انتہائی ٹھنڈ میں بھی پسینے سے بھر گیا۔۔ دو سئو روپے بابا کے پاس رکھ کر باہر نکل گیا۔۔ بابا بلا رہے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں۔۔ خود سے گھن آنے لگی تھی۔
اس رات میں نے چچا والوں کے گھر کھانا کھایا۔ کوئی گیارہ بج رہے تھے کہ گھر میں آیا تو باہر بیٹھک پر بابا اور بڑے بھائی کو جاگتے پایا، بابا نے مجھے بلایا، پاس بٹھایا، بھیا کو اشارہ کیا، بھایا گھر کے اندر گیا، فرج سے برف لایا، اور بابا نے بوتل کھولتے مجھے کہا: جو کچھ کرنا ہے میرے سامنے کرنا۔۔ سگریٹ پینا ہے میرے سامنے پیئو، شراب پینا ہے میرے سامنے پیئو، آخرکار میں تمہارا باپ ہی نہیں یار، دوست بھی ہوں۔۔۔
اس دن سے میرا بابا، میرا بہترین دوست بن گیا۔ میرے تمام دوست شاہد ہیں کہ ایسا بابا کہ جس کے ساتھ میں بیٹھ کر لسانیات سے لیکر مذہبیات، فلسفے سے لیکر تصوف تک، شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام سے لیکر اڑوس پڑوس کے شعراء تک سب موضوعات پر کھل کر بات کرتا تھا اور میرا بابا بہت پڑھا لکھا، میری تمام باتیں سن کر کہتے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ میری اولاد ہیں۔
وہ شاہ لطیف کے حافظ تھے، وحدت الادیاں پر یقین کرنے والے باہر بیٹھک پر بیٹھتے ہیں، راہگذر ساتھ ہونے کی وجہ سے ہر راہگیر بیٹھک پر آتا، تو بابا اسے کھانا کھلاتا، کھانے کا وقت ہوتا تو بابا ان سب راہگیروں کے ساتھ کھانا کھاتے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ سامنے والا راہگیر کون ہے، کس دھرم سے تعلق رکھتے ہیں، کون ہیں، لیکن بابا کہتے۔۔۔ خدا کی رحمت ہیں یہ لوگ۔۔۔۔ طبیعت میں ترش بھی تھے تو ایسے کہ کسی سے بھی نہ ڈرتے اور سب کو کھری کھری سنا دیتے، وہ یہی ہمیں تلقین کرتے کہ سچ پر کبھی بھی سمجھوتا مت کرنا۔۔۔ جوگی لوگوں سے بہت لگائو رکھتے۔۔ نیز کمال کے انسان تھے۔
اور ایک دن آیا، بابا اچانک چلے گئے۔ خدا کا بلاوہ آگیا۔ اور میرا بابا چلا گیا۔ اور یوں برس گزر گئے۔ میں خود میں بابا پنہاں سمجھتا ہوں، جیسے ہر گام پر وہ ساتھ ہوں۔ کہتے ہوں، مت تھکنا!
اب کی برسی والے دن کئی دوست آئے، باتیں ہوئیں۔۔ ابو کی یاد کو تاذہ کیا گیا۔ باتوں باتوں میں "بڑے انسان” کی تشریح پر باتیں ہوئیں۔ مجھے ابو کی کہی ہوئی ایک بات یاد آتے ہی دوستوں کے سامنے وہ تشریح رکھ دی۔ ابو نے ایک بار کہا تھا: "فیاض بابا! دنیا میں سب سے بڑا پاپ اگر ہے تو وہ ہے کسی کا حق کھانا، دوسروں کے حصوں پر آنکھ رکھنا، اور دنیا میں ہر چرند پرند، نباتات حیوانات سے لیکر جمادات کے ساتھ انصاف نہ کرنا، اور سب سے اہم بات ان کی حجتوں کو قبول نہ کرنا۔۔۔ باقی الاہی حقوق کیا ہیں، ان پر سوچنے سے پہلے دوسرے حقوق کو پورا کرنا۔۔۔ باقی رب جانے!”
میری زندگی میں یہ زریں اصول ہر وقت اہم رہا۔۔ اور ہر گاہ ہر قدم پر ابو جیسے میرے ساتھ رہے۔ ابو مجھے کہتے: "پہلے بھٹائی کو سمجھنا، باقی باتیں خوبخود سمجھ میں آجائیں گی۔”
میرے تمام دوستوں کے ساتھ ابو پیار کرتے، جیسے وہ میرے ساتھ برتاؤ رکھتے میرے دوست بھی ابو کی آنکھوں کا تارا رہتے۔
سوئم والے دن جب مہمانوں کو کھانا کھلا رہے تھے تو ایک اجنبی مہمان نے چیخ کر پکارا۔۔۔ "کیا یہ بیٹھک قائم رہے گی؟”
تمام موجود مہمان یک چہرہ ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ گویا ہوئے: "میں یہاں کسی کو نہیں جانتا ہوں۔۔ لیکن اس فقیر درویش صفت انسان کو جانتا ہوں جس نے مجھے بلا کر کھانا کھلایا تھا۔۔ مجھے شدید بھوک لگی تھی، یہاں سے گذر رہا تھا۔۔ شرم کے مارے اپنی بھوک کا کسی کو نہیں کہ سکتا تھا۔۔ لیکن مجھے اچانک آواز آئی۔۔ "بھائی، آجائو۔۔ کھانا کھالیں۔”
اس نے مزید بتایا کہ اس فقیر صفت انسان کے سامنے چار روٹیاں تھی، آلو کی ترکاری اور ڈھیر ساری لسی۔۔ اور میں نے پیٹ بھر کر کھایا، آج یہاں سے گذر رہا تھا تو پتہ چلا کہ یہاں خیرات ہے۔۔ اس انسان کی برسی ہے جس نے مجھے بلا کر کھانا کھلایا تھا۔۔ اور دوستو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ فقیر بندہ ضرور کوئی ولی تھا۔۔ آپ سب پر سلامتی ہو۔۔”
وہ بولتا جا رہا تھا اور فرطِ جذبات سے تمام دوستوں کی آنکھیں بھرائی ہوئی تھیں!
اور مجھے بھٹائی کا بیت ذہن میں آگیا۔ سب سے پہلے مجھے ابو نے وہ بیت تشریح کرکے سنایا تھا:
"تمہارے ساز پر جو تم نے میرا سر مانگا ہے وہ طئے ہے
وہ میں تمہیں دے چکا ہوں، اب کچھ اور مانگو تو دیدوں!
یہ میرا جسم مٹی کا برتن ہے، اگر کٹ گیا تو پھر کچھ نہیں ملیگا!”
اے میرے بابا سائیں! میری سانس سانس میں آپ کا وجود پنہاں ہے۔۔ میں وہ خوشنصیب انسان ہوں جس کی رگوں میں آپ کا خون دوڑتا ہے۔ جس کے ذہن کے خلیے خلیے میں آپ کی کہی ہوئی باتوں کا بیج اب بڑھ رہا ہے۔ اے کائنات پر قدرت رکھنے والی فطرت! میرے قدموں کو اس راستے سے مت ہٹانا۔۔ یہ خالی ہی سہی، لیکن راستہ بہت دیاوان ہے۔ آمین۔




