سندھ تاریخ میں – بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے

یہ وہ سندھ ہے جو 700 عیسوی میں اس دنیا کے گولے پر اپنا قد اور قدامت دکھائے سب کو بتا رہی ہے کہ میں کیا تھی، کیا سے کیا بنادی گئی!
یہ وہ سندھ ہے جس کے سندھو دریا پر وید لکھے گئے، اکھنڈ بھارت کی کلاسیکی موسیقی کے پہلے نوٹ (سرگم) ترتیب دیے گئے.
یہ وہ سندھ ہے جس نے اس وقت سے بھی پانچ چھ ہزار برس پہلے ٹیکنولوجی کو "پہیہ” ایجاد کر کے دیا. (دیکھیں موہن جو دڑو سے نکالی گئی بیل گاڑی کی پہلی شکل)
یہ وہ سندھ ہے جس نے سمیری قوم کے ذریعے بابل اور یونان کو محرابی عمارت سازی کے گر بتائے.
یہ وہ سندھ ہے جس کے موہن جو دڑو سے امن کے اجرک کا تو نشان ملا ہے، دنیا کی بہترین تہذیب کے آثار تو ملے ہیں، اور نہیں ملا تو اب تک کسی ہتھیار کا نام و نشان، کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ اس تہذیب نے کسی اور خطے پر یلغار بھی کی ہو.
یہ وہ سندھ ہے جو شمال میں چین اور کابل سے مل رہی ہے تو مغرب میں فارس سے، مشرق میں گجرات تو اپنے پاؤں جنوب میں سمندر سے بھگو رہی ہے.
یہاں تو کوئی پنجاب نہ تھا!
نہ کوئی سرحد یا بلوچستان!!!!!
یہ وہ دور ہے جب بنو امیہ کی سلطنتی بھوکی آنکھیں اس پر ٹکتی ہیں، اور اسے تاراج کرنے پر تل جاتی ہیں!
اور آج! حجاج بن یوسف کے ظلم کا زندہ ثبوت یہ سندھ! کہاں سے کہاں لے جانے کے لیے کوشاں ہیں اسی کے سامراجی پلے؟
آج اس کی کوکھ سے نکلے اسی کے بیٹے، اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر تلے ہوئے ہیں!
کیا تاریخ سے ابھی تک انہوں نے یہ سبق نہ سیکھا کہ جس جس نے اس کے ٹکڑے کیے ہیں، آج تمام دنیا کے مہذب انسان ان کو لعنت کے حقدار مانتے ہیں، لیکن یہ غریب کی قبا ہی صحیح، لیکن پوری انسانیت کو سبق دے رہی ہے کہ:
ہم نے کسی پر بھی یلغار نہیں کی وہ چاہے کتنا ہی کمینہ کیوں نہ ہو!
ہم نے کبھی اپنی سرحد چھوڑ کر پرائی سرحد پر خون نہیں بہایا!
ہم نے کبھی بھی مذہب کے نام پر کسی ماں کی کوکھ نہیں بنجر کی!
ہم نے ازل سے امن، محبت، اور خوشحالی کی دعا مانگی، اپنے لیے، اور پورے جگ کے لیے…
ہم نے دنیا کو پہلے پہل بتایا تھا کہ: "زمیں خدا کی ہے، جس پر صرف اسی کا حق ہے جو اسے کاشت کرے”.
ہم نے کائنات کو "ویدانتی تصوف” دیا، جو کہ چلتے چلتے مارکس کے کان پر پہنچا.
لیکن اس تمام درس کو اگر بھول بھی جاتا ہے کوئی تو اسے فطرت کہتی ہے کہ: "چیونٹی کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، لیکن جب اپنے آپ کو دیکھتی ہے تو ہاتھی کو بھی گرادیتی ہے!”
ڈرو اس کے قہر سے جس نے اپنے مہذب انسانوں کے ذریعے تمام انسانذات کو تہذیب کا درس دیا ہے…. اگر آج کوئی اپنے محسن پر ڈاکہ ڈالتا ہے تو اس کی قبر پر بھی گیڈر ہی چیخیں مارتے ہیں… کتے آکر انکی قبروں پر اپنے "باتھ روم” بناتے ہیں. کیا کسی نے مکلی کا قبرستان نہیں دیکھا؟