یہ بندے بن گئے ہیں اب یہاں ٹارگیٹ اوریئینٹ

غیر سرکاری تنظیموں کا جاوا وہاں ہوتا ہے جہاں ریاستی ادارے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ جہاں ریاستی ادارے فعال ہوتے ہیں وہاں غیر سرکاری فلاحی اداروں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ (یہ معاشرتی وہ فارمولا ہے جسے اب تک میں نے یہی پایا ہے)
پاکستان میں ریاستی ادارے اسیے کام کر رہے ہیں جیسے کوئی سود خور مجبور لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔
لہٰذا یہاں غیر سرکاری فلاحی اداروں (این جی اوز) کی "طوطی سر چڑھ کر بولتی ہے۔”
اب نہلے پر دہلا ایسے بھی ہے کہ تمام این جی اوز میں "سوشیولاجسٹ” کوٹ کوٹ کر ایسے بھرے پڑے ہیں جیسے وہ ہی سماجی خذمتگذاری کا ازلی کام کر سکتے ہیں، حالانکہ یہ بڑی بھول ہوتی ہے۔
سماجدان اور سماجی خذمتگذار (سوشل ورکر) میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
یہ فرق بالکل ایسے ہے جیسے آپ سائکولاجسٹ کو سائیکاٹرسٹ کی جگہ پر بٹھا کر اسے کہیں کہ اب آپ نفسیاتی مریضوں کا علاج کریں، یا فزیشن (طبیب یا ڈاکٹر) کو اٹھا کر آپ فارماکولاجسٹ (دوا ساز) کو بٹھا کر کہیں کہ جی اب آپ علاج کریں!
اور پھر ہوتا کیا ہے کہ یہ سماجدان جو کہ درحقیقت صرف اعداد و شمار کے ذریعے سماجی بیماریوں کی تشخیص کریں انہیں این جی اوز سے مقرر کردہ ٹارگیٹ پورے کرنے ہوتے ہیں۔ نہ کہ سماجی خذمت جو کہ عین نصب العین ہونی چاہئیے۔
اور یہ بیچارے اپنے مستقبل کا سارا ذریعہ معاش اس دھندے کو سمجھ کر ایسے کاغذی (رپورٹ نویس) ہوجاتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے انہیں بس ٹارگیٹ پورا کرنے کا سوجھتا ہے۔ (لوگ جائیں بھاڑ میں)
کارپوریٹ اخلاقیات سے عاری این جی اوز مالکان صرف اپنا بینک بیلینس بڑھانے کے لیے نت نئے پروجیکٹس بنا کر دنیا جہاں کے "خیرات دینے والے اداروں” کو بھیجتے رہتے ہیں اور وہ پئسے دیکر ایسے جان چھڑاتے ہیں جیسے آپ کسی فقیر کو دس کا نوٹ دیکر پیٹھ دے دیتے ہیں۔
نوے کی دہائی سے پاکستان میں غیر سرکاری اداروں پر اربہا اربہا ڈالرز کا سرمایہ آیا ہے لیکن ہُوا کیا ہے اب تک؟
اسکول کھلے، اور پھر پروجیکٹ بند ہونے پر وہ بند ہوگئے۔
ہسپتالیں "ایڈہاک ازم” کی بنیادوں پر کھلیں اور پھر اس میں رنگ روغن ہوئے اور پھر بند ہوگئیں۔
لوگوں کی حالتِ زار یہ ہے کہ خدا نہ کرے کہ اگر پھر کوئی قدرتی آفت آجائے تو انہیں اب تک اس آفت کو منہ دینے کا ایک ٹکہ برابر پتا نہیں ہوا۔
اس "گورکھ دھندے” میں اگر فائدہ ہوا ہے بھی تو وہ بڑے پئمانے پر مڈل کلاسی چاپلوسی سیٹھیا گیری بڑھی ہے، خیراتی ہاتھ بڑھے ہیں، کہیں اکا دکا فرق آیا بھی ہے تو وہ فرق گننے جیسا بھی نہیں، ہاں البتہ نقصانات کی لسٹ بنائی جائے تو بڑھتی ہی جائے گی۔
میرے خیال سے سب سے بڑا جو نقصان ہوا ہے وہ یہ کہ لوگوں کو این جی آئیزڈ (NGOised) کرکے انہیں سیاست سے کنارہ کش کیا گیا ہے۔
اور دوسرا بڑا نقصان کہ ہمارے نوجوان ایسے کاغذی رپورٹ نویس ہوگئے ہیں کہ وہ بولتے تو دھانسو ٹائیپ کا ہیں لیکن خود اتنا تباہ ہوگئے ہیں کہ مجھے اب لگتا ہے کہ دو تین برس کے بعد یہاں اقوامِ متحدہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ لائے گی کہ جس میں این جی اوز کے ڈسے ہوئے روباٹ ٹائیپ سوشولاجسٹ اور کارکن کی ذہنی از سر نو تعمیر (Rehabilitation) کی جائے گی۔
کیونکہ اب وہ انسانیت کی خذمت والے جذبے سے نکل کر "این جی اوز کی کاغذی کارروائی کرنے والے "رپورٹ نویس روباٹ” ہوگئے ہیں۔