اب یہ محض ایک خواہ مخواہ کا سوال ہی سمجھا جائے کہ 3 مارچ 1999ع میں اس تاریخ سے پہلے کی امرتا اور بعد کی فاطمہ نے 23 ستمبر 2006 کو خیرپور کی ایک خستہ حال کالونی کے کوارٹر میں کیوں خودکشی کی؟ وہ جو بڑے لاڈ پیار سے ایک پرچون کے دکاندار کی بیٹی تھی، جسے وہ سب سکھ آرام میسر تھا جو کہ آج کل کے ماحول میں بیٹیوں کو ہونا چاہیے. لیکن یہ کمبخت عشق کا روگ کیا لگا، امرتا نے سب کچھ چھوڑ کر عبد الحکیم نامی لڑکے سے نکاح کر ڈالا. ٹھیڑھی کی ٹیڑھی گلیوں میں الحاج قبلہ جناب مطیع اللہ صاحب کے ہاں کلمہ شہادت سے نکاح تک سب پڑھوا کر یہ پیا گھر کو سدھا گئی. سندھی اخباروں میں "دھیان طلب” کی کچھ گونج ہوئی، لڑکی کے رشتیداروں نے حسبِ حال شور شرابا کیا، لیکن انہیں ڈنڈے اور ڈ نڈھورے کے ذریعے چپ کرایا گیا. وہ تین دن اپنے آبائی گھر میں رہے… پھر خیرپور شہر کے مکینوں نے انہیں پھر نہیں دیکھا. سب چپ ہوگئے. جاوے ان کے ہوئے جنہوں نے پچھلے تین مہینوں سے ان کے دکان سے ادھار پر اپنی ہنڈیا جلائے رکھی تھی…”
بعد از قبول سلام فاطمہ کا نہ ہمیں کچھ پتہ چلا نہ کسی اور نے جیمس بانڈ بننے کی کوشش کی. اور اس واقعے کے سات برس بعد وہ نومسلم دلہن فاطمہ کا کریا کرم ہوگیا… اس نے خودکشی کیوں کی؟ واللہ اعلم بالصواب. کچھ چہ مگوئیاں ضرور سننے میں آئیں کہ ان کا گھر، گھر گرہستی کے کاروبار سے مبرا ہوچکا تھا، کوئی کہتا کہ ساس بہو کی نہ بنی کوئی کہتا کہ جناب مردِ مؤمن حکیم صاحب کا جھگڑا بہتیرے عام ہوگیا… پتہ نہیں کیا ہوا تھا، بہرحال یہ طیء پا چکا تھا کہ لڑکی اب اس امن بھرے سماج میں مزید نہیں رہی.
یہ بھی محض ایک سوال ہی رہ جاتا ہے کہ ٹھارو شاھ میں رہنے والی آشا کماری کیسے طاہر نامی لڑکے سے سن 2003 میں نکاح کے بندھن میں بندھ گئی اور حسبِ واردات ایک مہینے کی دھکم بھیڑ میں وہ پرانی اخبار کی طرح بے وقعت ہوگئی. کیا ہوا آگے کچھ خاص پتہ نہیں. ہاں اتنا پتہ چل سکا کہ سن 2008ع کے اگست مہینے میں اس نے دوسرا نکاح کیا… آگے کیا ہوا، کچھ پتہ نہیں، ایسا کیوں ہوا کچھ پتہ نہیں چل سکا.
اور یہ بھی عجیب سی بات ہے کہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا کہ پچھلے برس نومبر میں قصبہ چک ضلع شکارپور میں ایک مسلمان لڑکی کا ایک ہندو لڑکے سے کچھ یارانہ سا چل رہا تھا. لیکن یہ یارانہ سراپا آگ سے کھیلنا ہی تھا. انجام کیا ہوا؟ میرا خیال ہے آپ سب کو پتہ ہے. جس میں ہمارے مسلمان بھائیوں نے اس ہندو لڑکے کے ڈاکٹر باپ پر دو کروڑ روپے اور بارہ لڑکیاں عیوض جرمانہ رکھا. (جو کہ ناقابل قبول ہی تھا) بات شدت پکڑتی گئی اور یوں پئسے دینے پر تیار ہندو برادری اس بات پر فیصلے والوں کو راضی کرانے کے لیے اپنے بچے بار بار لیکر آتی رہی کہ کچھ مُک مُکاؤ ہوجائے، لیکن اچانک ایک دن مسلح مسلمان بھائیوں نے اپنی کلاشنکوفوں کے منہ کھول دیے. دیکھتے دیکھتے تین نہتے انسان وہیں پر ڈھیر ہوگئے.
ہم سب چیختے رہ گئے. کسی نے اس واقعے کو مذہبی رنگ دینا شروع کردیا تو کسی نے اسے قبائلی عینک سے دیکھنا شروع کردیا. قصہ مختصر تین مہینے بھی نہیں گذرے یہ واقعہ "”بھول جا میرے دل”” ہو گیا.
کہ پھر یہ رنکل کماری کی ڈولی ہتھیاروں کے منہ سے سہرے گاتی اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں میں اٹھی. عجب ساماں یہ بھی دیکھا گیا کہ نام نہاد علماء فضلاء بڑی بڑی پگوں میں مرحب کا قلعہ فتح کرکے ایسے دکھائی دے رہے تھے کہ انہوں نے پھر سے ایک نیا سومناتھ مندر فتح کرلیا ہے. اور اس کے ہیرے جواہر تبلیغ اسلامی میں وقف کر رہے تھے. اس "”پگڑی ووڈ”” کی مووی کی تکنیکی خرابی جو مجھے نظر آئی وہ یہ کہ دولہا کوئی داڑھی اور یاقوتی پگڑی والا مشٹنڈہ نہیں بلکہ فیس بوکی کوئی دبنگ ٹائیپ کا لڑکا نظر آیا.
اب ایک نیا موضوع نیا پلاٹ نئی کہانی سب کی زباں پر رقص کرنے لگی. مذہبی غنڈہ گردی کے خلاف "”مان نہ مان میں تیرا مہمان”” کی طرح ہر طرف جے ہو جے ہو کی پکار آنے لگی. بھوک ہڑتال سے ریلیاں نکلنی لگی. سب اسے سیاسی یا مذہبی رنگ دینے لگے. "”حبِ علی کم بغض معاویہ”” ہر طرف دکھنے لگا… کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ سراسر سماجی مسئلہ ہوتا جا رہا ہے.
یہ آئے دن لتائیں اور رنکلیں کیوں اٹھائی جا رہی ہیں؟ اٹھائی جا رہی ہیں یا برضائے محبت "”عشق کیا جانے دین دھرم، میں تو پیا کے سنگ چلی”” کا گیت گاتے ماڈرن لیلائیں بن رہی ہیں؟
پورے سماج کی اگر بایوپسی کرائی جائے تو یہ عوامل غور طلب ملینگے.
ہر گھر میں کیبل کا وائرس اپنی اچھائیوں کے ساتھ تمام تر گندگیوں کو لیکر گُھسا ہوا ہے. جہاں انجان اور اجنبی کلچر ہمارے گھروں کے گھٹن زدہ رہن سہن سے ایک ابدی یُدھ میں جُٹا ہُوا ہے. جہاں سندھی چینل پر بخمل سے ٹاٹ کا پیوند ایسے دکھایا جاتا ہے کہ اُف کہیں سے کوئی اپنائیت نہیں محسوس ہو رہی. بھارتی چینل کے پُر گلیمر ڈرامے کہیں سے بھی ہمارے سماج سے مطابقت نہیں رکھ رہے.
موبائل فون ہر گھر میں چارپائیوں کے تناسب سے ہاتھوں میں گھوم رہا ہے جہاں فارورڈیڈ ایس ایم ایس کہاں سے کہاں کی بات کرکے پورے سماج کو دیمک کی طرح لامرئی نمونے سے کیڑے سے پتنگ بنانے پر تلے ہوئے ہیں. سماجی تحفظ اور شخصی احترام اب کتابوں میں یا فلموں میں کہیں کہیں نظر آئے تو ٹھیک نہیں تو آثارِ قدیمہ کا حصہ محسوس ہو رہے ہیں.
اقتصادی حالات یہ ہیں کہ پچھلے دو برسوں کی قدرتی آفات نے سماج میں بھیک کو اتنا فروغ دیا ہے کہ ہر تیسرا ہاتھ ناداری کا نمونہ بنے ہوئے ہیں. غربت کی لکیر تو اب فلک پر نظر آرہی ہے، اور ہم سب اس لکیر کے انتہائی نیچے اپنا بچا ہوا مال متاع ایسے سنبھالے ہوئے ہیں جیسے کوئی سفید پوش اپنی جوان بیٹیوں کو دوسروں کی نگاہ سے بچاتا ہو.
یہاں جب یہ نوبت گھر گرہستی سنبھالنے والے مرد کے ساتھ ہو تو ذرا ایسے گھروں کی عورتوں کا کیا حال ہوگا؟ جس معاشرے کی ہر گلی میں موبائل کارڈ پر جسم بکنے کے لیے تیار ہو، وہاں لڑکیوں کا گھروں سے بھاگنا کیسا اچھنبا؟ کیسا تعجب؟
مغرب میں ایک ضرب المثل ہے کہ: "”جب گلیاں خون سے لال ہوں تب پراپرٹی خریدو””. اور یہاں کی حالات ذرا سی تبدیلی کے ساتھ اس کہاوت کے ساتھ جوڑی جائے تو ایسا بنتا ہے کہ ایسے معاشرے میں "”مذہبی ملہ کا دھندا اچھا چلے گا””. اور یوں وہ جنت کی دکانداری کا ڈنڈھورا پیٹتے ہر گلی میں جگہ جگہ مساجد سے بٹوارے کا اعلان کرتے ملیں گے. اور ٹھیک ایسا ہی ہو رہا ہے یہاں. شمالی پاکستان میں مذہب کا نام استعمال کرکے بے شعور نوجوان خودکش بمبار کی شکل میں بنائے رہے ہیں تو جنوبی پاکستان میں مذہب کی ایک عجیب شکل سامنے آرہی ہے. جہاں مذہب کا سیدھا نقطہ ارتکاز غیر مسلم لڑکیاں ہی ہیں. ایسے لگتا ہے جیسے ہمارے عورتیں بانجھ ہوگئی ہوں. یہ بھی عجیب بات ہے کہ کوئی غیر مسلم مرد اپنا مذہب تبدیل نہیں کر رہا بلکہ صرف لڑکیاں!
دیکھا جائے تو اب یہ ہندو لڑکیاں کیوں حدف بن رہی ہیں؟
مذہبی نام نہاد گدیاں اپنی جگہ! ان کا کام ہی "”دل مانگے اور”” جیسا سلوگن ہے لیکن کیا واقعی یہ جبری اغوائیں ہیں بھی یا "”دیوار میں بھی سوراخ ہیں ہوا سے کہو ذرا ہلکے چلو”” کی طرح اکثر ہندو بھائیوں کے گھرانوں کے اندر بھی کئی جگہ شگاف پڑ چکے ہیں؟ میں نے دیکھا ہے اور یہ میرا قطعی ذاتی مشاہدہ ہے کہ دین دھرم یا اخلاق ہمیشہ پیٹ بھرے کے فیشن ہوتے ہیں. خالی پیٹ ہو تو کیسا دین؟ کیسا دھرم؟ کون سے اخلاق کے اقدار؟ بھوک، احساسِ عدم تحفظ، اخلاقی اقدار کو اتنا نیچے کردیتے ہیں کہ کہ گھر کی چار دیواری ہمیشہ "”چور دُواری”” بن جاتی ہے. ہم اس دُہرے کلچر کے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ایک طرف گھٹن زدہ اور بوسیدہ خاندانی رسم و رواج ایسے چیخیں مار رہے ہیں جیسے اسی برس کے بوڑھے بابا مڈل کلاسی گھروں میں کراہتے ہیں، اور اوپر سے دنیا جہاں کا گلیمر لیے ہمارے ملکی و غیر ملکی ٹی وی چینل دیمک زدہ سماج پر ضربیں لگا رہے ہیں وہاں لڑکیاں ہسٹیریائی فیصلے نہیں کرینگی تو اور کیا کریں گی؟ نفسیاتی لغت میں اسے "”کنورسیشن ڈس آرڈر”” بھی کہتے ہیں. اور اس نفسیاتی مہا بھارت کی یدھ میں اگر کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا دو بول پیار کے بول دے تو یہ متاثرہ لڑکیاں وہ ہی دو بول زندگی بھر کا سرمایہ سمجھ بیٹھتی ہیں. اور وہ یوں بولی ووڈ اسٹائل کے ایڈوینچر میں کبھی کماری تو کبھی گوپی اخباروں کی شہ سرخیاں بن چکی ہوتی ہیں اور پھر تھوڑے دن بھی نہیں لگتے وہ سیاسی اور نام نہاد سماجی "”امپورٹید صُوفیوں”” کی ریلیوں کا عنوان بن جاتی ہیں.
کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ سماج اب روڈ لائین کے اس خستہ حال ہوٹل کی اس بوسیدہ ٹیبل کی طرح بن چُکا ہے جس پر برسوں کی میل اور روغن مل کر ایسے جم گئے ہوتے ہیں کہ اگر اس ٹیبل کو اس گرد سے پاک کیا بھی جائے تو وہ ٹیبل دھڑام سے گر پڑے.
ہمارا سماج نئے زبردستی ٹھونسے جانے والے کلچر میں ایسا پیہم ہوگیا ہے کہ اب "”موت آئے تو نکلوں ورنہ تجھے لے بھاگوں.”” ہم لاکھ بچانا چاہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اب ہم نہیں بچ سکتے. یہاں اب ابنِ خلدون کی کوئی تھیوری کام نہیں کریگی. یہاں سماجی ادارے بجائے اس کے کہ دوا درمل کا کریں لیکن یہ نام نہاد ادارے عرفِ عام این جی اوز صرف بھکاری ہی بنائیں گے جو وہ بنا رہے ہیں. تو راستہ کیا ہے؟
ذرا انتہائی غور کرکے اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں تو پتہ چلے گا کہ راستہ ہے تو صحیح پر کیا ہم اس راستے کے شناسا ہیں؟ کیا ہم ایک آزاد سماج کی بنیاد ڈالنا چاہتے بھی ہیں کہ نہیں؟ بات صاف ہے. ایک آزاد سماج اپنی آزدی کے ساتھ فرائض کا بھی جہیز لیکر آتا ہے، اور المیہ یہ ہے کہ ہم وہ فرائض کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتے. ہم اپنی قدامت پرستی کا نوحہ گانا چھوڑ بھی نہیں سکتے. لیکن ہمیں یہ سب چھوڑنا ہوگا. ہمارا سفر بہت لمبا ہے تو ساماں بھی اتنا ہی چاہیے، حوصلہ بھی اتنا ہی درکار ہے…. کئی چیزیں چھوڑنی ہونگی. یہ ضروری نہیں کہ تمام پرانی چیزیں اچھی ہوں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر نئی چیز خراب ہو! بس یہ کہ وسیع القلبی کی ضرورت ہے. وحدت الادیان کی ضرورت ہے. فطرت آزاد ہے، اور ہمیں بھی آزادی دینی ہونگی، جو بھی ہماری قید میں ہیں ان سب کو. اور جب ہم اپنے آقائی رویے سے ہٹ کر لبرل بن جائیں تب آپ آزادی کی بات کریں… آزادی کہ جس میں کوئی گھٹن نہ ہو، کہ جس میں کوئی شعوری پابندی نہ ہو، کہ جو اصل آزادی اور انقلاب کی راہ ہموار کرے. ورنہ یاد رکھیں، یہ سفینہ جس کا ہر تختہ چھید چھید ہو کر رہ گیا ہے، وہ ہماری میتوں پر ماتم کرنے والے بھی ڈُبو کر لیجائے گا. میں کہے دیتا ہوں.”



