لیسن لرننگ ورکشاپ

شہر کے بہت بڑے عالیشان گیسٹ ہائوس میں
شام سے ایک بین الاقوامی این جی او کی ورکشاپ چل رہی ہے.
جس میں پورے ریجن کے این جی او گُرُوز تشریف فرما ہورہے ہیں.
اولڈ ایج لاوارثوں پر کام کرنے والے گُرو رحمٰن صاحب
جو کہ لینڈ کروزر پر ابھی تشریف لائے تھے
آتے ہی دیر کا مدعا کچھ یوں بیان کیا کہ
اس کی گاڑی کے ساتھ ایک راہگیر بوڑھا لگتے لگتے بچ گیا
اور بڑی مشکلوں سے اس کو ایک ہزار روپے تھما کر مُک مُکا ہوگیا!
"اوہ نو سر! اٹ از ہیپننگ ہیئر ڈیلی، سو ڈونٹ وری.”
یہ کہ کر اس کی پارٹنر این جی او کا سی ای او اسے کرسی پر بٹھانے لگا!
وہ ہی اعداد و شمار، پریزینٹینشنس، بوریت، گھسی پٹی ہمدردانہ تقاریر
اور سیشن ختم ہوتے ہی ڈنر شروع ہوگئی.
جانوروں کے تحفظ پر کام کرنے والی
میڈم "رکھوالی” نے ایک اسپرنگ اٹھاکر پلیٹ پر رکھا اور کہا دوسری سے
"بتا، کیسا چل رہا ہے تمہارا پروجیکٹ، کوئی کلچلر کنسٹرین؟”
"اوہ یئا!” دوسری جو حقوق نسواں پر کام کرتی تھی وہ بولی:
"بہت لوگ ڈھیٹ ہیں! بٹ آئی ایم شوئر! ہمارے سیشنس اچھی آئوٹ پٹ دینگے!”
"اوہ رہنے دو” رکھوالی نے جواب دیا: "بائی د وے یہ اسپرنگ چکن کے تو نہیں لگتے، کس کے ہیں؟”
"میم! یہ تلور کے ہیں.. بڑے لاجواب ہیں” میزبان نے گذرتے جواب دیا.
"اوہ تو یہی ہے وہ جس کو عرب کھاتے ہیں شوق سے… وائو!”
"بٹ کیا اس سے عورتوں کو بھی کچھ فائدہ ہوتا ہے کیا؟ آئی ڈونٹ تھنک سو…”
"ارے ہاں! سنو تو” رکھوالی سرگوشی سے بولی:
"اس بِچِ کو دیکھ رہی، کس طرح باس پر لٹُو ہورہی…
قسم سے میرا دل چاہتا ہے آئی مسٹ کِل ہر!”
"اوہ ہنی! ڈونٹ بی اموشنل… تم سے چھین تو نہیں رہی نا!؟ (قہقہ)
مسٹر طبیب جو کہ زچہ بچہ کی صحت پر پروجیکٹ چلا رہا ہے
اس نے ماحول پر کام کرنے والے ادارے کے مالک سے پوچھا:
"اوہ ییس! لینڈ روور لی ہے… کس پروجیکٹ کے ہیڈ سے؟”
"پروجیکٹ؟ ڈونٹ بی سلی یار!” مسٹر ماحول نے برا سا منہ بنا کر کہا:
"بوس! یہ سیوینگ سے لی ہے، بارہ ملین کی ہے!”
"وائو… لکی یار…..”
کیمرامین نے کاندھا بدلا… محفل موسیقی شروع ہوئی!
نہ جانے کب ختم ہوئی یہ ورکشاپ…
صبح، گیسٹ ہائوس کا سویپر
مڑے تڑے تشو پیپرز اور خالی سگریٹ کے پیکٹس
ڈسٹ بن میں ڈالنے لگا تو
وہ بھرا پڑا تھا پہلے ہی سے
"جانی واکر، بلیک لیبل اور سی گل کی بوتلوں سے!”