سنو اک بات تو سن لو، او پنجابی میرے بھائی

سنو اک بات تو سن لو،
میرے صدیون سے ہمراہی!
او پنجابی، میرے بھائی !
یہ کیا بیچ میں تیرے اور میرے آگیا بھائی،
سنو اک بات تو سن لو…
دیکھو ہم ہیں دو صدیوں سے
اسی دھرتی کے بس ہاری،
سنو اک بات تو سن لو۔…
ایک دن ایسا بھی گذرا تھا،
بہت زرخیز، بہت عمدہ،
ایک دور ایسا بھی گذرا تھا!
کہ تو "ھڑاپہ” میں رہتا تھا،
اور میں "موہین” میں بستا تھا!
بڑا یارانہ تھا ہم میں،
بڑا دیتے تھے ہم خود کو،
بڑے رشتے سنبھالے تھے،

Suno Ek Bat to Sun lo
0:00 / 0:00
VOL
⤓ Download

پتہ نہیں کس کی نظر ہم کو
لگی ایسی کہ ہم اجڑے!
بکھر کر پھر بھی ہم سنبھلے،
صدیان سادا سی گذریں
لمحے آہستہ آہستہ
گذر جاتے کچھ دے جاتے!
مگر ہم نے ایک دوجے میں،
کوئی دراڑ نہ آنے دی۔
دیکھو پھر ہمارے بابائوں،
پرکھوں نے ہم کو بس
یہی سمجھایا اپنی
خوبصورت سی ادائوں میں،
وائیوں میں، کافیوں میں
کہ کوئی ہم پہ آئے،
اور اگر
اپنا چلاے حکم!
تو اسکو یہ بتادو تم
اسکو یہ سکھادو تم ۔۔
کہ
"ہم صدیوں سے محبت کے
سفیر و رہبر ہیں
اور تم،
سوائے تیز تلواری کے اور کیا جانتے ہو؟
جائو اسکو بتادو جس نے تم کو راہ یے دکھلائی
اسی پاکیزہ مٹی کی،
اسی معصوم دھرتی کی،
کہ ہم پیدا ہوئے امن کا پیغام لے کر
یہاں سید بھی اتنا ہی معزز ہے،
کہ جتنا عام سا بندہ۔!
سنو آگے تو سن لو،
کیا ہوا آگے تو جانو تم،
یہ "ہیر” تیری یا میری
یہ "سوہنی” میری یا تیری
وارث شاہ، سچل، مہر علی ہو یا بھٹائی،
بلہا شاہ یا محمد بخشا
ذرا ان سب کی آنکھوں میں تو جھانکو
اے میرے بھائی
کیا وہ چاہتے تھے ہم سے
اور کیا تم بن گئے بھائی۔
یہ کب سے تم کو پئسوں کی لگی لالچ میرے بھائی!
کہ جس کے واسطے تم نے اپنے آباواجداد،
گفتار و شیریں زباں،
اور اپنا رنگ دھنگ دھرتی کا سنگ
سب چھوڑ دیا تم نے۔
سنو تم سن لو میری بات
کیا ایسا نہیں ہے کہ
تم!
ماں کی زبان کو بھی
سوائے بازار کے کوٹھوں پہ
اور طنز و مزاحی میں
گنوا کہ بھول بیٹھے ہو،
کہ میری ماں یا بابائوں کی
پسندیدہ زبان تھی یے!
بہت افسوس ہوتا ہے،
لہو کے آنسو روتا ھوں!
میرے بھائی او پنجابی…!
سنو تم بھول بیٹھے ھو،
کہ جس نے ماں کو بھلایا ہے،
اس نے بیٹی بھی کھوئی ہے!
اور جدا جو باپ سے ہوا ہے،
وھی بیٹا بھی کھوتا ہے!
بہت آلودہ ہو گئی ہیں ہماری سوچ کی لہریں،
کہ تیرے پاس دریا ہیں
میرے پاس سمندر بھی
کہ جس کو گھونٹ پانی کا
اگر "سندھو” نہ دے تو پھر
بہت لڑتا جھگڑتا ہے
بہت ویران کرتا ہے
ہماری پرکھوں کی دھرتی کو،
جو میری ہے اگر دیکھو تو،
تیری بھی ہے، سوچو تو
سنو گر آج تیرا اپنا بیٹا
کسی آوارا گولی کا
یا کسی خودکش جیالے کی
نظر بد کا ہوا لقمہ
تو میرا دل تڑپتا ہے
لہو کے آنسو روتاہے!
بہت مائوں کی کوکھیں بھی یہاں
اجاڑی ہیں کل تم نے!
ہزاروں دلہنوں کی چوڑیاں توڑی ہیں کل تم نے!
گھر برباد ہو گئے تھے،
آنگن سونے ہو گئے!
کھیت وحشی دلالوں کی،
بھوکی نظریں کھا گئیں!
بہت رویا تھا میں بھائی!
بہت تڑپا تھا میں بھائی!
مگر تم نے مجھے کافر
بنا کے قید کرڈالا!
مجھے زندہ جلایا تھا!
مگر میں پھر بھی زندہ ہوں…
میرا سر پھر بھی اونچا ہے،
کہ میری ماں زندہ ہے!
کہ میری بولی زندہ ہے!
کہ میرا دل سانس لیتا ہے،
ابھی محسوس کرتاہے!
تیرا درد اپنا سمجھتا ہے!
سنو اب بھی بتادو تم
کہ آخر چاہتے کیا ہو؟
وہ ہی "دو قومی نظریہ”؟
کہ جس کے کاندھوں پہ چڑھ کے،
بہت دیکھنے کو بس،
صرف دیکھنے کو…
تم امیر و کبیر ہو گئے!
پر یہ دھوکا تھا،
جس کا آج تم
خمیازہ بھگتتے ہو،
کیا پایا، کیا کھویا؟
ذرا دیکھو ، ذرا سوچو!
کہاں ہیں ماں ہماری،
اور تیری شیرین زبان؟؟؟؟
یا
وہی پرامن دھرتی،
مٹیاروں کی لاپرواہ،
مسکراتے چہرے،
کھیت کھلیان،
کہ جن کو بد نظر نا لگ جائے!
بارود کی،
وہ ہی صوفی بابا
وہ ہی فرید، وہ ہی بلہا!!!!!
اگر تم اب بھی اپنی ضد پہ قائم ہو،
دائم ہو؟
تو کرلو میرے ساتھ سودا۔۔
تمھیں سرمایہ چاہیے؟
سلطنت کا نشہ؟
یا یے کاغذی سا "ملا”؟!!!
تو لے لو مجھ سے کولاچی کا بندر!
یہ کارخانے ، یہ سندھو کا بھی پانی،
کارونجھر کا کوئلہ اور سارا تیل بھی!
لے لو… سب یے لے لو!
اور بس اس کے بدلے مجھے دیدو
درگاھون کے چند مرلے،
اکھاڑ کر ذرا دھرتی پہ میری نصب کردو،
بلہا شاہ میرا ہے، تیرا نہیں ہے!
فرید بھی نہیں ھے پھر ترا سن لو!
وارث شاہ میان بخشا،
میاں میر ہو یا مادھو لال حسینا!
مجھے دیدو،
باقی سب یے تم لے لو!
بن ماں کے تم جی لو،
بن باپ کے تم جی لو!
بن بیٹے کے تم جی لو!
بن بیٹی کے تم جی لو!
سنو اک بات تو سن لو
میرے صدیوں سے ہمراہی
او پنجابی میرے بھائی
سنو اک بات تو سن لو۔