یشودھارا – گوتم کی بیوی – عرفان کی منزل

نو برس کے تیاگ اور پھر چار برسوں کی تبلیغ کے بعد گوتم بدھا کو حالات اپنے ہی شہر "کپل” لے آئیں!
اس کی بیوی یشودھارا کو پتا لگا۔ وہ شام کے وقت اپنے چودہ برس کے بچے راہول کو ساتھ لیے اپنے خاوند سے ملنے آئی۔
بدھا کے بھکشوؤں نے جب دیکھا کہ گوتم کی بیوی آئی ہے تو وہ ایک ایک کر کے کمرے سے نکلتے گئے اور کچھ ہی پلوں میں صرف تین بندے کمرے میں رہ گئے۔
گوتم
یشودھارا اس کی بیوی
راہول اس کا بیٹا۔
گوتم نے آنکھ اٹھا کر بیوی کو دیکھا، پھر آنکھیں جھکا لیں۔
بیوی بولی: مجھے پہچانتے ہیں؟
"ہاں”۔۔ کمزور سی آواز میں گوتم نے جواب دیا۔
بیوی بولی: آپ ساری دنیا کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں، میرے پاس تین سوال ہیں۔۔ کیا ان کے جواب دیں گے آپ؟
"پوچھو۔۔”
"پہلا سوال یہ ہے کہ جب آپ نے یہ مایا جال والی دنیا کو ترک کیا اور اسے سوائے دھوکے کے اور کچھ نہ سمجھا تو آپ کیوں لوٹ آئے؟”
گوتم چپ۔۔۔ بلکل سناٹا کمرے میں ہو گیا۔
"دوسرا سوال یہ ہے کہ جب آپ نے محسوس کیا کہ آپ کو نروان مل گیا ہے تب آپ کی کیا کیفیت تھی؟ کیا وہ کیفیت مجھے آپ دکھا سکتے ہیں؟ کیا وہ ایک پل کے لیے ہی سہی مجھے وہ کیفیت دے سکتے ہیں؟”
خاموشی۔۔۔ گوتم کی نظریں جھکی ہی ہوئی تھیں۔
"تیسرا سوال یہ کہ یہ آپ کا بیٹا راہول ہے۔۔ دنیا جہاں میں سب بچوں کا جس طرح حق باپ پر ہوتا ہے اسی طرح اس کا بھی حق آپ پر ہے۔۔ تو آپ اپنے بیٹے کو کیا دینا پسند کریں گے؟”
خاموش گوتم کے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر اپنے بیٹے کو دیکھا، پھر اپنے آپ پر نظر ڈالی۔۔ اس کے جسم پر سوائے ستر پوش کپڑے کے اور کچھ نہیں تھا، ہاں البتہ کاسہ اس کے شانوں پر لٹک رہا تھا۔ وہ کچھ پل رکا، سوچا اور کاسہ اتار کر بیٹے کی طرف بڑھا لیا۔
یشودھارا نے ہاتھ بڑھا کر گوتم کا ہاتھ روک دیا۔ اور بولی:
"بھگوان۔۔ رحم کیجئیے۔۔۔ ہر روز صبح سویرے ایسے سینکڑوں کاسے دروازے پر آتے ہیں، اور میں انہیں اناج سے بھر بھر کر لوٹاتی ہوں۔۔۔ اور آپ اپنے بیٹے کو وہ ہی کاسہ ہی دے رہے ہیں؟؟؟۔۔۔۔ اسے دھنی بنائیے، یہ گداگر کیوں بنا رہے ہیں آپ؟؟؟”
سنا ہے کہ گوتم نے پوری زندگی سوائے ان سوالوں کے جوابات کے سب کو خالی نہیں لوٹایا۔۔۔ بس کہ یشودھارا اور راہول ہی خالی لوٹے تھے۔۔
کیونکہ یشودھارا گوتم سے کئی گنا آگے نروان کی منزل پر اسی صبح پہنچ گئی تھی جب اس کا خاوند بستر چھوڑ کر جنگل تیاگ کر گیا تھا۔