سنا ہے کہ انگلینڈ میں اب ایسے مرد روبوٹ بنائے جا چکے ہیں جو درمیانی رقم دیکر خریدے جا سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ عام گھریلو کام کاج سے تھوڑا سا کتراتے ہیں کیونکہ ان کی پروگرامنگ ایلیئیٹ اور شیکسپیئر کے مکالموں پر مبنی ہے، اور ان کی مصنوعی ذہانت کا مکمل ماخوذ درحقیقت عشق پر ہی ہے۔ ان کے ہاتھوں کی لمس آواز کی شیرینی روبوٹ کی مالکہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ اگر چاہے تو اپنے روبوٹ کی آواز بھاری بھی کرسکتی ہے، تو اس کی رفتار بھی بڑھا سکتی ہے۔ یہ روبوٹ مالکہ کے مزاج کو دیکھ کر اس کے پاس آتا ہے اور ہلکے سے لہجے میں اس کے حسن کی تعریفیں کرنا شروع کردیتا ہے۔ پھر رومانوی اشعار سے لیکر نیم جذباتی اور پھر مالکہ اس سے خوش ہو تو ہیجانی کیفیات پر اپنے آواز کو بھاری کرتے اسے بوسے دینا شروع کرتا ہے۔
اچھا اگر مالکہ کسی بھی وقت اسے روکنا چاہے تو بس یہ ہی کافی ہوگا کہ اسے کہے: "اسٹاپ” تو وہ روبوٹ جہاں ہوگا وہاں سے ہی واپسی کا راستہ دیکھے گا۔
اس کمال کے فرمائشی عاشق روبوٹ کو دیکھ کر ان کیڑے مکوڑے کھانے والے چینیوں نے بھی سوچا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں! سو انہوں نے پہلی بار "ملکہ حسن” ٹائیپ ایک روبوٹ لڑکی تیار کر لی۔ سنا ہے کہ فی الحال اسے وہاں کے "لکھنوی انداز” کی پروگرامنگ ہو رہی ہے، لیکن پھر اس میں ایک چھوٹی سی چپ (Chip) لگانی ہوگی اور اس سے وہ مطلوبہ کام لیا جا سکے گا۔ مثال کچن کا کام، باغبانی کا کام، گھر کی صفائی کا کام اور "عشق” کا کام۔
اچھا یہاں ایک بات اور "عشق” والی چپ تھوڑی مہنگی رکھی گئی ہے۔۔ (یہ مارکیٹی سیٹھئیے۔۔۔ موئے، یہاں بھی اپنا آبائی پیشہ نہیں چھوڑتے) خیر تو وہ چپ لگنے کے بعد روبوٹ لڑکی بستر کی ساتھی بن جاتی ہے۔
اب یہاں یہ خبریں جیسے ہیں پھیلیں، ہمارے اخلاق کی مسندیں ہلنے لگیں، کہ یہ کیا خرافات ہے؟ ارے بھائی، کوئی شرم ہوتی ہے۔۔ یہ کیا زلالتیں ہیں؟ ڈرائینگ روم مارکہ روشن خیالوں نے بھی اپنے حصے کی مٹھائی دی کہ جناب اس سے انسانی نازک جذبات کا انتقال ہی ہوجائے گا! غضب خدا کا۔۔۔ یعنی اب عشق بھی مشینی ہوگیا ہے! توبہ۔۔۔
اور میں سوچ رہا ہوں کہ اگر غور سے دیکھیں تو ان "عشقیہ روبوٹوں” کی مارکیٹ یورپ یا چائنا ہو نہ ہو، یہاں زبردست ہے۔ کیونکہ یہاں ہم عشق میں سامنے والے کو تھوڑا ہی دیکھتے ہیں؟ ہم تو عشق بھی اپنی مرضی کا ہی کرتے ہیں کہ یہ نہ ہو، وہ نہ ہو۔۔ فلاں ڈھمکانہ۔۔ اخلاق، بد اخلاقی۔۔ یہاں مذہب روکتا ہے۔۔ وہاں سماج کا بھرم رکھنا ہے۔۔ عورت ہو تو وہ بس میرے حکم کی داسی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو خواتین و حضرات۔ میں قسم سے کہ سکتا ہوں کہ اگر آپ واقعی عشق سے مایوس ہیں، اور وفائوں شفائوں، جیسی نادر چیزوں کو مانگتے ہیں تو یہ خوبیاں آپ کو ان ہی روبوٹوں میں ملیں گی۔۔
چھوڑ دیجئیے یہ ڈرامے بازیاں۔۔ اور لائیے یہ روبوٹس۔۔ غضب کے ہیں۔۔ کم سے کم آپ کو بیوفائیوں پر طعنے تو نہ ملیں گے!




