یہ پچھلی دہائی کی بات ہے میں ایک سندھی جریدے میں "بیڈ ورڈس ڈائری” لکھتا تھا. مجھے یاد پڑ تا ہے میں نے لاشعوری طور پر ایک کالم میں لکھ دیا تھا کہ "میں ہر وقت اپنی ماں اور بیوی کے درمیاں سینڈوچ بنا رہتا ہوں.” میرا یہ جملہ کئی اچھے اچھے لکھاریوں کے لیے جنسی گالی جیسا بن گیا اور انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے اس میگزین کے مدیر کو کہا کہ "فیاض اگر یونہی لکھتا رہا تو ہم کبھی بھی کوئی بھی کالم نہیں دینگے.” بہرحال مجھے لکھنا چھوڑنا پڑا، کیونکہ مجھے سندھی میں قوالی لکھنی نہیں آتی تھی اور نہ ہی دور دور تک مجھ میں یہ جرثومے پائے جاتے ہیں.”
پھر میں نے اردو اور انگریزی میں لکھنا شروع کیا. کبھی کبھی قومی غیرت جاگ اٹھتی ہے تو دو لعنتیں پہلے خود پر ڈال کر اور اپنی پگڑی خود اپنے بغل میں دبا کر سندھی میں لکھ لیتا ہوں جس کے جواب میں چند تبرے اور گالیاں سن کر خود کو یہ کہ کر مطمئن کردیتا ہوں کہ اچھے اچھے ولی صفت اولیاء گالیاں کھا کر اپنے نفس کی تذلیل کرا کر ولایت کی ڈگری لے بیٹھے، تو تو کس باغ دی مولی حسینا؟
سو آمدم بر سرٍ مطلب، کہ جیسے پہلے وعدہ کیا تھا کہ میرا اگلا کالم وجودٍ زن پر ہی ہوگا سو اپنی پگڑی بغل میں دبا کر بیٹھا ہوں…. پتھر لگیں یا پھول پھینکے جائیں مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ نہ تو میں حسین بن منصور ہوں اور نہ آپ لوگ شبلی بن سکتے ہیں…. وہ وہ تھے، ہم ہم ہیں…. سو بات ہو رہی تھی عورت ذات پر.
میں نے کہیں پڑھا کہ ممتاز مفتی نے کہا تھا کہ اگر تم کسی پارک کی بینچ پر دو آدمی پچھلے آدھے گھنٹے سے بلا کچھ بات کیے بیٹھے دیکھو تو یقین جان لینا کہ وہ آپس میں باپ اور بیٹا ہونگے، اور ان کی اس "”ڈسکمیونیکیشن”” کا سارہ طرہ امتیاز در حقیقت باپ کی بیوی اور بیٹے کی ماں کو جاتا ہے.
مجھے کافی الجھن سی لگی کہ یہ کیا ہے؟ خیر جب غور کیا تو پتہ چلہ کہ یہ بات سولہ آنے درست ہے. مجھے میری امی بچپن سے میرے باپ سے ڈراتی رہتی تھی، کہ بیٹا ایسا مت کرو، اگر تمہارا باپ آگیا تو تمہاری اچھی خاصی پٹائی کرے گا….. وہ خود کو مجھ سے پیار جتا کر ہمیشہ میرے باپ سے ڈراتی رہتی… اور میں واقعی اپنے ابو سے ڈرنے لگا تھا… میں اپنی تمام تر فرمائشیں بلا جھجک اپنی ماں کے سامنے تو رکھ لیتا تھا مگر مجال جو کبھی اسکول کی فیس کا بھی تذکرہ ابو سے کرنے کی جرئت کی ہو… کہ کہیں وہ مارے نہ، کہ کہیں وہ ڈانٹے نہ… اور یوں یہ روابط کی خلیج بحرٍ اوقیانوس کی طرح بڑھتی قطب شمالی اور جنوبی کے درمیاں ہونے والے فاصلے جتنا ہوگئی…. میری ماں میرے اور ابو کی درمیاں ایک دیوار ہی بنی رہی… میرے ابو کی مجھ سے بنی نہ ہی میری اس کے ساتھ…. یوں میری امی میرے اور ابو کے درمیاں "”ایک پاکیزہ سامراج”” بن گئی…. مانتا ہوں کہ اس کے پیار میں مثقال ذرۃ جتنی بھی بناوٹ نہیں لیکن اس نے اپنی محبت کے درمیاں کسی کو بھی آنے نہ دیا… حتیٰ کہ ابو کو بھی…. بہت موحد رہی محبت میں، اور یوں ایک دن وہ ساس بن گئی….. سوچا جائے کہ جب اس نے اپنے خاوند کو برداشت نہیں کیا تب وہ ایک دو ٹکے کی جمع جمع آٹھ دن ابھی پلی بڑھی لڑکی کو کیسے برداشت کرتی؟
اور یوں میں اپنی ماں اور بیوی کے درمیاں سینڈوچ بن گیا….
بچہ تھا تو امی کو ساتھ سوتا تھا…. بڑا ہؤا تو بیوی کے ساتھ !
درد شقیقہ ہوتا تو پہلے امی میرا سر دباتی، اور اب میری بیوی!
کپڑے پہلے امی دھوتی تھی اور اب میری بیوی….! ہونا یہ چاہیے تھا کہ میری امی خوش ہوتی کہ اس کے لاڈلے کی خدمت کی جا رہی ہے… لیکن وہ اپنے اندر کڑھتی ہی رہتی… میری بیوی کی تمام خدمتگذاری کو ایک پل میں چھن کرکے اسے وہ جلی سڑی سناتی کہ وہ بیچاری وہ گناہ کبیرہ یاد کرنے لگتی جن کی سزا اسے یہ ملی ہے…… اور میں کبھی امی کو دبے الفاظ میں سمجھاتا تو کبھی بیوی کو ڈانٹے ہوئے کہتا کہ دیکھو امیاں ایسی ہی ہوتی ہیں…. جس پر وہ بھنا کر کہتی کہ "”جی لیکن میری امی تو ایسی نہیں….””
اور میں لاچار اور لاجواب ہو کر گھر سے بھاگ جاتا….. میری ماں! میری زندگی میں ایک پاکیزہ سامراج….. جسے میں کبھی اف تک بھی نہ بولا نہ بول سکتا ہوں، میری زبان جلے کہ ایسا سوچوں بھی…
اور یہ سانحہ ہر دوسرے دوست کے ساتھ ہے… اکیلا نہیں میں اس ابدی مہا بھارت میں!
ہمارے سماج میں آئے دن حقوق نسواں پر مختلف آوازیں آتی رہتی ہیں… بقول سندھی کمال کے مقرر مولوی عبدالواحد آریسر کے اس تیسری دنیا میں چوتھی دنیا ہماری عورتیں ہیں… جن کے ساتھ مرد ہر وقت ظلم کرتا ہے… اور اسی بات پر کراچی پریس کلب کی ایک نامور رکن (نام نہیں لینا چاہتا) اس نے بھرے مجمع میں یہ تک کہا کہ اگر مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو ہم عورتوں کو دو کی کیوں نہیں…..! مزے کی بات اس کچہری میں اس کا خاوند صاحب بھی پان کی پیک پھینک کر ہنس ہنس کر دوہرا ہو رہا تھا….. میں نے از راہ لحاظ دبے الفاظ میں کہا کہ "”بیبی! اگر مرد دوسری شادی کرکے پہلی بیوی کے ساتھ ظلم کرتا ہے تو اس گھریلو کربلا میں اکیلا مرد کیوں شمر مطعون ٹھہرے؟ اس کے پیچھے بھی تو ایک دوسری عورت ہی ہے نہ جو یزید کا کام کر رہی ہے؟ انفرادی طور پر تو مرد ظالم ٹھہرا ہی، لیکن اجتماعی طور پر پھر بھی تو ایک عورت ہی عورت پر ظلم کر رہی ہے نہ! اور اگر آپ دوسری شادی کرینگی بھی تو پھر بھی پالا تو ایک مرد کےساتھ ہی پڑے گا نہ؟””
ایک پل کو اس نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے خدا بخشے میں اس کا سسر ہوں…. اور وہ مجھے کچا چبانے کا پلان کر رہی ہو…
چلو ہم یہ مانتے ہیں کہ کہ "”کل جگ ابوی دور”” میں مرد نے عورت کو صرف بچے پیدا کرنے کی فیکٹری ہی سمجھا ہے… لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی تو دیکھا جائے… کہ عورت چاہتی کیا ہے؟ ہمارے سماج میں تو تعلیم ایک برہمن کا کنواں سمجھی جاتی ہے جہاں اچھوتوں کو آنے کی بھی اجازت نہیں…. لیکن جہاں تعلیم عام ہے، سب لڑکیاں اسی طرح سے یونیورسٹی جاتی ہیں جس طرح وہاں کے لونڈے… تو وہاں کیا عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے پہاڑ کھودے ہیں؟ وہاں بھی تو یہی حال ہے…. اکثر مرد ہی کماتا ہے اور عورتیں اپنے آرائش اور زیبائش پر لاکھوں ڈالر ہوا میں اڑاتی ہیں… ابھی پچھلے برس کی ہی بات ہے، دنیا میں میک اپ کا سامان بنانے والی کمپنی "”گارنیئر”” کے حصص چیک کیے گئے تو پتہ چلہ وہ بل گیٹس کی سات نسلوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہی ہے… میری ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ایک ادیبہ جو کہ پاکستانی ہی ہے اور ہر ماھ ایک سے ڈیڑھ ہزار ڈالر (پاکستانی ایک سو سوا لاکھ روپیہ) بیوٹی پارلر پر خرچ کرتی ہیں….. لیکن لکھتی غرباء پر ہی ہے…. (مجھے یقین ہے کہ اس رقم سے ہمارے ملک میں دس گھر آرام کے ساتھ گزارہ کر سکتے ہیں)
شاید آپ کو پتہ ہو کہ یورپ اور امریکا کی بینکوں میں ستر فیصد سے زیادہ سرمایہ عورتوں کے نام پر اکاؤنٹس میں پڑا ہے… مرد تو برائے نام ہوتا ہے….. سبب ایک ہی ہے کہ پورے امریکا میں ننانوے فیصد انشورنس کے کلیم عورتوں کے نام ہوتے ہیں… مجھے یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور اسی فطری رعایت کا تمام تر فیض عورتیں ہی اٹھاتی ہیں. اگر کوئی آپ سے یہ پوچھے کہ مغرب میں سب سے زیادہ کرپشن کس کھاتے میں ہوتی ہے تو آپ بلا جھجک انشورنس کا نام لے لیجیے گا… کیونکہ اکثر کلیم پاکستانی الیکشنوں کی طرح پہلے سے طئے شدہ ہوتے ہیں جنہیں پا کر پھر عورتیں بلا جھجک شادی شدہ ہوجاتی ہیں.
دور فراعنہ سے لیکر آج کے اس فراوانی کے دور میں عورت کس طرح مرد کو تگنی کا ناچ نچاتے ہوئے آرہی ہے اسے ایک انسان (بلا تفریق جنس) کے اگر مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا مرد کو مرد سے لڑانے میں اور سلطنطوں کا تخت اکھاڑنے میں عورت کا کس طرح ہاتھ ہوتا ہے….. اس پر ڈاکٹر مبارک علی یا ول ڈیورانٹ ہی بہتر لکھ سکتے ہیں. کم از میں نہیں…
وہ کبھی ماں کے روپ میں تو کبھی بیوی کے روپ میں، کبھی محبوبہ کا عکس لیے تو کبھی بوڑھی ماسی کے روپ میں اپنے اپنے پاتال کی دنیا میں مرد کو کس طرح رموٹ کنٹرول کر رہی ہے…. وہ خدا جانتا ہے… اس نے کبھی بھی اپنی جنس کے حقوق کی بات نہیں کی ہاں کروائی بہت ہے… وہ بھی فیشن اور نمود نمائش کی طرح، تو کبھی ہم جنسیت والی طبیعت کی وجہ سے….
کیا آپ نہیں دیکھ رہے؟ لیکن ہمیں کچھ کہنے سے پہلے ہزاروں لعنتیں پہلے سوچ لینی چاہیئں، کیونکہ اول تو ہم لکھ بھی نہیں سکیں گے وجہ صاف ظاہر ہے کہ بن عورت کے گزارہ ناممکن است، اور دوم، بالفرض ہم لکھ بھی لیں تو فرق کیا پڑے گا؟ یہاں رباب بجانا تو کجا سوچنا بھی حرام، لال مسجد کا واقعہ ابھی کل کی ہی بات ہے…..”



