بے حصار لوگ، اور حصاروں میں مقید شہری

دیہاتی لوگوں کے لیے حصار ایک ایڈونچر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ "بے حصار” دنیا میں رہتے ہیں۔ کھلی فصلیں، کھلی فضا، کھلے گھر، کھلے نمونے سے اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا حتیٰ کہ رفع حاجت بھی کھلے ماحول میں کرتے ہیں۔ ان کی شادی، غمی اور تہواروں میں وہ اتنے آزاد ہوتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور بس کے سامنے کر سکتے ہیں، کیونکہ سب وہ ہی تو کرتے ہیں۔۔ تو کاہے کی شرم، کاہے کا حجاب؟

یوں سمجھئیے کہ ان کے برائے نام بھی گھر ہیں وہ جیسے شیشے کے بنے ہوتے ہیں۔ کیونکہ بیس گائوں چھوڑ کر بھی جائیں تو لوگ ایک دوسرے کو بشمول ان کی عادات کو جانتے ہیں۔

ان کے پاس بس ایک ہی حصار ہے۔۔ وہ ہے ان کا گلے ملنا۔۔ ان کی بانہوں کا حصار۔۔ تبھی تو وہ زبردست نمونے سے گلے ملتے ہیں، تھپکیاں دیکر، زور سے کہ یہ شاذ و نادر ملنے والا محبتوں کا حصار کم نہ ہو۔۔۔

لیکن ان کے برعکس یہ شہری لوگ۔۔ بے حساب اور لاتعداد حصاروں میں مقید جن کے لیے آزادی ایک ایڈونچر کی مانند ہوتی ہے، کہ جن کو اپنی سانسوں کے لیے تازہ فضا حاصل کرنے لیے بھی گھروں سے باہر جانا پڑتا ہے۔ وہ بھانت بھانت کے حصاروں میں اس طرح قید ہیں کہ توبہ کرنے کو جی کریگا! اور یہ قید والی طبیعت ان کی نس نس میں انڈیلی ہوئی ملے گی۔۔ اب چونکہ یہ پڑھے لکھے کچھ زیادہ ہوتے ہیں اس لیے قیدوں کے بھی معزز نام رکھے ہوئے ہیں۔۔ پرائویسی، نجکاری، تخلیہ وغیرہ وغیرہ۔۔

کیونکہ یہ ہزارہا حصاروں میں بند ہوتے ہیں اس لیے وہ گلے بھی کم ہی ملتے ہیں۔۔ بس ہاتھ دینے پر ہی گذارہ کرتے ہیں۔

وہ کھاتے پیتے سوتے جاگتے خود کو اور مزید حصاروں میں بند کرتے جاتے ہیں۔ اس لیے یہاں بڑے سے بڑے مجرم بھی چھپ جاتے ہیں۔۔ اور یہ حصار خود مجرم بنانے کی فیکٹری کا کام کرتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ انسان کے نام پر چلتے پھرتے روبوٹ ہوتے ہیں۔۔ جن کی سب چیزیں بناوٹی، مصنوعی حتیٰ کہ ہنسی رونا دھونا سب کے سب۔۔ رشتے تعلق کا ان سے کیا لینا دینا! غلام ابن غلام یہ لوگ، حصاروں میں مقید یہ لوگ!

اور یہ مقید لوگ پھر مٹی ماں کو بھول جاتے ہیں کیونکہ انہیں یہی لگتا ہے کہ انہیں تابوت میں سجایا جائے گا۔۔ اور جس کے بدن کو مٹی چھوئے گی نہیں کہ ان کی میت میلی نہ ہوجائے!

لیکن سچ تو یہ ہے کہ مٹی بھی نہیں چاہتی کہ انہیں اپنی گود دے جو نہ تو آزاد پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی آزاد موت مرتے ہیں!