خودشناسی اور تکبر

میرا بچپن ایک پردہ دار سندھی سادات فیملی میں گذرا ہے. مجھے یاد ہے کہ شعور میں آ گیا تھا تب بھی خود کو سید ہی سمجھتا تھا، تب مجھے پتہ چلا تھا کہ چھٹی کے دن مجھے پڑوس میں رہنے والی سید فیملی نے میرے اپنوں سے مانگ لیا تھا، ان کے گھر میں اولادٍ نرینہ نہیں ہو رہی تھی. اور میں تین بڑے بھائیوں کے بعد پیدا ہوا تھا. مجھ پر کیا گذری تھی جب یہ پتہ چلا کہ میں کون ہوں اور میرے حقیقی ماں باپ کون تھے، یہ تو جیسے بالی ووڈ کی مووی میں کسی کو پتہ چلتا ہے کہ تمہارا باپ یہ ہے، دھماکے ہوجاتے ہیں، کیمرا سے بار بار چہرے پہ چہرا دکھایا جاتا ہے، وہ ہی ہؤا تھا!”
ہاں پر ایک دن اسکول سے واپسی پر راستے میں پڑنے والے آموں کے باغات سے چوری ایک امبی (کیری) توڑ کر کھائی تھی! پیڑ پر جیسے ہی چڑھا، ابھی امبی توڑی ہی، کہ پکڑا گیا تھا، لیکن باغبان نے یہ کہ کر میرے گال تھپکپائے تھے کہ :”” دیکھو فیاض میاں! خود کو پہچانو…. یہ بات ٹھیک نہیں ہے جو تم نے کیا ہے!”” اس نے مجھے وہ امبی دی اور کھانے کو کہا! وہ دن کہ میرا تمام وقت خود کو پہچاننے میں گذرتا ہے. مدرسے میں دین کی تعلیم لیتے وقت بھی یہی سوال ذہن میں ابھرتا تھا کہ میں کون ہوں؟
بڑے فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ سوائے دسویں جماعت کے میتھمیٹکس کے پرچے کے میں نے کسی پیپر میں نقل نہیں ماری اور امتیازی نمبر لیکر پاس ہوتا آیا، لیکن خود کو پہچاننے میں اب بھی سر گرداں ہوں. تصوف میں میرے پیر و مرشد اکثر مجھے کہا کرتا ہے کہ "”من عرفہ نفسہٰ و عرف ربہٰ”” (جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا گویا رب کو پہچانا) یا مدرسے میں میرا استاد ایک آیۃ کریمہ کا تذکرہ اکثر کیا کرتا تھا کہ: "”وفی انفسکم افلا تبصرون”” (اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو)! مجھے بتایا گیا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، کہ جسے بہترین ساخت میں پیدا فرمایا ہے، کہ جس کے پاس خدا کی روح ہے، کہ جس کے پاس حسن کی انتہا ہے، کہ جس کو علم الاسماء عطا کیا گیا! کہ اس علم کے سوا کیا ہے دنیا میں؟ عدم سے وجود کا سب علم! وقت کا علم، نیز کل کائنات کا علم! اور میں بھی اسی بنی آدم کا ایک سوچتا لوچتا ایک انسان! مجھے جاننا چاہیے کہ میں کیا ہوں؟ میں کون ہوں؟ میں کس لیے آیا ہوں؟ مجھے کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا! اور ایسے خود شناسی کے سوالات بھرا "”سوالی پیپر”” میرے ہاتھ میں ہے، جسے مجھے حل کرنا ہے.
یہاں مجھے نقل مارنے کی تھوڑی اجازت بھی ہے، لیکن پتہ نہیں کیوں دل نہیں مان رہا کہ میں نقل کروں! کیوں کروں؟ جب شرط ہی یہی ہے کہ خود کو پہچانوں! اور میں کہیں اور نہیں مل سکونگا! اگر مل سکونگا تو خود میں ہی، خودی کی ندی میں غوطہ لگانا ہوگا! اور یہ بات صرف اہلٍ نظر ہی جان سکتے ہیں کہ غوطہ خوری سکھائی نہیں جاتی، یہ تو "”کلا”” ہے، کہ جسے آئے! کہ یہ کوئی ٹیکسٹ بوک بورڈ کی کتاب نہیں کہ جسے پڑھ کر انسان غوطہ خوری جان جائے! تو میں کون ہوں؟ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ایک بیت کا اردو ترجمہ ہے: "”مجھے محبوب نے، ہاتھ پاؤں باندھ کر پھینکا ہے تالاب میں، اوپر سے یہ حکم ہے، کہ جسم نہ ہو گیلا پانی سے!”” پھینکا بھی پانی میں گیا ہوں اور حکم ہے کہ کچھ گیلا بھی نہ ہو! …… عجیب صورتحال ہے! اور ساتھ میں مجھ پر ایک حکم نامہ اور بھی ہے۔ کہ خبردار، جو کبھی تکبر کیا! کیونکہ تکبر صرف خدا کی ذات کو سانجھتا ہے! کہ تکبر انسان نہیں کر سکتا، کیونکہ تخلیق کو کوئی حق نہیں کہ تکبر کی حالت میں آجائے! لیکن ایک بات ہے، کہ اگر میں خود کو نہیں جان سکتا یا پہچان سکتا تو میں گناہوں کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہوں، بلا کچھ جانے اگر کچھ بھی کام کرتا ہوں تو وہ کسی کھاتے میں نہیں جا رہا!
چونکہ میں افضل مخلوق ہوں اس لیے مجھ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ میں خود کو جانوں، میں تمیز کروں، کہ میں خود کو پہچان سکوں! لیکن کیا؟ میں عجیب سی کشمکش میں ہوں! کہ جیسے ہی خود کو تھوڑا جان لیا، پہچان لیا تو یہی لوگ جو مجھے "”خود شناسی”” کا سبق پڑھا رہے ہیں، وہ ہی مجھ پر فتویٰ لگانا شروع کررہے ہیں۔ کل میں نے "”انالحق”” کی بات کی تو میرے ہاتھ کاٹ کر ، پتھر مارے گئے، پھر پھانسی پر لٹکایا گیا! کیا قصور کیا میں نے؟ یہی کہا نا میں حق ہوں! "”سبحانی ما اعظم شانی”” کی بات کی تو میرے درپے ہوگئے یہ سب لوگ! کہ میں نے خدائی کا دعویٰ کرلیا! کہ جس سے انہی لوگوں کا مذہب خطرے میں پڑ گیا، سوچتا ہوں کہ مجھ جیسے انسان کا اگر ایک جملہ ان کے مذاہب کو خطرے کی حدوں میں لے جاسکتا ہے تو کیا یہ مذہب ہے؟ کہ کیا بس اتنی سی آفاقیت ہے اس مذہب میں!
یہ کیا بات ہوئی، کہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ میاں کیا تعلیمی قابلیت ہے تمہاری؟ اور جب میں اس بات کا اظہار کروں کہ میں ماسٹر ہوں فلسفے کا! تو مجھ پر فتویٰ درج ہوجائے کہ میں تکبر کر رہا ہوں! اپنا اظہار کیا تو کہا گیا کہ تکبر کر رہے ہو! ٹھیک یہ وہ جگہ ہے ، یہ وہ دوراہا ہے جہاں میں پھنس جاتا ہوں، یہاں سے مجھے کچھ پتہ نہیں چل سکتا کہ خودشناسی اور تکبر کے درمیاں وہ کونسی غیر محسوس ہونے والی لکیر ہے جو ان کو جدا کرتی ہے۔ کہ خودشناسی کہاں ختم ہوکر تکبر میں ڈھلنا شروع ہوجاتی ہے۔ خودشناسی ، جو مجھے گناہوں کی آوارہ دنیا سے دور رکھتی ہے، جہاں میرے سب قدم انسانی معراج کی طرف بڑھتے ہیں، جہاں مجھے خود کا بھی پتہ نہیں چل سکتا۔ تکبر، جو میری ہستی کو دیمک کی طرح خالی خالی اور نیست کردیتا ہے، (کم از کم جو مجھے بتایا جاتا ہے) کہ جس میں بھی میں "”میں”” نہیں رہتا! آپے سے نکل جاتا ہوں، اور میرے پیارے دوستو، سچ یہ بھی ہے کہ فی الحال مجھے اس خودشناسی اور تکبر میں کوئی فرق بھی نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
جیسے ایک ہی سکے کو دو رخ ہوں، کہ جیسے ایک ہی مقناطیسی ٹکڑے کے دو سرے ہوں! کہ جن کے درمیاں، میں ایک خطرناک رسہ کشی کے کھنچاؤ میں رسہ سا بنا ہؤا ہوں! کہ جس کھچاؤ میں اب میرا جسم شل ہوچکا ہے، کہ پورا تن و من تھک گیا ہے!
لوگو ! مجھے سمجھاؤ کہ کیا ہے خودشناسائی اور کیا ہے تکبر؟ میں جس طرح عدم اطمینان اور ناشکری کے درمیاں کوئی واضع لکیر کھینچنے میں تذبذب کا شکار ہوں ٹھیک اسی طرح سے اپنے آپ کو سمجھنے اور اس کے نتیجے میں وسعت کے سفر میں بھی شش و پنج کا شکار ہوں! کوئی ہے جو میری مدد کرے۔۔ یا مولیٰ یا صاحب الزمان ادرکنی، فی سبیل اللہ۔۔۔۔! خیر، آپ نے پوچھا کہ: “دنیا میں آپ کتنے ایسےلوگوں کو جانتے ھیں جنہوں نےاپنے آپ کا، اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیا ھے؟ اور اگر کسی نے سمجھ بھی لیا ھے تو وہ کیا کر سکا ھے؟” تو جواب سیدھا سادا ہے۔ آپ ایسا کریں آئینے کے سامنے کھڑی ہوجائیں، جو شکل ملے وہ بھی “ان لوگوں” میں شامل ہے۔ آپ کی بات پر مجھے ایک کتھا یاد آرہی ہے۔
پورب کی منیشیئا (٠٣۲ع) نے کہا تھا کہ: "”یہ جو دنیا نظر آرہی ہے آپکو وہ در حقیقت پاپیوں کا معالج خانہ ہے۔ سنسار میں جو بھی روگ ہے، وہ ہی تو بھیجا جاتا ہے اس دنیا میں، اس دنیا میں بس کہ چند افراد ہوتے ہیں جو سمجھ جاتے ہیں کہ اب ہم ٹھیک ہوگئے، اب اس دنیا سے نہ لینا نہ دینا، مالک اب اٹھالے ہم کو! بہت جی لیا ہم نے! یہاں روگ ہی روگ ہیں۔ اب سانس سانس گھٹن زدہ ہو تی جا رہی ہے!””
اسی طرح کی باتیں آپ کو دنیا کے تمام حسین و جمیل ذہن رکھنے والے اعلیٰ انسانوں سے ضرور ملیں گی! سقراط دن کی تپتی دھوپ میں جلتا فانوس اٹھائے اتھینز کے شہر میں گھوم رہا تھا، پوچھا گیا کہ پاگل ہو کیا، سورج کی روشنی میں بھی فانوس جلائے گھوم رہے ہو؟ پتہ ہے کیا جواب دیا تھا سقراط نے؟
اس نے کہا: “لوگو میں پاگل نہیں ہؤا! میں تو اس تاریکی میں انسان کھوج رہا ہوں!” آج کا شاعر کہ رہا ہے کہ: اک سمندر نے آواز دی، مجھ کو پانی پلا دیجیے! صدیوں سے ہم آدمیوں کی بھیڑ میں انساں تلاش کر رہے ہیں، آدمی مل رہے ہیں، آدمیت نہیں! انسان مل رہے ہیں، انسانیت نہیں! دھوپ میں فانوس لیے سقراط انسان کی تلاش میں سر گرداں ہے، سمندر، پورا پانی سے بھرا، پیاسہ ہے، پانی مانگ رہا ہے! منیشیا، دنیا کو ہسپتال سمجھ رہی ہے! اور سچ تو یہ ہے کہ ہم سب ایک لا متناہی کھوج میں سرگرداں ہی! کہ کوئی ہو جو مجھے سمجھے! دیارٍ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو، کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو! آپ نے دیکھا ؟ سب سامنے ہے، پھر بھی انسان کی رٹ لگی ہوئی ہے کہ “سب مایا ہے!” یونانی دیومالائی داستانوں سے لیکر، لامائوں کی کتھائوں تک، سب میں ایک کھوج ہے۔ مجھے کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ انسان نے خود اپنے لیے خود ہی مشکلیں بنا لی ہیں۔ سامنے پڑی ہوئی چیز کو خود ہی چھپا کر اسے پہیلی بنا دیا کہ “بوجھو تو جانیں!” نحن و اقرب کی دعویٰ خدا کی ہے، لیکن ہم نے اسے کہاں پہنچایا؟ سات عرش دور! کہ یہ بھی ایک پہیلی ہوجائے! کہ اس میں بھی انسانی انا کو پانی ملے۔ کہ ہر کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے “اسے” پالیا! بلھا شاہ کہ رہا کہ : “رب دا کی پانا، اتھوں پھڑیا تئ اتھوں سٹنا” یہاں سے اکھاڑ کر یہاں ہی لگانا ہے، کہیں اور نہیں جانا! یہاں سے یہاں تک کا سفر! (نوٹ رہے کہ یہاں سے وہاں نہیں، یہاں سے یہاں ہی ہے)
جیومیٹری میں ایک دائرہ کیا ہے؟ کسی نے نہیں جانا کہ جسے ہم زیرو کہتے ہیں وہ ہی تو تین سو ساٹھ ہے۔ کیوں کہتے ہیں کہ دنیا گول ہے، جہاں سے شروع کرو، جاؤگے کہاں؟ وہاں ہی آنا ہے۔ زیرو برابر تین سو ساٹھ! حضرت فرید عطار رح نے “منطق الطیر” میں کس طرح سیمرغ پرندوں کے سفر کا لکھا ہے جو اپنا سردار ڈونڈھنے نکلے تھے۔ کس طرح مختلف وادیاں گذرتے فنا کی وادی جب پار کی تو دیکھا ان ہزاروں پرندوں میں صرف ایک بچا تھا۔ باقی مر کھپ گئے تھے یا راستے کی سعوبتیں اوکھی جان کر لوٹ گئے تھے۔ اور اس آخری پرندے نے کیا پایا وہاں؟ جب وہ اپنے سردار کے حضور ہؤا؟ خود کو ہی پایا! کیا پایا؟ ایک آئینہ!!!!!!
جب سفر اس آئینے کا ہی ہے، جب سفر خود سے خود تک کا ہی ہے، تو پھر یہ گورکھ دندھا کیوں؟ جیسے ہی جان لیا کہ میں ہی تو ہوں جسے میں تلاش کر رہا ہوں، تو اتنی بھول بھلیاں کیوں؟ کیا غالب نے تبھی کہا تھا کہ: بازیچہٍ اطفال ہے دنیا میرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے!
اور اس سفرٍ لاحاصل (یا حاصل) میں سچ تو یہ ہے کہ سب کو سرگرداں دیکھ رہا ہوں، بس پہنچ پہنچ کی بات ہے۔ ہم سب اپنے اپنے سفر کا سامان کٹھا کر رہے ہیں، اب کون جانے کہ کس کا سفر کتنا طویل ہے! جو جانتے ہیں کہ سفر طویل ہے، وہ اتنا سامان لیکر چلتا ہے۔ (یہاں مادی سامان کی بات نہیں ہے)
اس نا سمجھی میں لوگوں نے جنگلوں کا رخ کیا، پہاڑوں میں، غفائوں میں، کہ مکتی ملے، کہ عرفان ملے! لیکن وہ بھی بھول گئے کہ اکیلا انسان کچھ نہیں، کسوٹی چاہیے. اور ایک انسان کی اچھائی یا برائی کی کسوٹی دوسرا انسان ہی ہوتا ہے. میں پوچھتا ہوں کہ اکیلا انسان کاہے کا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے؟ وہ کس کے ساتھ سچ بولے گا؟ یا کس کے ساتھ جھوٹ؟ اکیلا انسان نہ ایماندار ہوتا ہے اور نہ ہی بے ایمان. اس لیے ترکٍ تمنا ہی سب کچھ نہیں. ترکٍ خواہش ہی سب کچھ نہیں! تلسی داس نے تبھی کہا تھا کہ: مایا مایا کچھ نہیں، مایا آپ ہی ہو جان! اب میں ہمارے دین اسلام کے حوالے دونگا. آپ نے دیکھا کہ اسلام میں تیاگ کرنے سے روکا گیا ہے. میں کہتا ہوں کہ بہت بڑا سچ ہے یہ. اسی لیے تو اسلام فطرت کا مذہب کہلواتا ہے. نیکی بدی، سب تمہارے سامنے ہے. بس کہ: نہی عن النمکر، اور امر بالمعروف کو سمجھنے کی ضرورت ہے. کیا نہیں ہے اس کائنات میں! کتنی بار اللہ تبارک و تعٰلیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ: "” پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے!”” اصل میں ساری بات نا سمجھی کی ہے. یہ کیسے ممکن ہے کہ شعور سمجھ جائے کہ یہ چیز مجھے نقصان دیگی تو پھر وہ اس طرف اکسائے گا؟ آگ میں ایک معصوم بچے کا ہاتھ جل جاتا ہے تو وہ عمر بھر اس کے نزدیک اپنے ہاتھ نہیں بڑھاتا! مجھے پتہ چل جائے، (اور مکمل پتہ، آدھا یا ٹکڑوں کی صورت میں نہیں) کہ یہ چیز میری طبیعت یا فطرت کے لیے کتنی بھیانک ہے تو میں کیوں اس کے نزدیک جاؤنگا؟
سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا! ………………….. لیکن سارا مسئلہ ہے نا سمجھی کا! جیسے میں نے اوپر لکھا ہے کہ ہمارے ذہنوں میں وصف صاف نہیں ہے. کہ کیا ہے خودشناسی؟ سالک لوگ تو خود شناسی کو خدا شناسی تک لے گئے، اور ٹھیک کہا انہوں نے. اب جو نہیں سمجھا تو یہاں نا سمجھی کی بھی تو پوری گنجائش موجود ہے. کوئی نا سمجھے! خیر ہے. اس گورکھ دندھے میں ہمارا تو اتنا ہی کام ہے نہ کہ سمجھ جاؤ اور دوسروں کو بھی بتادو. قرآن میں تو سیدھا سیدھا کہا گیا کہ: "” اور واضح طور پر پیغام پہنچا دینے کے سوا ہم پر کچھ لازم نہیں ہے”” تو کہیں ہم دوسروں کو راستہ دکھاتے دکھاتے اپنا راستہ تو نہیں بھول رہے! تو کہیں ہم سچ بولتے بولتے اپنا سچ بھی تو نہیں بھول گئے؟ اب آپ کا سوال کہ: "”اس ساری جستجو کا، محنت کا، اس سوچ کا فائدہ کیا ؟ جب سفر جہاں سے شروع کیا تھا و ہیں ختم ھو گا تو حاصل کیا ؟”” اب بات تھوڑی عجیب لگے گی کیونکہ ایک مثال ذہن میں آگئی ہے.
لینن سے ٹرائٹسکی نے ایک دن پوچھا کہ: "”کامریڈ! ایک پل تصور کریں کہ ساری دنیا سماجوادی (سوشلسٹ) ہوجائے گی، تب کمیونزم کا سورج طلوع ہوگا! اب فرض کرتے ہیں کہ ہوگیا. اب دیکھتے ہیں کہ اس نظام میں نہ تو کوئی پذیرائی ہے، نہ کوئی مقابلہ. سب ایک جیسے، نہ کوئی ظالم، نہ کوئی مظلوم….. انفردایت کچھ نہیں ہے، بس کہ ایک اجتماع…. پھر کیا ہوگا؟”” تب لینن نے مسکرا کر جواب دیا تھا: "”ٹرائٹسکی! اسی سوال کے جواب کے لیے تو ہم کوشاں ہیں، کہ پھر کیا ہوگا؟ ہماری یہ جدوجہد اسی کے جواب پانے کے لیے ہی تو ہے!!!!”” ………
نیاز خیالوی کی ایک مشہور قوالی ہے جسے استاد نصرت فتح علی خان نے گائی ہے، سنی ہوگی آپ نے…. "”تم ایک گورکھ دندھا ہو!”” ملا کے بخشے ہوئے تصورٍ خدا کے بخیے ادھیڑتا ہؤا جب اپنے نقطہٍ عروج پر پہنچتا ہے تب کیا کہتا ہے وہ: اللہ ہو اللہ ہو… سب شکر تیرے، ہر سانس میں تو… اللہ ہو اللہ… بس ہم بھی اسی قطار میں ہیں. کہ کہیں جواب مل جائے کہ پھر کیا ہوگا؟ اور کیا فائدہ؟ (حالانکہ یہ کاروباری قسم کے سوالات ہیں فائدہ اور نقصان جنہیں خلقتٍ کائنات کے ساتھ نہ ملانا ہی ٹھیک اور افضل ہے).
جوسٹن گارڈر کی ایک کتاب ہے "”سوفی کی دنیا””، اس میں ایک کردار ہے””البرٹو””. میرا پسندیدہ کردار ہے . جوسٹن کے پاس البرٹو ہمارے پیر و مرشد کی طرح ہے، جسے سوفی کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا ہے. سو دعا کریں، ہمیں بھی البرٹو کی تلاش ہے. کہ گتھیاں سلجھ جائیں. میں نے اپنی کوشش کی کہ جہاں تک میری سمجھ کام کر رہی ہے اس سے تھوڑا یہاں آپ کے سامنے پیش کروں.