ایک ایسا شخص جس کے لیے رائیونڈ کے شاھی محل میں پاکستان کے چنیدہ دبنگ صحافیوں کو اچھے خاصے روپے دیے گئے کہ اس کو ”بدنام“ کیا جاوے، اور ٹھیک اسی نشست میں اس کا نام ٹریڈ مارک طور پر ”مسٹر ٹین پرسنٹ“ تخلص طے کیا گیا۔ پھر کیا بنا! پاکستان کی طوائف میڈیا نے اس کا وہ ڈھول پیٹا کہ ہم سب اس ہٹلری پروپیگنڈا میں لٹو ہوگئے۔
پی پی کی حکومت ٹوپی سرکار کی مدد سے ہٹ جانے کر بعد وہ سات برس جیل گئے۔ اس کی زبان میں کیلیں ٹھوکی گئی۔ صعوبتیں دی گئی، لیکن اس پر ایک بھی جرم ثابت نہ ہو سکا۔ اور وہ مسکراتے رہے۔
اس نے شہید بی بی کے لیے دنیا جہاں میں لابیاں بنائی، لیکن وہ ”حبِ علی کم بغضِ معاویہ“ کا شکار زیادہ رہے۔ وہ بھٹو کی نسل سے پیوند لگا کر وہی کھرا، بیباک رہا۔ پاکستان میں اب تک میں نے کسی بھی سیاستدان کے اعصاب اتنے مضبوط نہیں دیکھے جتنے میں مسٹر زرداری کے دیکھ رہا ہوں۔ اس کی مسکراہٹ میں یا تو کمال کی معصومیت ہے یا مانا جائے کہ دنیا میں اس سے بڑا فطین اب تک نہ پیدا ہوا ہے اور نہ شاید کہ ہو!
جب پاکستان ٹوٹنے کے عین نزدیک پہنچا تب اس نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر سندھ میں شہید بی بی کی شہادت پر ابھرنے والے انتقام پر ٹھنڈا پانی ڈال کر سب کو چپ کروادیا!
وہ صدر بنے۔
اس کے بعد:
پاکستان میں پہلی بار، این ایف سی ایوارڈ تبدیل ہوا۔ لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں پہلی بار کسی قوم کو اس کی شناخت ملی اور وہ سرحد کی لعنت سے نکال کر پختون کہلوائے، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں پہلی بار دہشتگردی کو سائنسی نقطہ ہائے نظر سے نمٹایا جانے لگا جس میں اچھے اچھے ”مقدس ادارے“ بر سر روزگار نظر آئے اور سب نے دیکھا، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں پہلی بار ”خفیہ اداروں“ کو پارلیمنٹ کے سامنے سر جھکا کر بریفنگ دینی پڑی اور ایسا ایک بار نہیں تین بار ہوا، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ارب ہا روپے بچانے کے لیے پہلی بار۔ ہاں پہلی بار پڑوسی ممالک (انڈیا اور ایران) سے ٹرید شروع ہوا۔ جو کہ دو برسوں کے بعد بلین ڈالر پاکستان کو بچت ہوگی، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں پہلی بار انتہائی مکروہ کردار سامنے نظر آنے لگے، لیکن ہم نے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں۔
تھوڑا اٹھارہویں ترمیم کا سوچیں! کیا یہ صوبوں کو پہلی بار طاقتور نہیں کر رہی تھی؟ لیکن یہ بھی تو کچھ نہیں تھا!
پھر خود اپنے آپ، صدر رہ کر صدارتی طاقت وزیرِ اعظم یعنی پارلیمنٹ کو سونپ دینا، کوئی مذاق تھا؟ یا یہ طاقت کا سارا توازن افراد کے ووٹوں کے حوالے کرنا کہ پھر کوئی بھی سرپھرا صدر پارلیمان نہ توڑ سکے، کہ جس سے کروڑہا لوگوں کے مینڈیٹ کی توہین ہو جاوے۔ بھلا یہ کس نے کیا؟ اسی جناب آصف علی زرداری صاحب نے۔ لیکن ہم نے کہا کیا ہوا؟ کچھ بھی تو نہیں!
اور پتہ نہیں کیا کیا۔
لیکن قیمت؟ کیا سمجھتے ہیں آپ کہ یہ سب ایدھی کی خیرات میں ملنے والے کمبل ہوں گے؟ کیا سمجھتے ہیں آپ کہ جنہوں نے ان عوامل کو باندھے رکھا تھا وہ چپ رہیں گے؟
کبھی میمو تو کبھی کرپشن۔ کیا کیا۔ الزامات کے سارے نشتر زرداری۔ گالیوں کی بوچھاڑ زرداری۔ گندے سے گندے ایس ایم ایس زرداری۔
پاکستان کے تمام محرکات، وہ وفاقی ہوں یا صوبائی، مذہبی ہوں یا سرخے، جمہوری ٹھپہ لگے ہوں یا ٹوپی والی سرکار کا، قوم پرست ہوں یا موقع پرست، ان سب کا مطعون زرداری۔
امریکا کا دشمن بھی زرداری،
عدلیہ کا نشانہ بھی زرداری،
بی بی اخلاقی بیگم عرفِ عام میڈیا کے تمام تیروں کا شکار بھی زرداری۔
تو سوال یہ ہے کہ وہ ہے کیا؟ وہ کس کا ہے۔ وہ کس کا کام کر رہا ہے؟ اپنے تمام تر بادشاہانہ طرزِ زندگی سے نکل کر کیا وہ واقعی ایسا ہے؟ ذرا عصبیت کی تمام عینکیں اتار کر جواب تو دیں!



