کینڈیڈ کل بھی تنہا تھا اور وہ آج بھی تنہا ہے

آپ میں سے کسی دوست نے اگر والٹیئر کا ناول "کینڈیڈ” پڑھا ہے تو اسے ناول کے تین اہم کردار ضرور یاد ہونگے! جن میں اول تو خود کینڈیڈ تھا جو کہ بہت غریب، سادہ دل رکھنے والا، اپنے دل میں کسی کے لیے بھی کوئی بھی بغض نہیں رکھتا اور جو صرف کام پر توجہ دیتا! وہ کم بولتا لیکن کرتا بہت تھا! لیکن اس کے دو دوست بھی تھے.
ایک ڈاکٹر پینگلاس جو ہر وقت انتہا درجے کا خوش امید رہتا، وہ فطرت کی ہر چیز میں خداوند کا کوئی نہ کوئی مقصد نکال کر کہتا اسے رہنے دو، یہ اسی لیے ہی بنائی گئی تھی. وہ انسانوں میں ٹانگوں کے ہونے کا یہ جواز دیتا کہ خداوند نے اس لیے بنائی ہیں کہ ہم پتلون پہن سکیں، ناک اس لیے بنائی ہے کہ اس کے اوپر اپنی عینک سجا سکیں، پتھر اس لیے بنائے ہیں کہ اس سے بادشاہ کا محل بن سکے وغیرہ وغیرہ.
جبکہ اس کے برعکس تیسرا کردار مارٹن کا تھا، جو اچھی سی اچھی چیزوں سے بھی نقائص ایسے نکالتا کہ سننے والا اپنے کان پکڑ لے! وہ کہتا یہ سب بکواس ہے، ہمیں یہاں صرف سزا دینے کے لیے بھیجا گیا ہے، یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہے، جو بھی ہورہا ہے بالکل ننگی وحشت ہے. ہر ماں بچہ پیدا کرتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ ایک مجرم کو یہاں اس جہنم میں لا رہی ہے جو پیدائشی کمینہ ہی ہوگا. اس کی انتہا درجے کی مردہ پسندی سب کو ایسے پریشان کرتی کہ کوئی آدمی اس کے پاس بیٹھنے کو ترجیح نہیں دیتا!
اور یوں ڈاکٹر پینگلاس اور مارٹن کی اٹھتے بیٹھتے آپس میں نوک جھونک چلتی رہتی، وہ دونوں اپنی پوری زندگی میں کچھ نہیں کرتے، بس کہ ایک مدح خوانی میں مست تو دوسرا لعن طعن میں لت! اور بس. اور وہ دونوں اموبیا کی طرح کھاتے، لڑتے اور سوتے گذارتے….
لیکن کینڈیڈ ان سب سے دور انہیں کھلاتا بھی جاتا، ان کی سنتا بھی جاتا اور اپنا کام بھی کرتا رہتا!
اور ایک دن پینگلاس اور مارٹن کی زبانی لڑائی کچھ زیادہ بڑھ گئی. ایک بے تکی بات پر، جس کا نہ دھڑ ملتا نہ سر! وہ قریب تھا کہ گتھم گتھا ہوجاتے کینڈیڈ کے صبر کا پئمانہ لبریز ہوگیا، اور وہ چیخ اٹھا:
"تم لوگ جانتے بھی ہو کہ تم اس دھرتی پر ایک بوجھ ہو اور کچھ نہیں!
تم پینگلاس سنو تم مجھے بتائو کہ خداوند نے ہاتھ صرف کھانے کو دیے ہیں یا کچھ کام کرنے کے لیے بھی؟
اور سنو مارٹن، تم اگر سمجھتے ہو کہ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں یہاں سب غلط ہے تو تم مر کیوں نہیں جاتے؟ ان تمام غلطیوں کو سدھارے گا تو کون؟ ……
محفل میں سناٹا سا چھا گیا.. سب چپ، مجال جو کوئی بولے،
تب پھر کینڈیڈ ہی نے انتہائی نرم لہجے میں خاموشی کو توڑا: "اٹھو، باغ میں بہت کام ہے، چلیں اناج بوتے ہیں، کچھ پیٹ میں جائے تو ہوش بھی سلامت رہے گا! چھوڑو جھگڑا، کام کی عبادت کو جانو.”
پورے ناول میں کینڈیڈ اکیلا تھا، بالکل یگانہ اور اس دنیا کے ناول میں بھی آج تک ہر کینڈیڈ تنہا ہی ہوتا ہے، جو بکواس سے زیادہ عمل پر ایمان رکھتا ہے. یقین نہ آئے تو ذرا اپنے اطراف ایک پل کے نظر تو دوڑائیے…خود ہی پتہ چل جائے گا!