مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ جیسے ہم سب ہالی ووڈ کی دبنگ مووی "”میٹرکس”” کی طرح مایا جال میں پھنسے ہوئے ہیں. کہ جس جال میں ہم سب کے ہاتھ اور پاؤں سے کئی رسیاں بندھی ہوئی ہیں کہ جن کے دوسرے سرے پر ان نامعلوم ایجنٹوں کی انگلیاں ہمیں ادھر سے ادھر کھینچتی جا رہی ہیں! اور اس کرہ ارض پر ہم سب ایک ہی طرح کی حالت میں ہیں اسی لیے تو ہمیں یہ بات حسبِ حال، حسبِ معمول اور حسبِ زندگی کی طرح محسوس ہوتی ہے کہ جس کی الٹ میں کوئی کچھ نہیں کہتا! اس پورے کرہ ارض پر ہم سب ابدی غلامی کا طوق اپنے گلے میں باندھے ہوئے ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھتے پہلے سے طئی شدہ پروگرام کی مانند اپنے اپنے جبری مشقت میں محو ہیں!
"مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ جیسے ہم سب ہالی ووڈ کی دبنگ مووی "”میٹرکس”” کی طرح مایا جال میں پھنسے ہوئے ہیں. کہ جس جال میں ہم سب کے ہاتھ اور پاؤں سے کئی رسیاں بندھی ہوئی ہیں کہ جن کے دوسرے سرے پر ان نامعلوم ایجنٹوں کی انگلیاں ہمیں ادھر سے ادھر کھینچتی جا رہی ہیں! اور اس کرہ ارض پر ہم سب ایک ہی طرح کی حالت میں ہیں اسی لیے تو ہمیں یہ بات حسبِ حال، حسبِ معمول اور حسبِ زندگی کی طرح محسوس ہوتی ہے کہ جس کی الٹ میں کوئی کچھ نہیں کہتا! اس پورے کرہ ارض پر ہم سب ابدی غلامی کا طوق اپنے گلے میں باندھے ہوئے ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھتے پہلے سے طئی شدہ پروگرام کی مانند اپنے اپنے جبری مشقت میں محو ہیں!”
مجھے اکثر ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم سب تپتی دھوپ میں سر ننگے ہوکر بے مقصد دوسروں کا کام کرتے ہوئے اپنا کام بُھلا بیٹھے ہیں کہ جو صدیوں سے ویسے ہی کورا پڑا ہے کہ جس پر اب وقت کی گرد ایسے پڑگئی ہے کہ وہ کام بھی سوائے گرد کے ہمیں کچھ اور نظر نہیں آتا!
اور مجھے بسا اوقات یہ بھی کیوں لگتا ہے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں سہی پر اس میں انسان کا ارادی عمل ننانوے فیصد ہوتا ہے کہ جب بھی وہ چاہے اپنی یا کسی کی بھی زندگی کا دیا بُجھا سکتا ہے. طاقت کی مسند پر بیٹھا ہُوا شخص اپنے گرد نواح میں بسنے والے انسانوں پر ہر وقت ان ایجنٹون کی طرح آنکھیں عقاب کی طرح لگا کے بیٹھا ہوا ہے. کہ لوگ جنگل بسیرا کریں تو ٹھیک، ترکِ دنیا کریں تو اور اچھا، مندروں، مسجدوں، گرجائوں میں سر چھپا کے سادھو سنت ولی یا ربی بن جائیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں، گذشتہ عقائد کو تہس نہس کریں، خیر ہے، لیکن اگر ان میں کسی نے بھی معاشیات پر بات کی تو مسندیں ہل جائیں، تخت خطرے میں پڑ جائیں اور ان کی طاقت میں چھید پڑ جائے اور یوں وہ ملک الموت کے نائب بن کر ہر اس آدمی کی زندگی کا کریا کرم کرنے پر تُل جائیں جن سے انہیں اپنے محل ہلتے ہوئے محسوس ہوتے ہوں!
شاید مجھے عیسیٰ مسیح کی تاریخ اور اس کی تبلیغ کچھ زیادہ یاد آ رہی ہے کہ جس میں وہ مروجہ ربیوں کے درمیاں اگر یہ کہتا بھی تھا کہ میں ہی ہوں وہ جواب، ان تمام سوالات کا جن کے لیے تم سب سے پوچھ رہے تھے، کہ میں ہی ہوں وہ مسیح کہ جس کا یوحنا آپ سب کو بتا رہا تھا.. لیکن ان سب کے بُتوں کے تہس نہس کرنے والے داعی عیسیٰ مسیح کو وہ غیر مضر ہی سمجھ رہے تھے. اس کا حلقہ و احباب بڑھتے بڑھتے یروشلم سے اپنی حدیں پھیلانگ بھی رہا تھا تو کیا ہُوا! ایسا ہوتا رہتا تھا… کوئی فکر کی بات نہیں، اور یوں تاج بھی سلامت تھے تو مذہبی ربی بھی بےفکر، لیکن جب عیسیٰ مسیح ایک قدم اور آگے بڑھا اور محصول والے مٹکے توڑکر کہنے لگا کہ تم خدا کی مخلوق کو بھوکا رکھ کر اپنے پیٹ بھر رہے ہو تب ان کے مذاہب اور ان کے تخت ہلنے لگے اور یوں موت کی چارج عزرائیل سے زبردستی چھین کر اس کو مصلوب کرنے کے پلان بُننے لگے…
اور ایسے ہزاروں، لاکھوں مثالوں کے درمیاں یزید کی مثال بھی سامنے آنے لگتی ہے کہ پورے عرب و عجم کی بیعت لیکر بھی اگر خاندانِ بنی ہاشم بیعت نہ بھی کر رہا تھا تو کیا ہوتا؟ لیکن یزید جانتا تھا کہ اگر یہ خاندان بیعت نہ کرے گا تو اس کا کاروبار نہیں چل سکے گا… پھر انہی میٹرکسی ایجنٹس نے اپنی اپنی رسیاں کھینچی اور یوں کربلا ہوگئی!
مغلیہ دور میں صرف سرمد کہاں دار پہ چڑھا تھا؟ وہاں دھرتی پر سب سے پہلے اشتراکی فلسفہ دینے والا شاہ عنایت بھی تو کام آیا تھا… یہ دنیا کا پہلا سوشلسٹ صوفی، جب اپنی خانقاہ پہ فقیروں کو وحدت الوجود سے وحدت الشہود کی گُتھیاں سُلجھا رہا تھا تب بھی خیر ہی تھی. وہ خُود سے خُدا شناسی کے راستے بنا رہا تھا تب بھی خیر ہی تھی. وہ کہ رہا تھا کہ مارنے والا اور مرنے والا درحقیقت ایک ہی ہستی ہے تب بھی مذہب کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا، لیکن یہی صُوفی شاہ عنایت جب پہلی بار دنیا کے سامنے معاشیات کی ایک نئی اصطلاح دینے لگا کہ یہ دھرتی صرف خدا کی ہے، لہٰذا جو اس کی کھیتی باڑی کریگا وُہ ہی اس کاحقدار ہوگا تب مسندِ مُغل ہل گئے…. ایک بار پھر ایجنٹس اپنی چال اور پروگرام میں گڑبڑی محسوس کرنے لگے اور یوں اسے شہید کروا دیا گیا.
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ نصابی تاریخ ہزار بار جھوٹی سہی لیکن حقیقی تاریخ ہر بار اپنے وہ ہی اوراق پلٹتی رہتی ہے جس میں دشت و خُون سے لبریز حالات اور تخت و تاج کے ورثاء اپنے گھناؤنے جرائم چُھپانے کی تمام تر کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، تاکہ ہم سب کو یہ حُجت نہ رہے کہ فطرت کے پاس انصاف نہیں.
مثال کراچی کے تبت سینٹر پر ٢٣ مارچ ٢٠١٢ پر وہ منصور طبیعت بشیر قریشی، لاکھوں سندھ کے ورثاء کے سامنے جب پوری دنیا کو سندھ کا کیس بتانے سے پہلے کیسا کمال کا شعر پڑھ رہا تھا کہ:
عمر یست کہ آواز ئہ منصور کہن شد
من از سر نو جلوہ دہم دار و رسن را
(زمانے بیت گئے اور منصور کی آواز پرانی ہو چکی۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ از سر نو دار و رسن پہ وہی منظر سجائوں)
یہ وہ بشیر خان قریشی ہے جس کے نوجوانی کی تمام تر زندگانی نوجوان لڑکیوں کی نرگسیت اور گیسؤ کے رومانس سے بہت دور برصغیر میں بیسویں صدی کے بہت بڑے صوفی سائیں جی ایم سید کی تعلیمات میں گذری تھی. جس نے جُھوٹ کی مٹھاس کو خیرآباد کہ کر سچ کا زہر ایسے گھونٹ گھونٹ پینا شروع کیا کہ سقراط بھی دیکھتا تو عش عش کرجاتا کہ میں نے تو صرف ایک بار پیا لیکن اے بشیر تم تو لمحہ لمحہ اسے نوش کرتے رہتے ہو.
یہ وہ ہی بشیر قریشی تھا کہ جو سندھ میں قافلوں کی صورت میں قبائلی تنازعات کو ختم کر وا رہا تھا. جوانی سے لیکر آخری سانس تک اس نے کوئی ایک دن بھی آرام سے نہ گذارا ہوگا ماسوائے جیل کے دنوں سے (جو بھی اس نے آدھے سے زیادہ بھوک ہڑتال میں گذارے ہونگے)
وہ جو بشیر قریشی تصوف میں ایک نئی اصطلاح دے گیا کہ جس میں وہ "”فنا فی السندھ اور فنا فی السید”” کا نمونہ وہ خود اپنے آپ کو بنا کر ہم سب کو تصوف پر گرد ہٹا کر آج کا صوفی ازم دے گیا، یہ وہی بشیر قریشی پورے سندھ میں سندھیوں کے ساتھ ریاست کی طرف سے ظلم و جبر کے خلاف بھوک ہڑتالیں اور پر امن احتجاج کر رہا تھا تو کوئی بات نہ تھی. وہ لاکھوں سندھ کے چاہنے والوں کو ساتھ لیکر اگر کسی تپتے تارکول کے روڈ پر بیٹھ جاتا تو بھی کوئی بات نہیں تھی… لیکن وہ ہی بشیر قریشی اگر کراچی میں لاکھوں سندھیوں کو اکٹھا کر کے پوری دنیا کو بتا رہا تھا کہ یہ ریاست ایک جھوٹ پر بنی تھی جس میں اس جھوٹ کے اوپر پردہ رکھنے کے لیے کبھی یہاں مذہب کے نام پر ناحق خون بہایا جاتا ہے تو کبھی قبائلی اور لسانی لاٹھی استعمال کرکے معصوم لوگوں کو مروایا جاتا ہے، لیکن ہم کسی کے ساتھ نہیں ہیں اور بغاوت کا جھنڈا اٹھاتے ہیں… اور ایسی ریاست کے پیچھے ہم کبھی نہیں چلیں گے کیونکہ ہم اس یگانے سندھی شاعر کے عقیدے والے ہیں کہ: "”کوئی ہے رحمان کی طرف، تو کوئی ہے بھگوان کی طرف، لیکن ہمارا سجدہ اس کی طرف ہے جو ہے بس انسان کی طرف..””
تب پوری دنیا کی وہ طاقتیں جن کے جبڑے انسانی خون کے لال ہیں وہ ہل جاتی ہیں، اور پاکستان کی ریاست کے مہرے اپنے گلے سُکڑتے محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ ایک سازش کی تحت لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب لایا جاتا ہے.
مجھے یہ سب ایک احمکانہ جھوٹ کیوں لگتا ہے کہ جس بشیر قریشی کو انتہائی جفاکشی کے دوراں بھی کبھی فشارِ خون کی تکلیف نہ ہوئی ہو، جس کو کبھی کسی نے "”ای سی جی”” کرواتے نہ دیکھا ہو جس کے چاہنے والے اکثر ڈاکٹر اس کی صحت پر رشک کھاتے تھے وہ ہی بشیر قریشی کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر کے بعد پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہوجائے اور تھوڑی ہی دیر میں اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے کی صورت میں چل بسے! پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں صرف یہ کہ کر کہ اس پر کسی قسم کے تشدد کے نشان نہیں دیکھے گئے اور پھر وہ پوسٹ مارٹم کے اجزاء والے مرتبان ٹوٹ جائیں…!
مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ یہاں ہمارے پیارے ملک کے "”مقدس میٹرکسی”” ایجنٹ فلم میٹرکس کے ایجنٹوں سے کچھ زیادہ فطین ہوں، کہ جن کے پاس کسی روایتی حکیم کے سامنے پڑے مرتبانوں میں بھانت بھانت کے نسخے رکھے ہوئے ہیں کہ جیسے انہیں سب سچ کے مریض لوگوں کی دوائیاں بھر کر سامنے رکھتے ہیں.. کہ بس نام لو اور دوائی لو…. بس قصہ مختصر!
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مجھے آخر ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اسی بشیر قریشی نے اکتوبر ٢٠١١ میں جھوٹے کیس پر "”میٹرکسی ایجنٹس”” کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہوتے وقت جب کہا تھا کہ اس ریاست کو "”زندہ بشیر قریشی سے قتل کیا گیا بشیر قریشی”” زیادہ مہنگا ثابت ہوگا، اور وہ جملہ مجھے آنے وقت کے لیے "”ناسٹرڈمس”” کی پیشن گوئی لگے!
مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہم سب جیسے کارٹیزون کا ٹیکہ لگوا کر اپنے اپنے خول میں جی رہے ہیں کہ جہاں اب ہماری تمام سانسیں ان ایجنٹس کے رحم و کرم پر چل رہی ہیں! کیا یہاں ایسا کوئی شاھ لطیف کا "”مورڑو”” بہت جلد آنے والا ہے کیا جو ہم سب کو زندگی کی کھلی سانس سے روشناس کروائے! یہ مجھے ہیلوسنیشن کے دورے پڑ رہے ہیں یا کچھ اور!”
مجھے اکثر ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم سب تپتی دھوپ میں سر ننگے ہوکر بے مقصد دوسروں کا کام کرتے ہوئے اپنا کام بُھلا بیٹھے ہیں کہ جو صدیوں سے ویسے ہی کورا پڑا ہے کہ جس پر اب وقت کی گرد ایسے پڑگئی ہے کہ وہ کام بھی سوائے گرد کے ہمیں کچھ اور نظر نہیں آتا!
اور مجھے بسا اوقات یہ بھی کیوں لگتا ہے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں سہی پر اس میں انسان کا ارادی عمل ننانوے فیصد ہوتا ہے کہ جب بھی وہ چاہے اپنی یا کسی کی بھی زندگی کا دیا بُجھا سکتا ہے. طاقت کی مسند پر بیٹھا ہُوا شخص اپنے گرد نواح میں بسنے والے انسانوں پر ہر وقت ان ایجنٹون کی طرح آنکھیں عقاب کی طرح لگا کے بیٹھا ہوا ہے. کہ لوگ جنگل بسیرا کریں تو ٹھیک، ترکِ دنیا کریں تو اور اچھا، مندروں، مسجدوں، گرجائوں میں سر چھپا کے سادھو سنت ولی یا ربی بن جائیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں، گذشتہ عقائد کو تہس نہس کریں، خیر ہے، لیکن اگر ان میں کسی نے بھی معاشیات پر بات کی تو مسندیں ہل جائیں، تخت خطرے میں پڑ جائیں اور ان کی طاقت میں چھید پڑ جائے اور یوں وہ ملک الموت کے نائب بن کر ہر اس آدمی کی زندگی کا کریا کرم کرنے پر تُل جائیں جن سے انہیں اپنے محل ہلتے ہوئے محسوس ہوتے ہوں!
شاید مجھے عیسیٰ مسیح کی تاریخ اور اس کی تبلیغ کچھ زیادہ یاد آ رہی ہے کہ جس میں وہ مروجہ ربیوں کے درمیاں اگر یہ کہتا بھی تھا کہ میں ہی ہوں وہ جواب، ان تمام سوالات کا جن کے لیے تم سب سے پوچھ رہے تھے، کہ میں ہی ہوں وہ مسیح کہ جس کا یوحنا آپ سب کو بتا رہا تھا.. لیکن ان سب کے بُتوں کے تہس نہس کرنے والے داعی عیسیٰ مسیح کو وہ غیر مضر ہی سمجھ رہے تھے. اس کا حلقہ و احباب بڑھتے بڑھتے یروشلم سے اپنی حدیں پھیلانگ بھی رہا تھا تو کیا ہُوا! ایسا ہوتا رہتا تھا… کوئی فکر کی بات نہیں، اور یوں تاج بھی سلامت تھے تو مذہبی ربی بھی بےفکر، لیکن جب عیسیٰ مسیح ایک قدم اور آگے بڑھا اور محصول والے مٹکے توڑکر کہنے لگا کہ تم خدا کی مخلوق کو بھوکا رکھ کر اپنے پیٹ بھر رہے ہو تب ان کے مذاہب اور ان کے تخت ہلنے لگے اور یوں موت کی چارج عزرائیل سے زبردستی چھین کر اس کو مصلوب کرنے کے پلان بُننے لگے…
اور ایسے ہزاروں، لاکھوں مثالوں کے درمیاں یزید کی مثال بھی سامنے آنے لگتی ہے کہ پورے عرب و عجم کی بیعت لیکر بھی اگر خاندانِ بنی ہاشم بیعت نہ بھی کر رہا تھا تو کیا ہوتا؟ لیکن یزید جانتا تھا کہ اگر یہ خاندان بیعت نہ کرے گا تو اس کا کاروبار نہیں چل سکے گا… پھر انہی میٹرکسی ایجنٹس نے اپنی اپنی رسیاں کھینچی اور یوں کربلا ہوگئی!
مغلیہ دور میں صرف سرمد کہاں دار پہ چڑھا تھا؟ وہاں دھرتی پر سب سے پہلے اشتراکی فلسفہ دینے والا شاہ عنایت بھی تو کام آیا تھا… یہ دنیا کا پہلا سوشلسٹ صوفی، جب اپنی خانقاہ پہ فقیروں کو وحدت الوجود سے وحدت الشہود کی گُتھیاں سُلجھا رہا تھا تب بھی خیر ہی تھی. وہ خُود سے خُدا شناسی کے راستے بنا رہا تھا تب بھی خیر ہی تھی. وہ کہ رہا تھا کہ مارنے والا اور مرنے والا درحقیقت ایک ہی ہستی ہے تب بھی مذہب کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوا، لیکن یہی صُوفی شاہ عنایت جب پہلی بار دنیا کے سامنے معاشیات کی ایک نئی اصطلاح دینے لگا کہ یہ دھرتی صرف خدا کی ہے، لہٰذا جو اس کی کھیتی باڑی کریگا وُہ ہی اس کاحقدار ہوگا تب مسندِ مُغل ہل گئے…. ایک بار پھر ایجنٹس اپنی چال اور پروگرام میں گڑبڑی محسوس کرنے لگے اور یوں اسے شہید کروا دیا گیا.
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ نصابی تاریخ ہزار بار جھوٹی سہی لیکن حقیقی تاریخ ہر بار اپنے وہ ہی اوراق پلٹتی رہتی ہے جس میں دشت و خُون سے لبریز حالات اور تخت و تاج کے ورثاء اپنے گھناؤنے جرائم چُھپانے کی تمام تر کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، تاکہ ہم سب کو یہ حُجت نہ رہے کہ فطرت کے پاس انصاف نہیں.
مثال کراچی کے تبت سینٹر پر ٢٣ مارچ ٢٠١٢ پر وہ منصور طبیعت بشیر قریشی، لاکھوں سندھ کے ورثاء کے سامنے جب پوری دنیا کو سندھ کا کیس بتانے سے پہلے کیسا کمال کا شعر پڑھ رہا تھا کہ:
عمر یست کہ آواز ئہ منصور کہن شد
من از سر نو جلوہ دہم دار و رسن را
(زمانے بیت گئے اور منصور کی آواز پرانی ہو چکی۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ از سر نو دار و رسن پہ وہی منظر سجائوں)
یہ وہ بشیر خان قریشی ہے جس کے نوجوانی کی تمام تر زندگانی نوجوان لڑکیوں کی نرگسیت اور گیسؤ کے رومانس سے بہت دور برصغیر میں بیسویں صدی کے بہت بڑے صوفی سائیں جی ایم سید کی تعلیمات میں گذری تھی. جس نے جُھوٹ کی مٹھاس کو خیرآباد کہ کر سچ کا زہر ایسے گھونٹ گھونٹ پینا شروع کیا کہ سقراط بھی دیکھتا تو عش عش کرجاتا کہ میں نے تو صرف ایک بار پیا لیکن اے بشیر تم تو لمحہ لمحہ اسے نوش کرتے رہتے ہو.
یہ وہ ہی بشیر قریشی تھا کہ جو سندھ میں قافلوں کی صورت میں قبائلی تنازعات کو ختم کر وا رہا تھا. جوانی سے لیکر آخری سانس تک اس نے کوئی ایک دن بھی آرام سے نہ گذارا ہوگا ماسوائے جیل کے دنوں سے (جو بھی اس نے آدھے سے زیادہ بھوک ہڑتال میں گذارے ہونگے)
وہ جو بشیر قریشی تصوف میں ایک نئی اصطلاح دے گیا کہ جس میں وہ "”فنا فی السندھ اور فنا فی السید”” کا نمونہ وہ خود اپنے آپ کو بنا کر ہم سب کو تصوف پر گرد ہٹا کر آج کا صوفی ازم دے گیا، یہ وہی بشیر قریشی پورے سندھ میں سندھیوں کے ساتھ ریاست کی طرف سے ظلم و جبر کے خلاف بھوک ہڑتالیں اور پر امن احتجاج کر رہا تھا تو کوئی بات نہ تھی. وہ لاکھوں سندھ کے چاہنے والوں کو ساتھ لیکر اگر کسی تپتے تارکول کے روڈ پر بیٹھ جاتا تو بھی کوئی بات نہیں تھی… لیکن وہ ہی بشیر قریشی اگر کراچی میں لاکھوں سندھیوں کو اکٹھا کر کے پوری دنیا کو بتا رہا تھا کہ یہ ریاست ایک جھوٹ پر بنی تھی جس میں اس جھوٹ کے اوپر پردہ رکھنے کے لیے کبھی یہاں مذہب کے نام پر ناحق خون بہایا جاتا ہے تو کبھی قبائلی اور لسانی لاٹھی استعمال کرکے معصوم لوگوں کو مروایا جاتا ہے، لیکن ہم کسی کے ساتھ نہیں ہیں اور بغاوت کا جھنڈا اٹھاتے ہیں… اور ایسی ریاست کے پیچھے ہم کبھی نہیں چلیں گے کیونکہ ہم اس یگانے سندھی شاعر کے عقیدے والے ہیں کہ: "”کوئی ہے رحمان کی طرف، تو کوئی ہے بھگوان کی طرف، لیکن ہمارا سجدہ اس کی طرف ہے جو ہے بس انسان کی طرف..””
تب پوری دنیا کی وہ طاقتیں جن کے جبڑے انسانی خون کے لال ہیں وہ ہل جاتی ہیں، اور پاکستان کی ریاست کے مہرے اپنے گلے سُکڑتے محسوس کرتے ہیں اور یوں وہ ایک سازش کی تحت لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب لایا جاتا ہے.
مجھے یہ سب ایک احمکانہ جھوٹ کیوں لگتا ہے کہ جس بشیر قریشی کو انتہائی جفاکشی کے دوراں بھی کبھی فشارِ خون کی تکلیف نہ ہوئی ہو، جس کو کبھی کسی نے "”ای سی جی”” کرواتے نہ دیکھا ہو جس کے چاہنے والے اکثر ڈاکٹر اس کی صحت پر رشک کھاتے تھے وہ ہی بشیر قریشی کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر کے بعد پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہوجائے اور تھوڑی ہی دیر میں اچانک حرکتِ قلب بند ہوجانے کی صورت میں چل بسے! پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں صرف یہ کہ کر کہ اس پر کسی قسم کے تشدد کے نشان نہیں دیکھے گئے اور پھر وہ پوسٹ مارٹم کے اجزاء والے مرتبان ٹوٹ جائیں…!
مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ یہاں ہمارے پیارے ملک کے "”مقدس میٹرکسی”” ایجنٹ فلم میٹرکس کے ایجنٹوں سے کچھ زیادہ فطین ہوں، کہ جن کے پاس کسی روایتی حکیم کے سامنے پڑے مرتبانوں میں بھانت بھانت کے نسخے رکھے ہوئے ہیں کہ جیسے انہیں سب سچ کے مریض لوگوں کی دوائیاں بھر کر سامنے رکھتے ہیں.. کہ بس نام لو اور دوائی لو…. بس قصہ مختصر!
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مجھے آخر ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اسی بشیر قریشی نے اکتوبر ٢٠١١ میں جھوٹے کیس پر "”میٹرکسی ایجنٹس”” کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہوتے وقت جب کہا تھا کہ اس ریاست کو "”زندہ بشیر قریشی سے قتل کیا گیا بشیر قریشی”” زیادہ مہنگا ثابت ہوگا، اور وہ جملہ مجھے آنے وقت کے لیے "”ناسٹرڈمس”” کی پیشن گوئی لگے!
مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہم سب جیسے کارٹیزون کا ٹیکہ لگوا کر اپنے اپنے خول میں جی رہے ہیں کہ جہاں اب ہماری تمام سانسیں ان ایجنٹس کے رحم و کرم پر چل رہی ہیں! کیا یہاں ایسا کوئی شاھ لطیف کا "”مورڑو”” بہت جلد آنے والا ہے کیا جو ہم سب کو زندگی کی کھلی سانس سے روشناس کروائے! یہ مجھے ہیلوسنیشن کے دورے پڑ رہے ہیں یا کچھ اور!
"



