خوبد صورتی اور بدی کے پھول

جبران کی ایک کتھا ہے کہ:
"جب خدا نے سب کچھ بنا لیا، تب اسے احساس ہُوا کی دو اہم احساس، خوبصورتی اور بدصورتی کے بنانے تو رہ گئے ہیں۔ جن کے نہ ہونے سے سارا توازن ٹوٹ سکتا ہے۔ سو اس نے دو دیویاں بنائیں، ایک خوبصورتی کی اور ایک بدصورتی کی!
دونوں کو گھوڑوں پر سوار کر کے دھرتی پر بھیجا گیا۔ راستہ طویل تھا، دونوں دھُول سے میلی ہو چکی تھی، اور جیسے ہی وہ دھرتی پر اتریں تو پاس میں ہی ایک نہر پر اپنے کپڑے اتار کر نہانے لگی۔
خوبصورتی کی دیوی تیرتے کچھ آگے نکل گئی تو بدصورتی کی دیوی نے یہ موقعہ غنیمت جانا اور پانی سے نکل کر خوبصورتی کی دیوی کے کپڑے پہن کر چلی گئی۔
خوبصورتی کی دیوی جب واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ میرے کپڑے تو گئے! صبح کا وقت تھا، اڑوس پڑوس کے لوگ اٹھنے لگے تھے، تو اس بیچاری نے مجبوری کی حالت میں بدصورتی کی دیوی کے کپڑے جھاڑ کر پہن لیے اور اپنا راستہ لے لیا۔”
جبران کہتا ہے کہ وہ دن اور آج کا دن۔۔۔ بدصورتی، خوبصورتی کے کپڑے پہن کر گھوم رہی اور خوبصورتی، بدصورتی کے! اور ہم سب اس دھوکے میں آکر عمر بھر خوبصورتی کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔
بات بڑی کمال کی کر گیا ہے یہ عالی مرتبت جبران صاحب۔
اس بات کو مزید اگر منطقی حساب سے دیکھا جائے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے دو کمرے ہوں، اور دونوں کے دروازوں کے اوپر ناموں کی تختیاں آویزاں ہیں۔ ایک پر لکھا ہے یہ دکھوں کا کمرہ ہے تو دوسری پر لکھا ہوا ہے کہ یہ سکھوں کا کمرہ ہے۔ لیکن بلکل الٹ ہے سارہ معاملہ، تختیاں بدلی ہوئی ہیں۔ اور ہم اس دھوکے میں آکر سب کے سب اس کمرے میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے اوپر لکھا ہے یہ سکھوں کا کمرہ ہے۔ اور جیسے ہی ہم اندر داخل ہوتے ہیں تب پتہ چلتا ہے کہ یہاں تو سارے کا سارا پینڈورا کھلا ہوا پڑا ہے۔ دکھ، روگ، بیچینی آلام و مصائب۔۔۔
اور شاید ہی کوئی ایسا ہو جو پہلے سے جانتا ہو، اور وہ یہ بھی جانتا ہو کہ دکھوں کی کوکھ سے ہی سکھ پنپتے ہیں۔۔ سو وہ اس کمرے میں داخل ہوتا ہے جہاں تختی پر لکھا ہوتا ہے یہ دکھوں کا کمرہ ہے!
زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ یہاں قدم قدم پر اگر دکھ ہی سامنا کرتے ہوں تو یقین جانئیے ہم نے غلط کمرہ منتخب کیا تھا۔ یہاں اگر دنیا میں بدصورتی زیادہ محسوس کر رہے ہیں تو یقین کر لیجئیے گا کہ ہم سے بہت بڑی بھول ہوگئی ہے۔ اور وہ یہی ہوئی ہے کہ ہم نے پھول تو چنا ہے لیکن گوبر سے نفرت کی ہے، کنول کے گیت تو گاتے ہیں، لیکن گدلے پانیوں کو نہیں اپنایا ہے، ہیرے کو تو سر آنکھوں پر رکھا ہے لیکن کوئلے کی توقیر نہیں کی ہے، توبہ پر تو زور ہے لیکن لذتِ گناہ سے پیادل ہیں، اور یہی ہم سے سب سے بڑی بھول ہوگئی ہے!
کہ جس کے سبب آج ہمارے پاس اچھے اچھے عقیدے، اچھے اچھے عزائم بھی گالی ہی بن کر رہ گئے ہیں۔