نوے میں روس ٹوٹا، مسلم ریاستیں آزاد ہوئی۔ جنوبی ریاستوں کی کئی چنچل گوریاں تجارت کی غرض سے پاکستان آئیں اور صدر کراچی کے پیراڈائیز ہوٹل میں کمرے بوک کرکے رہنے لگی۔
ان کے پاس روسی ساخت کی کیمرائیں، سگریٹ، لائیٹر، ٹارچ، اور چھوٹی موٹی برقیائی آلات ہوتے تھے جو وہ ہوٹل کے سامنے پاسپورٹ آفیس تک چادریں بچھائے ان پر رکھ کر انہیں بیچتیں۔
کئی ٹھرکی لوگ ان کے پاس آتے سستے داموں وہ چیزیں خریدتے اور راتوں کے لیے عہد و پیماں بھی لے لیتے۔
ایک دن میں اور میرا ایک دوست ٹہلتے ٹہلتے چیزیں دیکھ کر ان کی رقم پوچھتے جا رہے تھے، سب سے آخر میں وہ بلانڈ بالوں والی پئنتیس سئنتیس کی عمر والی لڑکی کے پاس پہنچے۔
اس کے پاس ایک ہی کیمرا رکھی ہوئی تھی۔
زوم بس خراب تھا باقی بڑی اچھی تھی۔ بولی اٹھارہ سئو روپے۔ میں سمجھ رہا تھا یہ زیادہ ہے اسے آٹھ سئو روپے کہا تو تو کہنے لگی آپ رہنے دیں۔
میں نے پوچھا کیا نام ہے آپ کا؟
نتاشہ
مسلمان ہیں؟
یئا
شراب پیتی ہیں؟
یئا
ڈیٹنگ کرتی ہیں؟
یئا
دوست نے پوچھا: سچ میں مسلمان ہیں؟
اب تنگ آکر جواب دیا:
آر یو بلائینڈ؟ ایم موزلم۔ ۔۔۔ اوکے؟
آج کئی برس بیت گئے ہیں۔ اور وہ نتاشہ اب لاکھوں نتاشائوں میں منتقل ہوگئی ہے۔ ان میں ہر ایک ہم سے سوشل میڈیا پر ملتی رہتی ہیں۔ اب ان کے ہزاروں نام ہیں۔ لاکھوں چہرے ہیں۔
وہ بالی ووڈ کے بیبی ڈال میں سونے دی جیسے گانے بھی رکھتی ہے تو شاکیرا کی ڈانس وڈیوز بھی۔ وہ عالمی حسینائوں کے پوز بھی اپنی پروفائل پکچر میں ڈالتی ہے تو وال پر احادیث و اقوال بھرے پاٹھ شالے بھی، وہ پکی مسلمان ہے۔
بس کہ زمانہ سازی کا اب تھوڑا سا اس میں فرق آگیا ہے۔
وہ پہلے جسمانی عیاشی کر لیا کرتی تھی لیکن اب صرف نفسیاتی کرتی ہے۔




