بچپن سے دیکھتا آ رہا ہوں، دروازے پر جب بھی کوئی گداگر بھیک مانگنے آتا تو امی کہتی ہے: "شکر ہے در پر سوالی آیا ہے!” اور وہ دو ہتھیلی آٹا بھر کر اسے دیتی. میرے ذہن میں یہ بات آتی رہی ہے کہ سوالی یعنی بھیک مانگنا!
پھر میں نے ایک قوالی سنی، جس میں بھی یہی بات بتائی جاتی تھی کہ تمہارے در پر بھیک مانگنے میں سوالی آیا ہوں!
چلتے چلتے اپنے پرائمری ماسٹر استاد محمد یاسین کی بھی بات کرتا چلوں کہ مرحوم فرماتا تھا: "بیٹا جو سوال کرتا ہے اس کا سر اور ہاتھ نیچے ہوتا ہے..”
میں نے رامائن میں پڑھا کہ جب راون کو اگنی تیر مار کر رام نے چت کیا تب اس کی آخری سانسیں تھی کہ اچانک رام نے اپنے بھائی شتروگھن کو کہا: "مانا کہ راون نے بہت غلط کام کیا لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ وہ بہت بڑا سنت ہے، سو اس سے دان لو!”
شتروگھن نے بہت ادب کے ساتھ راون کے پاس آیا اور ہاتھ جوڑ کر عرض رکھی کہ: "اے بھگت! مجھے کچھ بھینٹ دو، کچھ دان دو کچھ جواب دو!”
راون کے ہونٹ ساکت ہی رہے. تب رام نے اپنے بھائی کو غصے سے کہا: "مورکھ کچھ آداب سیکھ! تم سوال کر رہے تو اس کے سر کی طرف سے کیوں کھڑے ہو؟ جائو، اور پائوں کی طرف سے آئو! کچھ سوال کرنے کے آداب سیکھو!”
اور اسی طرح سے میرے فقیر سائیں نے ایک دن مجھے کہا: بابا سائیں! سوال جب بھی کرنا، تب اپنا سر نیچے رکھنا! کیونکہ جب بھی تم سوال کر رہے تو اپنی حیثیت کا تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ تم کم تر ہو، تبھی تو سوال کر رہے ہو! اور اگر تم سمجھ رہے ہو کہ تم برتر ہو تو سوال کبھی نہ کرنا!”
گذشتہ صدی کے بہت بڑے سنت گرڈجیف نے سوال کے بارے میں کہا کہ: "سوالی کے ہاتھ میں اگر کشکول نہ ہو تو وہ سوالی کیسا؟ اگر سوالی سوال بھی کرے اور اپنی انا کا ہتھیار بھی ساتھ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ رہزنی کرے، کم سے کم سوال تو نہ کرے!”
لیکن میں یہاں دیکھ کیا رہا ہوں؟ سوالی تو ہوتے ہی نہیں، پورے کے پورے ڈاکو نظر آتے ہیں، جو ایک ہاتھ سے سوال رکھتے ہیں تو دوسرے ہاتھ میں اپنے لفاظی کی بندوق تان کر جواب دینے والے کا سینہ چھلنی کر دیتے ہیں! اور میں سوچ میں پڑجاتا ہوں کہ کیا ہم مہذب انسان یہی ترقی کر رہے ہیں؟




