فطرت نے شعور کو ایسے پیدا کیا ہے جس طرح پانی کائی کو جنم دیتا ہے۔
پھر کیا تھا۔۔ فطرت کے کئی خواص شعور میں آگئے جس نے ترقی کرکے فطرت کو بھی انگوٹھا دکھانا شروع کردیا۔
سو پھر فطرت اور شعور کی ابدی جنگ چھڑ گئی ہے۔
اب کیا ہُوا کہ شعور فطرت کا نقیب بن گیا۔ وہ فطرت کے قوانین کھوجنے لگا۔ اور اس کھوج میں وہ اپنی قیاس آرائیاں کرنے لگا۔ (جسے ہم فلسفہ کہتے ہیں)
پھر وہ جب راسخ قوانین جان گیا اور ان کے اسباب و اثرات سمجھنے لگا تو اس نے اس جانکاری کا نام سائنس رکھا۔
اب شعور نے کیا کیا کہ فطرت کے قوانین کو چکمہ دینا شروع کیا، مختلف آلہ کاری کرکے اس نے فطرت کی طرح خود بھی اسباب و اثرات کے سرشتے بنائے اور زندگی کو سہل کرنا شروع کیا۔ (جسے ٹیکنولاجی کا نام دیا گیا)
شعور یہ سمجھ گیا تھا کہ حیوانی زندگی میں معاشرے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، اور بغیر جُھنڈ کے فطرت کے ساتھ ہم نہیں چل سکتے تو اس نے وسیع تر معاشرے بنانا شروع کیا۔
حیوانوں نے مختلف اس نے علامتی زبان کے ذریعے زمان و مکان سے ماورا اپنی بنی نوع کے ساتھ رابطے برقرار رکھے، اور پھر آوازوں سے اس نے زبانیں ترتیب دی۔
لوگوں کو یکجا کرنے کے لیے اس نے ہر قسم کے طریقے استعمال کیے۔
اس ماں کی طرح جو بچوں کو سلانے کے لیے مختلف قسم کے خوف دیتی ہے یا کام کروانے کے لیے لالچیں دیتی ہے، شعور نے بھی وہ ہی طریقہ استعمال کیا۔
اور یوں اس نے خود سے ماورا ہستیاں بنائیں۔
یوں مذہب سے لیکر سیاست اور تمام مکتبہ افکار کی بنیاد ڈالی۔
اب یہاں فطرت کی ایک بات کہی جائے تو بے محل نہ ہوگی۔
فطرت اپنے قوانین میں بہت راسخ ہوتی ہے۔ اس نے رحم یا بیرحمی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔
فطرت میں کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی۔۔ کیونکہ یہ سب "شعور” کی نفاستیں ہوتی ہیں۔
فطرت کا قانون ہے "بڑی چیز چھوٹی کو کھاتی ہے۔”
خلا میں میں بڑے ستارے پاس چھوٹے ستاروں کو ہڑپ کردیتے ہیں۔
جمادات کو دیکھیں: بڑے پہاڑ کے نیچے چھوٹی پہاڑیاں کوئی وجود نہیں رکھ سکتی۔
نباتات کو دیکھیں: بڑے درخت کے نیچے چھوٹی کونپل تب تک نہیں پنت سکتی جب تک وہ بڑا موجود ہے۔
جنگلوں میں دیکھیں: طاقتور جانور کم طاقت والے جانوروں کو کھا جاتے ہیں۔ پرند چرند مچھلیاں، لاروے، کیڑے مکوڑوں میں ہی قانون ہے۔
اور فطرت کے اسی قانون کو شعور نے ٹھینگا دکھانا شروع کیا کہ نہیں۔۔۔ میں تو کمزوروں کو جینے کا حق دینا چاہتا ہوں۔ اور یوں کروڑہا برسوں کی تاریخِ انسانی نے سیکھنا شروع کیا کہ انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق اور یوں "حقوق” کی آوازیں درحقیقت فطرت کو چیلینج ہے شعور کا!
اب فطرت نے دیکھا کہ شعور تو بڑا نافرمان نکلا تو اس نے کیا کیا کہ "اپنے ہمنوا” شعور میں کھوجنا شروع کیے۔ انہیں طاقت سے مزین کیا۔ ان کے شعور سے "اخلاق” کو نکال کر انہیں سمجھایا کہ چونکہ تم طاقتور ہو اس لیے حکومت کرو۔
اب طاقت کا نشہ ملے تو ان فطرت کی طرف گھس بیٹھیوں نے یہاں جو اودھم مچایا ہوا ہے کہ واقعی "شعور” جیسے بیچارہ سا ہوگیا ہے۔
ابھی تو اس نے فطرت کے اور راز کھولنے تھے۔
اس نے زمان و مکان کے تغیر کو سمجھ کر کھولنا تھا۔۔ وہ تصوف کے ذریعے ماضی پرستی کو دھونا چاہتا تھا لیکن یہ کیا؟ فطرت تو دوبارہ قابض ہونے لگی!
لیکن شعور ہار ماننے والوں میں سے ہے ہی نہیں۔۔ کیونکہ وہ بذاتِ خود "فطرت کے حمل سے (Mutant) ہوکر نکلا ہے۔
سو یاروں یہ جنگ رواں دواں ہے۔ ہم کس کی طرف ہیں؟ فطرت کی طرف جس کے پاس کوئی اخلاقیات نہیں، اور (Might is Right) کا قانون ہے یا شعور کی طرف جس کے پاس (Right is Might) ہے۔ یونی جو اچھا وہ بظاہر کمزور ہوگا، سو اسے جینے کا حق دیا جائے۔ جو کہتا ہے کہ معیار اہم ہے مقدار نہیں! یا دونوں طرف؟
ایک بات یاد رکھیے گا۔ شعور کے اندر بھی فطرت کے گھس بیٹھئیے موجود ہیں۔ سو فطرت اور شعور کو گڈمڈ مت کیجئیے گا۔




