ذرا سوچو اس جملے پر کہ کربلا کیا تھی؟ اب تمہیں دو آوازیں سنائی دینگی۔
ایک ایسی آواز جو آہ و فغاں کی کیفیت میں لپٹی ہوئی ملے گی. جہاں ہر طرف ماتم کہ جس میں نوحہ خواں تاریخ کے ایک سفاک واقعے پر سینہ زنی کرتے ہوئے ملیں گے۔ ہر طرف مجالس کا ایک طویل سلسہ تمہیں مسلسل دکھائی دیگا۔ ایک پل کے لیے تم ظاہری اور حالت کی ستم ظریفی والے گھٹن زدہ ماحول میں رہ کر سوچ سکتے ہو کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اب جب کسی گھر میں سکوں والا قہقہ سنائے نہیں دے رہا، خودکشیاں جیسے علاج بن گئی ہے اس سرطان زدہ سماج کا، جہاں عورت کے تقدس کو ایسے پائمال کیا جاتا ہے جیسے انساں نے اب بھی جنگل کے دور سے باہر کی دنیا میں قدم نہیں رکھا، سیاست کی چالبازیاں ایسی کہ پورا عوام تباہ حال ہے۔ جہاں خدا کا گھر تک سلامت نہیں جہاں نمازی نماز پڑھنے سے پہلے ادھر ادھر نگاہ ڈال کر دیکھ رہا ہو کہ کوئی انجانا چہرہ تو نہیں بیٹھا کہ اچانک وہ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے خودکش بم سے اپنے ساتھ سب کے چیتھڑے اڑا دے! ٹھیک ایسے ماحول میں یہ آج سے چودہ سو برس پرانے ایک قضیہ پر نوحہ خوانی، یہ ماتم یہ ماضی پر لعنت ملامت وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔”
تو دوسری طرف تمہیں سینکڑوں ایسی بھی آوازیں سنائی دینگی کہ جن میں تمہیں سمجھایا جائے گا کہ رہنے دو یہ سب. یہ سب دکھاوہ ہے! ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ سب ڈرامہ ہے، یہ سب ایک مخصوص سازش کے تحت اسلام کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ نہ تو ایسی کربلا ہوئی ہی تھی اور نہ اس طرح کو کوئی بھی بات۔ بس یہ ایک مخصوص گروہ کی من گھڑت باتیں ہیں۔ اگر ہوا بھی تھا تو ایسی کوئی بات نہیں کہ جس پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جائے! مزید پوچھنے پر تمہیں مطمئن بھی کیا جائے گا کہ بس یہ دو شہزادوں کے درمیاں "”تو تو میں میں”” تھی۔ جس میں ایک شہزادہ امیر معاویہ کا بیٹا تھا تو دوسرا شہزادہ امیر علی کا بیٹا۔ اور بس سو تم ان باتوں پر ذیادہ اپنا دھیان مت دو۔
ہو سکتا ہے کہ اس سارے تجسس میں تمہیں کوئی اکا دکا یہ بھی کہ دے رہنے دو یہ سب مالک کا کام ہے۔ وہ ہی قتل کر رہا ہے، وہ ہی مقتول ہے اور وہ ہی منصف! یہ حسین ایک روپ تھا، اسی کا، جو یزید بن کر اپنا جلالی چہرہ تمہیں دکھا رہا تھا۔ بس رہنے دو، اس کھیل میں ایک ہی ہستی ہے جو اپنے ڈرامے دکھا رہی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ تمہیں ایسی اور بھی آوازیں سنائی دیں، لیکن خدا نے تمہیں عقل دیا ہے۔ ایک اس کے ساتھ حساس دل بھی کہ جو ایک چیونٹی کو بھی پاؤں کے نیچے آنے پر اپنی دھڑکن بھول جاتا ہے۔ دماغ بھی ایک نہیں، یاد رکھو تمہارے دماغ میں دو حصے ہیں، تم دو دماغی ہستی ہو، جہاں ایک حصہ سوچتا ہے تو دوسرا حصہ ادراک کی وادیوں میں تمہیں لے جا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ تم دوسروں کو تو بیوقوف بناسکتے ہو لیکن ان دو دماغوں کو کبھی نہیں! تم چاہے ان کے جدا جدا نام دو کہ تمہارے اندر ضمیر نام کا کچھ وجود ہے، لیکن ہیں یہ اسی دماغ کے کارنامے! تو ذرا سوچو، غور کرو، یہ کربلا کسی مذہب، کسی فرقے یا کسی قوم کے مابین ضرور تمہیں لگے گا لیکن ایک بات ضرور ذہن میں رکھنا کہ تاریخ میں اس طرح کے گھناؤنے واقعات ظہور میں ہوتے رہتے ہیں وہ چاہے کہیں بھی رونما ہوں، لیکن ان سے پوری انسانی تاریخ بدل جاتی ہے۔ انسان کا جب اندر کا کٹھورپن ، جب اندر کا سامراج، جب اندر کی دوٹکے کی انا بھڑک اٹھے تو ایسے واقعات ضرور ظہور میں آتے ہیں۔ خبردار، کہ تم انہیں کسی زمان و مکاں کی قید میں رکھ کر نظر انداز کرکے تعصب کر بیٹھو! کیونکہ پھر تم اپنی زیست کا مقصد بھول جائو گے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تم مظلوم ہو، اور تم یوں سمجھ کر کہ یہ سب تمہاری تقدیر میں لکھا ہے بیٹھ جائو، یا یہ بھی کہ تم یہ سمجھو کہ صرف تم ہو جس کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے، اور تم سماج کے اس کمینے جمود پر راضی ہوجائو۔ کمپرومائیز کر کے خود کو مطمئن کردو ، یاد رکھنا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ خود پر، اوروں پر ، آنے والی پیڑھی پراور تمام انسانیت پر…!
پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔ یہاں بادشاہوں نے بہت ظلم ڈھائے ہیں، کبھی وہ فرعون بن کر تو کبھی نمرود بن کر، کبھی تاتاری ہیں تو کبھی ہلاکو، چنگیز، سفاک سامراج، ہر وقت اپنی انا، اپنی سامراجیت کو بچانے کے لیے وہ سب کچھ کر گذرتے ہیں۔ کروڑہا انسان ان کے ظلم میں لقمہ اجل بن گئے، لیکن تم نے دیکھا! وحشی دور سے اب تک کتنے موسیٰ، کتنے ابراہیم، کتنے صالح، کتنے رام، کتنے بدھا، کتنے محمد صلعم کتنے حسین گذرے ہیں؟
کھربہا کھربہا انسانوں کے سمندر میں گنو تو کتنے نام تمہیں ایسے ملیں گے؟ بس اتنے کہ ایک کتاب لکھی جائے، کہ جس میں صرف ان کے نام شامل کیے جائیں۔ بس کچھ اور نہیں۔۔۔ لیکن انہوں نے سر اٹھایا…. ظالم کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، وہ لڑے، اور اس راہ میں قتل کیے گئے، لیکن ۔۔۔ لیکن یہ یاد رکھو، آج بھی وہ قتل ہوکر مر نہیں گئے۔ وہ زندہ ہیں، کیوں کہ انہوں نے انسانیت کی پیشانی پر کسی دوسرے کمینے کی تھوک برداشت نہیں کی۔ اور وہ تمہارے، میرے اور سب کے لیے لڑے، تاکہ تمہیں یہ درس ملے کہ ظلم تب تک نہیں مٹتا جب تک اسے مٹایا نہ جائے۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھنا کہ وہ جہاں کہیں لڑے جہاں کہیں ان کا خون بہا، وہ جگہ کربلا بن گئی، وہاں کی خاک آنے والی نسلوں کے لیے خاکِ شفا کہلوائی!
لیکن ظلم یہ ہے کہ ظلم معصوم کے ساتھ پھر پیدا ہوتا ہے۔ تاکہ معصومیت پھر ابھر آئے۔ اور تم یہی تو دیکھ رہے ہو یہاں!
اب دیکھو نہ… آج سے چودہ سو برس پہلے ہونے والی اس کربلا کے ہی تسلسل کو دیکھو ۔
ایک نظارہ کروادیتا ہوں تمہیں۔ اس کربلا کی اب کی کربلا تک کا۔ یہ جدا بات ہے کہ وہ دور اب نہیں، وہ نام اب ظاہری طور پر جسمانی ساخت لیے چلتے پھرتے تمہیں دکھائی نہ دیں، لیکن ایک نظر بس ایک نظر، اپنی آنکھیں بند کر کے دیکھ لو، اس ادراک کی آنکھ سے جس کا ذکر میں نے تمہیں پہلے کیا تھا!
کہ کردار دیکھو، یہ آج بھی وہ ہی ہیں۔ لیکن ایک کردار بڑھ گیا ہے۔ تم نے دیکھا کربلا کا ولن کوئی کافر نہیں تھا ۔۔۔ ذرا سوچو! یزید کفر نہیں کر رہا تھا، وہ حد درجے سے بھی گرا ہوا اپنی تمام تر سفاکی کے ساتھ، نمرودیت، فرعونیت، سامراجیت سے بھرا، ایک غلیظ انا پرست آدمی، لیکن وہ کوئی کافر نہیں تھا۔ اس نے جو سوچا وہ کر دکھایا، چاہے اس کے لیے اسے پوری انسانیت کی طرف سے لعنت کا ٹوکرہ کیوں نہ اٹھانا پڑے، لیکن وہ سامنے تھا! تم نے دیکھا، اس کمینے کردار کے سامنے وہ انسان تھا جو اس حساب سے اپنے باپ اور نانا سے بڑا خوشقسمت نکلا۔ اسے کسی منافق سے پالا نہیں پڑا تھا، بلکہ اس سے جو کہ سرِ عام انسانوں کی تذلیل کرتا، جس نے خدائی ادارے کو سرِ عام پائمال کیا، اسے جہنم کا بھی خوف نہیں تھا بالکل ٹھیک ایسے جیسے حسین (علیہ السلام) کو جنت کی خواہش نہ تھی، کہ بس کہ رضائے خدا وندی…!
اور اس سارے تناظر میں تم نے کیا دیکھا؟ صرف تمہیں ہی کیوں؟ مجھے بھی یہ حیرانگی ہوتی ہے، کہ تاریخ کے اس بڑے گھناؤنے اور عظیم سبق دینے والے واقعے کو آج کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا ہے۔ جیسے تمہیں میں نے پہلے بتایا کہ کچھ لوگوں نے تو اسے کسی خاص فرقے کی میراث سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ وہ سامنے اس لیے بھی نہیں آتے کہ انہیں اگر یزید سے بیزاری کرنی پڑتی ہے تو اس کے لیے انہیں بہت سے کرداروں کو بھی ملامت کرنا پڑے گی، جو کہ ایسے نہیں تھے، ایسا ہی ہے نہ؟ وہ تو ان دنوں کو اور نام دیکر اپنے آپ کو بیوقوف بنانے سے نہیں کتراتے۔ وہ بھی صحیح ہی ہیں اپنی جگہ! اب تک انہیں یہی سکھایا گیا ہے۔ اب ان کا برین واش کیا جاچکا ہے، جیسے ہم سب کا کسی نہ کسی حد تک ہو چکا ہے۔ لیکن ہم لوگ کچھ زیادہ خوشقسمت ہیں، کہ ہم سوچتے ہیں، کہ ہمیں ابھی تمیز کرنا آرہی ہے، تبھی تو آج اس طرح باتیں کر رہے ہیں۔
اور ایک گروہ یہ بھی ہیں، جن کے وقت کی گھڑی بس حضرت حسین علیہ السلام کی کربلا پر ہی رک گئی ہے۔ پس ان کی آنکھوں میں یہ واقعہ کچھ اس طرح سے معلق ہوگیا ہے جیسے انہوں نے سورج کو کئی منٹ دیکھ کر اپنی بینائی کھو دی ہو، اور انہیں اب ہر جگہ وہ منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہ رک گئے ہیں، وہ جمود میں آ چکے ہیں، بس وہ فرد کی محبت تک ہی رہ گئے، اور سبق یاد نہ رکھا، یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے کسی من پسند اور شفیق استاد کے سحر میں مبتلا کسی بچہ کے ساتھ ہو، جو امتحاں میں فیل ہوجائے، کیونکہ وہ بچہ بس اپنے استاد کو ہی دیکھ رہا تھا، اس نے کیا کہا، وہ بھولتا جا رہا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہ بھی شدت میں کچھ اور آگے نکل گئے، بھٹک گئے، کہ وہ ماضی سے جان نہ چھڑا سکے اور حال پتہ نہیں کتنے یزید لیکر ان کے دروازے پر صدا دیتا ہے کہ ہے کوئی اب کا حسین؟ ہے کوئی ایسا جو ٹھیک ایسا ہی کرے جیسا کربلا میں ہوا؟
پتہ نہیں کتنی عزتیں لٹتی رہیں، پتہ نہیں کتنے معصوم مارے گئے، پتہ نہیں کتنی ردائیں لوٹی گئی، پتہ نہیں کتنے شیرخوار بچے بے مقصد جنگوں میں اپنی ماؤں کی چھاتیوں سے جدا کیے گئے، کوئی پتہ نہیں، حساب رکھنا چاہو بھی تو ایک طوفان کھڑا ہوجائے، لیکن وہ رک گئے ہیں۔
حالانکہ اگر ایک پل حضرت حسین علیہ السلام کی مدینہ سے ہجرت کرنے کا سبب معلوم کرو تو کیا فرماتے ہیں وہ؟ کیا جواب دیا تھا اپنے بہنوئی کو؟ ذرا یاد کرو۔۔۔ یہی نہ کہ "”میں اس لیے تو نہیں جا رہا ہوں کہ اہلِ کوفہ کو نماز اور روزہ سمجھائوں؟یہ کام تو وہاں کا پیش نماز بھی انہیں روز بتاتا ہے، میں تو وہاں اس لیے جا رہا ہوں کہ انہیں پتہ چلے کہ امر با المعروف کیا ہوتا ہے؟ جو اس وقت ضروری ہے، (اس وقت) جسے یزید نے طوائف الملوکی بنا دیا ہے، جسے مجھے ہی نبھانا ہوگا، کوئی اور نہیں!””
کیا موت کی تشبیہ فرمائی تھی، کبھی سوچا؟ کبھی اس طرح کسی نے موت کو بیاں کیا؟ کہ: "”اے عبداللہ! ابنِ آدم کے گلے پر موت نے ایسے نشان چھوڑ دیے ہیں جیسے کسی نازک دوشیزہ کے گلے پر گلوبند اپنے نشان چھوڑ دیتا ہے؟”” اب یہاں گارشیا مارکیز، کامیو، جیک لنڈن، دوستووسکی کی تشبیہات اور استعارے کیسے لگیں گے؟ اس نے موت میں بھی کتنا رومانس دکھایا؟ کچھ پتہ چلا؟
کہ اگر موت کسی عظیم مقصد کے لیے ہو تو کتنی حسیں ہوتی ہے۔ اور اب وہ مقصد صرف چند برسوں میں کیسے نیست ہوچکا تھا، ابھی تو اس کے نانہ رسول صلعم نے سمجھایا تھا، لیکن ابھی، جمعہ جمہ آٹھ دن بھی نہ گذرے کہ وہ بھول گئے تھے، تو کیا تھا وہ مقصد؟ تم چاہے اسے ہزار اور جملوں میں بتائو لیکن یہی ہے نہ تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفعہ سوچے۔۔ نفعہ، جسے سب کے لیے ہونا چاہیے تھا، جو اب نجی ہو چکا تھا، اور اس نجکاری کے عمل میں یزید ہر حربہ استعمال کر رہا تھا، کہ اس نے مذہب کو ایسے استعمال کیا جیسے وہ اس کے خاندان کے لیے ہی آیا تھا اور اس کا کل منافعہ اسی کے خاندان پر ہی رک جاتا ہو، اور پھر اس کی یزیدی اتنی بڑھنے لگی کہ انسان بلکتے پھر رہے تھے، کہ جہاں بہنوں کی عصمت دری عام ہوچکی تھی، کہ جہاں ایک مخصوص گروہ بس اوروں کا حق کھانے پر ہی تلا تھا، کہ جب انسانوں میں طبقات بن رہے تھے۔ وہ مقصد یہی تھا، عدل کا، انصاف کا، کہ جس میں روحانی اور مادی طور پر انسانوں میں تفریق کرکے کسی کو ذلیل ترین تو کسی کو افضل ترین کیا جا رہا تھا۔ اور وہ مقصد صرف عرب کا نہ تھا، وہ مقصد کسی شامی، کوفی، مدنی، مکی کا نہ تھا۔ یہ اسلام کا مقصد تھا۔
تم نے غور کیا؟ یہ مقصد لانے والا عجیب فلسفہ تھا، جسے تباہ کیا جا رہا تھا۔ ایسے فلسفے، ایسے مذاہب بہت آئے تھے، بہت نبی آئے، رسول آئے، پیغمبر آئے لیکن یہ مکتب کچھ نرالا تھا۔ اس میں نجکاری تھی ہی نہیں۔ تم نے دیکھا، باقی تمام مذاہب اس کے پیغمبروں کے نام یا جہاں وہ ظاہر ہوئے ان خطوں کے نام سے متعارف ہوئے، جیسے یہودی اس لیے ہوئے کہ وہ یہودہ کے ماننے والے تھے، عیسائیت یوں کہ وہ عیسیٰ کو مانتے ہیں، ہندو اس لیے کہ اہلِ ہند تھے، کنفیوشس، زیونسٹ، یہ سب….! تم بدھ مت کو ہی دیکھ لو، ایسا کون سا مذہب ہے جو کسی خطے کسی فرد کی نجکاری سے بچ گیا ہو، جس پر کسی فرد کی یا علاقہ کی چھاپ نہ پڑے، وہ صرف اسلام ہے۔ جسے کوئی "”محمدن”” نہیں کہ سکتا، جسے کوئی "”عربین”” نہیں کہ سکتا، نوٹ کیا یہ فرق؟ کیوں کہ یہ واحد مذہب سوشلسٹ تھا، جس کا ماننا ہی یہی ہے کہ کوئی اچھا نہیں کوئی برا نہیں بس یہ کہ جو دوسروں کے لیے فائدہ فراہم کرسکے۔ یہاں کسی کو مال بنانے کی اجازت نہیں ہے، یہاں زمین خدا کی ہے، یہاں کوئی امیر تو کوئی غریب نہیں ہے، یہاں کوئی حبشی بھی آجاتا تھا تو اسے اپنے ساتھ کھڑا کیا جاتا، اسے یہ تک نہیں کہا جا سکتا تھا کہ تم تو ٹھہرے حبشی، نہیں نہیں، یہ گناہ کبرہ تھا. تم نے اس پیغمبر اعظم، سرورِ کونین صلعم کی زندگی میں اسے نہیں دیکھا؟ کہ وہ کس طرح اپنے کپڑے رفو کرکے پہنتے تھے؟ اس کا خاندان، سب، وہ بھوکے رہتے، لیکن دوسروں کو کھلاتے، وہ مساوات کا درس دیتے دیتے خود مواسات پر چلتے!
مواسات؟ ہاں یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلایا جائے، مساوات یہ کہ سب برابر کھائیں!
اور اس سارے مقصد کا ستیا ناس کر رہا تھا یہ یزید! جو مذہب کو میراث سمجھ کر چلانے پر تلا ہوا تھا، جو اس انسانی اور آفاقی مذہب کو نجی میراث بنانا چاہتا تھا. حضرت حسین علیہ السلام سمجھتے تھے، کہ اس سے خدا کا کیا بگڑے گا؟ کچھ بھی تو نہیں، خدا کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں، کوئی چاہے تو بھی نہیں… ہاں لیکن خدا کی خلقت تہس نہس ہونے جا رہی تھی، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی اعلیٰ مقصد نجی میراث بنتا ہے تو خون سستا ہو کر رہتا ہے، تفریق بننا شروع ہوجاتی ہے اور انسانیت کی پیشانی پر داغ پڑنے شروع ہوجاتے ہیں، سو امام حسین علیہ السلام اٹھ کھڑے ہوئے! اپنی آواز بلند کی، کہ جس آواز میں خدا کا پیغام تھا، کہ جس میں انسان کی آزادی کا درس تھا، کہ جس میں سامراجیت کو مٹا نے کی للکار تھی۔ اور اپنا خون، اپنا خاندان اس مقصد میں کار آمد کیا تاکہ انسان یہ سمجھ لے کہ سامراج کے لیے ایک کربلا چاہیے ہوتی ہے۔ اوریہی تھی کربلا…. اس دور کی کربلا۔
اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ لیکن کربلا کے ساتھ ظلم کا ایک لامتناہی سلسہ ایک اور بڑھا کہ جس میں اس مقصد کو پائمال کیا جانے لگا، کہ وہ بغاوت پھر نہ بلند ہو، یہ سامراج بڑا کمینہ ہوتا ہے۔ وہ ہر حربہ استعمال کرتا ہے، جیسے تم نے ہیری پوٹر فلموں میں دیکھا ہے، جادوگر بڑے طریقوں سے معصوموں کو پائمال کرنے کے لیے پلاننگ کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح، انسان دشمن فرعونیت، نمرودیت، فسطائیت، یزیدیت نے ایسا جال بُن لیا ہے کہ یہ مختلف طریقوں سے انسان کی ازلی آزادی کے ہمیشہ آڑے آتی رہے۔ اور فطرت نے بھی اس کے سامنے ہر وقت کبھی ہابیل کی شکل میں تو کبھی ابراہیم کی، کبھی موسیٰ کی تو کبھی عیسی کی، وہ کبھی حُسین کی شکل میں نمودار ہوتی ہے، یہ سلسہ رکتا نہیں، تم تاریخ میں دیکھو، ہر جگہ دیکھو، ہر دور میں دیکھو تو ایسے کردار ملینگے، وہ انسان کے ازلی آزادی دینے کے لیے بیدار کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ سب تمہیں کربلا کی طرف اشارہ کرتے ملینگے کہ یہاں تمہارا خون تمہارے آنے والی نسلوں کی آزادی کا پیغام لیکر بہے تو کیا ہوا، تاریخ تمہیں ہماری صف میں ہی کھڑا رکھے گی۔ لیکن دیر مت کرنا، تبھی تو اسی کربلا کے سالار امام حسین علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا کہ ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اٹھوگے اتنی بڑی قربانی دینی پڑے گی۔ لیکن راستہ کربلا کا ہی دیکھنا ہوگا، کیونکہ کربلا ہی جیت کا سندیس دیتی ہے۔”



