کیا سب پنجابی ایسے ہیں؟

کیا پنجاب کی اشرافیہ سے جو آپے شاہیاں لاحق ہو رہی ہیں ان کی سزا تمام پنجابیوں کو ملنی چاہیے؟
یہ وہ سوال ہے کہ جس کا جواب دینے میں یہاں وہاں ہمیشہ سے ہی تعصب بھرا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ابھی قادری مارکہ مارچ سے جو لاہور میں ایک "کھلا سڑکانہ جیل” بنا تھا کہ جس میں کنٹینروں کے نیچے سے گھس کر بوڑھے افراد نکل رہے تھے کہ جن کے چہروں سے بے بسی ایسے جھانک رہی تھی جیسے پورے ملک میں اقلیتوں کے چہروں پر ہر وقت ڈر نظر آتا ہے، یا اوکاڑہ فارم پر برسوں سے وہاں کے کمین، کاسبی، کسانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کہ اب تک وہاں سے ٹھیک ٹھاک لاشیں بھی نکلی ہیں، یا آپ جنوبی پنجاب کے کسی بھی ضلع میں جائیے اور وہاں کے لوگوں کی حالاتِ زار دیکھنے کے بعد کسی بھی با شعور انسان کا جواب یہ کبھی بھی نہیں ہوگا کہ "سارے پنجابی” فاشسٹ ہیں، یا پاکستان کے چھوٹے صوبوں کے ساتھ جو نا انصافی ہو رہی ہے اس میں علی پور کے اس معصوم کسان کا بھی برابر کا ہاتھ ہے جسے وہاں کے چودھریوں نے اس لیے قتل کروادیا تھا کیونکہ وہ پچھلے برس کے قرضے سے ابھی مکت ہی نہیں ہوا تھا کہ دوسرا قرضہ اٹھانے پر اور اناج مانگنے پر آگ بگولہ ہوکر چودھری صاحب کے بیٹے کی قمیص کو پکڑا تھا!
کبھی کسی دوست نے اس بوڑھی عورت کا سوچا ہے جو ریلویز کی پینشن والی قطار میں کھڑی ہو کر مغلپورہ روڈ پر گرمی اور دھکوں سے مر گئی تھی؟ اور اسی طرح پورے پنجاب میں بے کسی سے خودکشیاں، گلیوں کے جرم اور دیہاتوں میں پسے ہوئے لوگوں کا سوچا ہے جنہیں اپنے پیٹ کی جہنم کو لکڑیاں پہنچانے کے لیے کیا کیا نہیں کرنا پڑ رہا۔۔۔ لیکن کبھی بھی سندھیوں، بلوچوں یا پاکستانی مردہ سیاست کے متاثرین نے یہ تک نہ سوچا اور نہ سوچنے کا پروگرام ہی بنا رہے کہ پورا پاکستان ایک مراعات یافتہ گروہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر "رضیہ ناچ رہی کوٹھے پر” کی طرح بے حال و لاچار اپنے ہی زخموں کو چاٹ رہا ہے۔
سندھ ہو یا بلوچستان، پختون ہوں یا گلگتی، ہزارہ ہوں جنوبی پنجاب کے بھولے بھالے عوام، یہ سب کے سب اس مراعات یافتہ ڈنڈے بردار کے جوتوں کے تلے دبتے ہوئے کراہ رہے ہیں۔۔۔ اور مجھے کہنے دیجئیے کہ شمالی اور اس سے وابسطہ کچھ اضلاع میں مقیم وہ گروہ نہ تو قوم پرست ہے اور نا ہی وہ پکا مسلمان بلکہ ایک فاشسٹ، سودخور، اور خطرناک ترین مفاد پرست ٹولے کی شکل میں پورے پاکستان کو پیراسائیٹ کی طرح خون چوس رہا ہے۔
اب یہاں اگر کوئی صاحب یہ کہے کہ مڈل کلاسی پنجابی، مزدور اور کسان کیوں نہیں اس کے خلاف آواز اٹھا رہا اور کیوں نہیں چھوٹے صوبوں کے ساتھ ملکر بغاوت کا جھنڈہ بلند کر رہا تو میرے جذباتی دوستو۔۔ تھوڑا سا تصور ہی کرلیں، اگر ان کی جگہ آپ ہوتے تو کیا آپ ایسا کرتے؟ دوسری بات آٹے میں نمک برابر جو انہیں حق مل رہے ہیں تو کیا انسانی حقوق سے وہ خود ہی دستبردار ہوکر کہیں کہ نہیں جناب دوسرے لوگ نہیں کھا رہے تو ہم کیوں کھائیں؟
دوسری بات یہ تو بالکل ایسے ہی ہیں جیسے امریکی عوام کہ جنہیں حکمران سمجھائے جا رہے ہیں کہ پوری دھرتی کے لوگ تمہاری جمہوریت سے خائف ہیں اور تمہارے درپے ہیں سو اگر تم پناہ مانگتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہاری جان و مال کی حفاظت ہو تو آئو ہمارے ہاتھ پر بعیت کرلو۔۔ سو وہ کرتے ہیں۔ وہ ہالی ووڈ سے لیکر تمام ٹی وی چینل اس پروپیگنڈا میں استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ خوف، تاکہ یہ احساسِ عدم تحفظ امریکیوں کے دلوں میں رہے اور وہ آمنا صدقنا اپنی حکومتوں کا ساتھ دیتے رہیں۔۔۔ ٹھیک اسی طرح پنجاب کا وہ اشرافیہ وہ مالک اپنے قریبی پنجابیوں کے ساتھ کر رہا ہے۔۔ انہیں سمجھائے جا رہا ہے کہ پختون طالبان کی شکل میں، جنوبی پنجاب پنجابی طالبان کی شکل میں اور سندھ و بلوچستان کے لوگ قومپرستوں کی شکل میں تمہاری جان کے درپے ہیں۔۔ دیکھا نہیں ہر جگہ پنجابی مردہ باد، پنجاب پر لعن طعن ہو رہا ہے۔۔ کیونکہ وہ تمہاری محنت سے جلتے ہیں کیونکہ وہ تمہاری زندگی کو اجیرن بنانے کا سوچ رہے، اور سب سے بڑی بات وہ پاکستان کے وجود کے دشمن ہیں اور تم تو جانتے ہو کہ پاکستان یعنی اسلام کا قلعہ سو اس قلعہ کو بچا کر سنت نبوی کے اصولوں پر چلو اور پاکستان کو بچائو۔۔ یعنی ہمارے ہاتھ بعیت کرلو۔۔ جس کے عیوض ہم تمہیں یہ دیں گے وہ دیں گے۔۔۔۔
اور وہ جھوٹا وعدہ، وہ وہ جھوٹے عزم پنجاب کے اس "اشرافیہ متاثرین” پنجابیوں کو یہ ماننے پر مجبور ہی کر چلے ہیں کہ بالکل ٹھیک کہ رہے ہیں یہ مالک۔۔۔ سو کاہے کا بلوچستان، کاہے کی سندھ کاہے کے پختون۔۔ یہاں جو کام کریگا بس انہیں ہی حق ملنا چاہیے سو کام تو ہم کر رہے ہیں سو حقدار بھی ہم ہی ہیں۔۔
اور واقعی کیا وہ سکون میں ہیں؟ کیا واقعی ریاست ان کے حقوق کو نبھا رہی ہے؟ کبھی نہیں۔
اٹھا کر دیکھیں وہاں کے دیہی علائقوں کی خبروں کو، دیکھیں کہ وہ کس طرح دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی مائی کا لال، کوئی بھی قوم پرست پارٹی یہ حقیقت تسلیم کرنے کا سوچتی تک نہیں کہ عام پنجابی ہم سے زیادہ تباہی کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔۔ ایسی تباہی کہ جن کا کوئی سوچے بھی جسم کانپ جائے۔۔۔ اور وہ تباہی کیا ہے؟
عام پنجابی تنہا سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ کہ جس کی زبان کو کوٹھے اور مسخروں کے حوالے کرکے اس پر اردو ملمع کاری کرائی جا رہی ہے، کہ جس کے نصاب میں انہیں فاشزم جیسے زہر سے بھرا جا رہا ہے، کہ جو اپنی ثقافت کو خود ہی ختم کرکے باہر سے اسلامی ثقافت کے نام پر عرب زدہ ہوتے جا رہے ہیں۔۔
کیا اب بھی کسی کو ان پر رحم نہیں آتا؟