کچھ دولے شاہ کے چوہے شکل سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں اور کچھ عادات اور افعال سے جانے جاتے ہیں! (یاد رکھئیے گا کہ آخرالذکر لوگ چند بصیرت والے آدمی کو نظر آسکتے ہیں)
مثال کے طور پر موجودہ الیکشنی جو ہیجانی کیفیت عوام الناس میں پائی جاتی ہے اس سے آپ کیا اندازہ لگا سکتے ہیں؟
ایک طرف آپ سب کہ رہے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی شخصیات نے پورا ملک کھوکھلا کر دیا ہے سو احتساب اب ہمارے ہی ہاتھوں سے ہو!
اور یوں اب سب کے ہاتھ میں ہتھوڑیاں ہیں اور سب کے سب دوسروں کی پیشانیوں کو کیلیں سمجھ کر ٹھوکنے پر لگے ہوئے ہیں!
جہاں اب کوئی اخلاقیات نہیں، جہاں کوئی "دور رس مفادات” کا بھرم نہیں، اپنی دانست میں اب لوگ خدا بن گئے ہیں اور قیامت کی طرح اب منصف بن کر فیصلہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں!
ان چوہوں کو یہ بات قطعی سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان کی ستر سالہ مسلسل جمہوریت کے صرف دس برسوں کا حسن یہ ہوا ہے کہ آپ احتساب کرنے پر آگے آئے ہیں، ذرا یہ سوچئیے کہ اگر وطنِ عزیز میں ستر برسوں کی جمہوریت ہوتی تو کیا ایسی طوائف الملوکی ہوتی جسے آج آپ دیکھ رہے؟
کوئی یہ بات نہیں سمجھ رہا اس ملک کی جمہوریت والی شہزادی کو کون سان دیو ہے جو دور کسی بند کوٹ میں بند کئیے ہوئے ہے جہاں باہر سیدھا لکھا ہوا ہے کہ "یہ شارع عام نہیں، لہٰذا یہاں عوام قدم تک نہیں سکتا”!
میرے بھائی لوگو، احتساب کرئیے۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے، لیکن سچ کو بھی جان کر کیجئیے۔ اس ملک کا ہر چور پکڑئیے، اسے سزا دیجئیے۔۔۔
لیکن چورسازوں کا بھی احتساب ضرور ہونا چاہئیے!




