مجھے بس وہ ہی رہنے دیا جائے جو کہ میں ہوں

مجھے میتھمیٹکس قطعی سمجھ میں نہیں آتی، اور سچ ہے کہ میں حساب کتاب میں بالکل صفر ہوں، حقیقت یہ ہے کہ مجھے آٹھ کا پہاڑہ تک نہیں آتا، تو میں اس کمی کو محسوس کرکے کبھی بھی کسی میتھ پڑھانے والے یا پڑھنے والے سے نہیں الجھا، مجھے نہیں آتی تو میں کیا کروں!
اب حساب و الجبرا سے وابستہ تمام کام میرے لیے بالکل محترم ہیں، میرے لیے پہیلی ہیں، تبھی میں حساب کتاب کی گلی سے نہیں گذرتا! یہ میرا کام نہیں ہے. میرے اکثر دوست بہترین باورچی بھی ہیں، طرح طرح کے کھانے بناتے ہیں، کمال کے کھانے، لیکن مجھے انڈہ آملیٹ، چائے اور کافی بنانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا! سو میں ان سے کبھی نہیں الجھا کہ یہ کیا کررہے ہیں یہ کھانا اس طرح بنتا ہے یا اُس طرح…
اس زندگی میں ہزاروں کام ہیں جو مجھے نہیں آتے، ہاں کچھ کو سیکھنے کی کوشش میں ہوں، آجائیں گے پھر بات کریں گے! لیکن جب تک نہیں آتے میں کسی سے نہیں الجھتا!
اور بھی کام ہیں، اور بھی مکتب ہیں…. ضروری ہے کیا کہ جو "احمد علی” کرتا ہے وہ ہی میں بھی کروں! میرا کُلی یہ ماننا ہوتا ہے کہ جس کا کام اس کو سانجھے!
میں یہ بھی مانتا ہوں کہ محاذِ جنگ میں جہاں ایک توبچی یا بندوق ہاتھ میں تھامے سپاہی موت سے ہمکلام ہوتا ہے اور جس کی سچ میں بڑی اہمیت ہوتی ہے لیکن میں اس باورچی کو بھی اسی طرح اہم سمجھتا ہوں جو اس سپاہی اور اس جیسے سینکڑوں سپاہیوں کو کھانا تیار کر کے دیتا ہے. یہ پورا سماج جہاں غلاظتیں لیے جگہ جگہ ہمیں جیسے منہ چڑاتا ہے لیکن ساتھ ساتھ خوبصورت رنگوں والے پھول بھی ہیں، میلے گدلے پانی میں وہ کنول کا پاکیزہ پھول بھی ہے، ذرا دیکھو تو کس طرح غلیظ کھاد سے اپنے چہرے اُس کی تہوں کو توڑتے گلاب اور موتیے بر آمد ہورہے ہیں! اکثر اس کثافت بھری دنیا میں مجھے یہی تو خیال آتا ہے کہ یہاں ہر جگہ "بدی کے پھول” کس طرح اپنی پاکیزگی سے بتاتے رہتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی ظالموں کی نسل نہیں پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی مظلومین کی، یہاں ظالموں کی کوکھ سے مظلوم پیدا ہوتے ہیں، اور اکثر مظلوم ظالم بھی پیدا کرتے ہیں…. یہاں فرعون کے گھر میں موسیٰ بھی پرورش پاتا ہے تو نوح کے گھر میں اس کا بد دیانت بیٹا بھی! کوئی اچھنبے کی بات نہیں… لہٰذا جو چل رہا ہے چلنے دو، یہ کھیل ہے جہاں جب تمہاری باری آئی گی تم خود ہی کُود پڑوگے، کوئی اپنے آپ پر جبر نہیں، کوئی خود پر دوش نہیں، بس سمجھو، سوچو، اور جان لو کہ تمہیں یہ پکا پتہ ہونا چاہیے کہ تمہیں کب تماشہ بننا ہے اور کب تماشائی…
مجھ سے اکثر دوست پوچھتے ہیں کہ مرنے کے بعد تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہارا کیا ہوگا؟
اور میں ان کا منہ دیکھتا ہوں…. سو میں اس پل کو گنوا کر اُس پل کا سوچوں جو ابھی آیا بھی نہیں! یعنی خدا نے مجھے پیدا ہی اس لیے کیا کہ تم ابدی انتظار کرو! اور اُس پل کے لیے کچھ کرو! اور اگر واقعی ایسا ہی ہے تو کیا یہ میں خاک چھان رہا ہوں؟ یہی تو کر رہا ہوں میں! اپنی ڈیوٹی میں ہی تو جُٹا ہُوا ہوں میں.. میں کیا کر رہا ہوں، اس پر مجھے کوئی ندامت نہیں لیکن یہ مجھ میں تمیز ہے کہ میں کسی اور کا کام نہیں کر رہا! مجھے اپنا ہی کام کرنا ہے، جو میرے لیے ہے. میں کسی کا بھی کام نہیں کر سکتا، کیوں کہ اگر میں نے کسی اور کا کام کرنے کی ٹھانی بھی تو دو نقصان ہوتے ہیں، ایک تو یہ کہ میرا اپنا کام آدھا رہ جائے گا دوسرا یہ کہ میں جس کا کام کرنے کا سوچوں بھی تو یقین مانو میں اس کو جیسے بیروزگار کرنے جا رہا ہوں…
میں کیا ہوں؟ اچھا یا برا… مجھے سمجھ نہیں آتی نہ ہی میں تصدیق چاہتا ہوں، بس یہ پتہ ہے کہ جو مجھے آتا ہے وہ کر رہا ہوں، اور ہاں کوئی مجھے یہ سمجھے کہ میں خدا کو کھوجتا ہوں تو وہ اول نمبر کی غلطفہمی میں ہے… میں نے کبھی بھی خدا کو کھوجنے کی جستجو نہیں کی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کھوجا وہ جاتا ہے جو پاس نہ ہو… خدا تو ازل سے پاس ہے، سو میں کیوں کھوجوں اسے؟ ہاں البتہ یہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد مسلسل مجھ پر سماج کے کنکر پتھر چپٹائے جا رہے ہیں میں اکثر انہیں اپنے وجود سے ہٹاتا رہتا ہوں… کیونکہ میں میلا نہیں ہونا چاہتا.. بس
کچھ لوگ مجھے اس دور کا ولی صفت سمجھتے ہیں، اور میں مسکراتا ہوں… ان کی ولایت پر، حقیقت میں وہ خود ولی ہوتے ہیں. آپ یہی سمجھتے ہیں کہ ولایت کچھ اور دیس کی گنگا ہے تو میرے دوستو، جس دور میں ہم سب سانس لے رہے ہیں وہاں ثابت قدم رہنا ہی بڑی ولایت ہے. وہ دور گذر گیا جب انواع و اقسام کے انبار لگے ہوئے ہی نہ تھے، آج اس کرہ ارض پر جب ہم سانس لے رہے ہیں تب یہ دھرتی ساڑھے سات ارب نفوس کو کھانا کھلا رہی ہے، کبھی سوچا؟
یہ وہ دور نہیں کہ زلیخا کو صرف یوسف پر آنکھ ٹکی ہوئی تھی… یہ وہ دور نہیں جہاں بلقیس پر وارفتگہ ہو کر سلیمان نے صبا کو فتح کرنا چاہا تھا! یہ وہ دور نہیں جہاں فراعنہ اپنی جوانی کو بچانے کے لیے ہزاروں نوجوان لڑکوں کو قتل کروا کر ان کا خون اپنے جسم پر رگڑتے رہتے تھے… یہاں ایک سے ایک حسن کی دیوی سامنے ہے، یہاں ایک پل میں ٹھنڈے کمرے کو گرم اور گرم کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے، یہاں چند گھنٹوں میں ہزاروں میل کا سفر طئے کیا جاتا ہے… یہ دور بہت اہم ہے.. یہاں قدم قدم پر تمہارے لیے آزمائشیں ہیں لیکن تم ان تمام عیاشیوں کو مسترد کردیتے ہو، یہاں تم جنگل میں کہاں جا سکتے ہو، اب جنگل نہیں رہے اب تمہیں اس انسانوں کے جنگل میں رہ کر اپنی عبا بچانی ہے اور اگر تم بچا لیتے ہو تو تم ولی ہو… بہت بڑے سنت، اور یہی بات ہے جو میں تمہیں بتا رہا ہوں.. کہ خبردار کبھی بھی پائوں نہ بہکے، بس چلتے رہو…
تم نہیں جانتے وہ تمہیں ہر طرح کی لالچ دیتے ہیں، تم اگر مذہبی ہو تو تمہیں جنت کا لالچ دیا جائے گا، اور اگر تم مذہب کو نہیں مانتے تو تمہیں وہ اس دہر کی تمام عیاشیوں کی لالچ میں ڈبویا جائے گا… لیکن تمہیں کرنا وہ ہی ہے جو تمہارے اندر تمہارے اپنے وجود کی "جاب ڈسکرپشن” میں بتایا گیا ہے… بس تم وہ پرچی نکالو، اور سمجھو کہ تم کیا ہو اور تمہیں کیا کرنا ہے.
اس لیے بھول کر بھی وہ کام مت کرنا جو تمہیں نہیں آتا یا جو تمہارا نہیں ہے… وہ تم ان کو کرنے دو جن کا ہے، یہ دنیا کو بہت بہکایا گیا ہے.. اس کائنات میں سب اہم ہیں.. سب کے سب! مالک نے بنایا ہے تو کوئی اہم کام کی وجہ سے ہی بنایا ہوگا، یہاں بلا ضرورت کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے سب کو اہم مانو، سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنے دو، سب کریں گے اگر تم نے صرف اپنا کام کرنا شروع کیا تو.. لوگ اس لیے بیروزگار ہیں کہ ان کے کام کوئی اور کر رہے ہیں… سو نہ تو تم بیروزگار بنو نہ کسی اور کو بنائو!