ماسی….. زندہ آباد

(طنز و مزاح)

“ماسی…..” جسے ہندی آمیزش کے ساتھ گجراتی اور سندھی میں “ماں + جیسی / ماں + سی) یعنی ماں جیسی اصل میں تو ماں کی بہن کو کہا جاتا ہے، جسے اردو زبان میں خالہ کا نام دیا جاتا ہے، وہ “ماں جیسی” ماسی صدیوں کا سفر کرتی آج جس حالتٍ اعتبار و بے اعتباری کے درمیاں کھڑی ہے اس پر بلاگ لکھنے کو دل کرتا ہے.
ماسی، جسے راجستان میں “موسی” بھی کہا جاتا ہے، یوں تو دیکھا جائے ایک بڑے شان و شوکت سے بقا کی جنگ ڈارون کے نظریہ (Fittest of Survival) کے حساب سے لڑتی جھگڑتی ہوئی ملے گی، آپ بھی کہیں گے کہ امر کو کیا ہؤا وہ آج کن خرافات میں پڑ گیا! لیکن خواتین و حضرات میں نے کبھی بھی اپنی زندگی میں پپھیوں. نانیوں، دادیوں کے اتنے روپ نہیں دیکھے جتنے اس ہر جگہ خودبخود پید ہونے والی “بنتٍ حوا” کے دیکھے ہیں.
خود ہی دیکھ لیجیے گا! مثال میں نیچے ماسیوں کے اقسام درج کر رہا ہوں:
1، رشتے کی ماسی
2، گھرو ماسی
3، سماجی ماسی
4، سیاسی ماسی
5، موسادی ماسی.
1 ، رشتے کی ماسی: یہ وہ ماسی ہے جسے ہر کوئی بھانجا یا بھانجی چاہتی ہے (یا نا چاہتا/چاہتی ہے). اکثر اپنی بہن (یعنی ہماری امی) کےگھر آتی جاتی ہے، اکثر ماسیاں خالی ہاتھ آتی ہیں اور بھرے ہاتھوں واپس جاتے دکھائی دیتی ہیں، اپنے شوہروں کی برائی اور اپنے بہنوئی کی تعریف کرنا ان کی مرغوب ہابی ہوتی ہے. (اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کا اپنی بہن کے گھر آنا جانا صرف اسی ایک عادت کی وجہ سے لاحق ہوجاتا ہے. بہرحال عمومی طور پر وہ ایک غیر مضر سی ماسی ہمارے ذہنی انسائیکلوپیڈیا میں درج ہے.
2۔ گھرو ماسی: بہت غریب اور معصوم اکثر جھوپڑ پٹیوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والی یہ ماسی حقیقی طور پر مارکسی پرولتاریہ ماسی ہوتی ہے. جو کہ امیر گھرانوں میں پورا دن اور اوسط درجے کے گھروں میں پارٹ ٹائیم نوکری کرتی ہے. برتن، کپڑے اور گھر دھونا انکا کام ہوتا ہے، (کچھ چالاک ماسیاں یہاں بھی پائی جاتی ہیں جو دوسری چیزوں کو دھونے کے ساتھ اکثر مالکوں کی جیبیں بھی دھو دیتی ہیں.) ان کے شوہر اکثر سرکاری دوا خانوں کے مریض ہوتے ہیں، یا اپنے آباء و اجداد سے ملنے لمبے سفر کو کوچ کر چکے ہوتے ہیں. اس طرز کی ماسی آپ کو بڑے شہروں میں عام دکھائی دے گی.
3، سماجی ماسی: کہتے ہیں کہ جب برٹش براڈکاسٹنگ سروس عرفٍ عام بی بی سی کی سروس نہیں چلی تھی اس سے قدیم زمانے (بھلے چاہے قبلٍ مسیح ہی کیوں نہ ہو) وہاں سے یہ باخبر “خبر رساں ادارے کی طرح محلوں محلوں میں جا جا کر دوسرے گھروں کی خبریں پہنچاتی، اور با الخصوص جب وہ دیکھتی کہ کچھ گھروں میں آپس کی نوک جھونک چل رہی ہے تو یہ ماسی وہاں اپنے تمام ذرائع استعمال کرکے یعنی مرچ مصالحہ ڈال کر خبریں اوپیرا انداز میں پہنچاتی، جس کا نتیجہ پھر یہ ہوتا کہ وہ سرد جنگ اکثر رشتوں کے ٹوٹنے کے بعد ہی ختم ہوتی. رشتوں پر یاد آیا کہ یہ ماسیاں رشتے کروانے اور تڑوانے کی خاص مہارت رکھتی ہیں. ان کے خدو خال آرام کے ساتھ ہر آدمی پہچان سکتا ہے.
یعنی، طالبانی ٹائیپ کا برقعہ برائے نام اوڑھا ہوتا، برائے نام اس لیے کہ ماسی کا پورا چہرہ نظر آتا، اس ماسی کو گلیوں میں ریڑھے پر سبزی فروش سے لیکر بڑے بڑے صراف بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں. وہ اکثر شادی وغیرہ پر گاہک انکو پھنسا کر دیتی اور بعد میں آکر اپنی کمیشن لیتی ہے. یہ ماسیاں سفلی عاملوں سے اچھی خاصی آؤ بھگت کرتی جن سے وہ پھر فرمائشی تعویز ٹونا ٹوٹکے کروا کر ضرورتمندوں کو دوگنے داموں بیچتی ہیں. میر صاحب کہتے ہیں کہ ان ٹائیپ کی ماسیوں کے پاس پورے محلوں کی وہ وہ اطلاعات ہوتی ہیں جو “نادرا” کو بھی نہیں ہوتی. یہ فری لانس ماسیاں بہت امیر بھی ہوتی ہیں، لیکن ان کے پئسے جاتے کہاں ہیں، یہ آج تک ہمیں نہیں معلوم ہؤا! کیونکہ ان ٹائیپ کی ماسیاں دایہ گیری بھی کرتی ہیں، اور اکثر چور اچکے انہیں کے ہاتھوں اس فانی جہاں میں آنکھ کھولتے ہیں. لہٰذا مجال ہے کہ کوئی چور ان کی طرف دیکھے بھی. لچھنوں کا تو ہمیں معلوم نہیں، ہاں لیکن ان کی طرف داری بڑے بڑے تاجر بھی کرتے، پولیس بھی ان سے ڈرتی ہے، وجہ کہ اکثر پولیس کے آدمیوں کی بیٹیوں، اور بہنوں، حتیٰ کہ ان کی اپنی شادیاں بھی انہی کے طفیل ہوتی ہیں.
بقول میر صاحب کے میری بڑی بیٹی، صرف انہی ماسیوں کی وجہ سے پیلے ہاتھ نہ کر پا سکی. کیونکہ وہ جن بھی امیدواروں کو گھر لے آتی وہ میری بیٹی کو کچھ اس انداز سے دیکھتے جیسے بازار سے بکری خریدنے آئے ہوئے ہوں! پاکستان میں گھرو زندگی خوشگوار ہونے (اور نہ ہونے) کے کافی اسباب انہیں ماسیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں.
4، سیاسی ماسی: خواتین و حضرات، آپ مانیں یا نہ مانیں، لیکن میم سمیت شرف پرویز پاکستان میں اس ٹائیپ کی ماسیوں سے بڑے نالاں تھے، لہٰذا اس نے کافی ماسیاں تبدیل کی، نہیں تو انیس سو باون کے بعد ہمارے ملک کی باگیں اکثر ایسی ماسیوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی. ضیاء نے تو ماسیوں پر کچھ مارشلائی حدود بھی رکھے لیکن، وہ ماسیاں کافی انداز میں باہر چلی گئی. پاکستان کی ایک صفحہ اول کی سیاسی پارٹی میں تو ماسی ہی ماسی کی سنی جاتی تھی. سلام ہے ہمارے پیارے صدر زرداری صاحب کو، جس نے آکر انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ان ماسیوں سے جان چھڑائی، نہیں تو اکثر یہ سنا گیا کہ شہید بیبی کو بھی ہر وقت ایک ماسی ہی جیسے تھامتی رہتی.
ضروری نہیں کہ یہ ماسیاں صرف پاکستاں کی سیاست میں ہی اول دستہ میں ہوں. خدارا! آپ ہومر کی “اوڈیسی” اٹھا کر پڑھیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا بڑا دیوتا “زیوس” بھی اپنی ماسی کم بیوی، کم بہن، کم بیٹی ہیرا کے اشارے پر تگنی کا ناچ نچتا، اور دوسرے دیوتاؤں کو تاراج کرتا. سنا ہے کہ آدھی دنیا فتح کرنے والا سکندر اعظم بھی اپنی ماسی کے اشارے پر چلتا تھا! جسے وہ اکثر ماں ہی کہتا تھا، یہ جدا بات ہے کہ اس ماسی نے پھر اس کا کیا حال کیا، بالکل ایسے جیسے چودھویں صدی میں برطانوی بادشاہ فریڈ کا حال اپنی ماسی کی وجہ سے ہؤا تھا، جو پھر عمر بھر اپنی مردانگی کھو جانے پر روتا رہا! امریکا میں تو ابھی کل کی بات ہے. انا کونڈا سانپ جیسی کونڈو ماسی نے پتہ نہیں دماغی مریض امریکی صدر بش پر کیا جال بچھایا کہ وہ اس کے آگے رام ہی ہوجاتا!
حضرات کیا آپ یقین کرینگے کہ امریکی بینکوں میں سب سے زیادہ کن کے اکائونٹ ہیں؟
ان ماسیوں ٹائیپ کے، جو اپنے شوہروں کو سیاسی چالوں میں پھنسا کر اپنے کیفرٍ کردار تک پہنچا کر انشورنس اور بقایا ملکیت کی اکیلی وارث بن جاتی ہیں.
کہتے ہیں کہ اسرائیل کی پہلی وزیرٍ اعظم بھی ایک ماسی تھی. بڑی استاد طرز کی، کیا کہنے اس ماسی کی چالوں کا. بہر حال اس ٹائیپ کی ماسیاں دنیا چلاتی ہیں. مرد تو برائے نام ہوتے ہیں، صرف تبرے بازی سہنے کے لیے، نہیں تو ہر کمینے ملک کے بادشاہ / صدر / وزیرٍ اعظم کی پشت پر ان کی ماسیوں کا ہی آشیرواد ملے گا.
5، موسادی ماسی: کہنے کو تو یہ نسل نشاطٍ ثانیہ کے بعد ظاہر ہوئی، لیکن ان کی جڑیں بہت پرانی ہیں. یہ فرعون کے زمانے میں بھی تھی، جو جاسوسی کرکے فرعونوں کو بتاتی تھی. دیکھا جائے تو یہ ماسی صفت نسل، دوسری طرز کی ماسی یعنی “سماجی ماسی” کی ترقی یافتہ شکل ہے لیکن یہ ٹائیپ اب اپنی شناخت بالکل جدا کر چکی ہیں. دوسری جنگٍ عظیم میں اتحادیوں نے اس ماسی ٹائیپ نسل کا استعمال باقائدہ بنیاد پر کیا، جرمنی میں ہٹلر کو خودکشی کی طرف مائل کرنے میں آپ سب کو ایک ماسی ضرور نظر آئے گی، جو بعد میں فرانس بھاگ گئی اور ایک بڑی سی کاوئنٹی کی مالک بن گئی. بھارت ایسی ماسیوں کو گھاس نہیں ڈالتا، کیونکہ اس کے پاس اس طرح کے کاموں کے لیے بہتر سے بہتریں نعم البدل موجود ہے. یعنی بالی ووڈ اور را!
روس کو توڑنے میں مادام ہری کا کردار اس ٹائیپ کے ماسی سے ملتا جلتا ہے، جو اپنے کتے کی مدد سے گورباچوف کی ننہی نواسی تک پہنچ گئی تھی. اس سے قبل روس میں زار شاہی کے دوراں ہر زارینہ (روس کے بادشاہ کی بیوی) کے پاس ایسی چار پانچ ماسیاں ہوتی جو انکو انکے میاں کے لچھنوں سے با خبر رکھتی تھی.
سو حضرات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ملک ٹوٹیں یا بنیں، گھر تباہ ہوں یا جنت کا گہوارہ بنیں، لیکن ماسیوں کا ہر حال میں بول بالا ہے.
انکا کچھ نہیں بگڑنے والا، بس ہماری بگڑے تو کیا ماسیاں زندہ آباد.
(چلتے چلتے پاکستانی ماسیوں سے گذارش: کہ چند روز اور میری جان فقط چند ہی روز…….. ضروری نہیں کہ اسیمبلی میں ہر وقت نوجوان ایم این اے یا ایم پی اے ہی آئیں، زرداری صاحب پھر نہیں آئے گا، اگلی پچھلی باری تو آپ کی ہی آئے گی)