ظُہیر بن قین کربلا کا ایک سبق آموز کردار

وہ ایک کاروباری آدمی تھا۔ دین و دنیا کے فرق سے آزاد، بس وہ اپنے اہل و عیال کے لیے مال بنانے کی ایک مشین تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی بلا کی پھرتی تھی، تبھی تو اہلِ عرب میں اس کا اثر رسوخ بڑھتا جا رہا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک جنگ میں اس کا مال لٹا تھا، لیکن وہ اسے پھر سے اپنے کاروباری طریقوں سے بھرنے میں جٹا ہوا تھا کہ اس کی چھٹی حس نے اسے کچھ اور بتایا۔ وہ گھبرانے لگا تھا۔ مدینے کی گلیوں سے اسے چند دن ہوئے کچھ عجیب طرح کی آمد رفت دیکھنے میں نظر آرہی تھی۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ شام کے سفیر اور چوبدار آجا رہے تھے۔ وہ ہر اس آدمی سے مل رہے تھے جو خاندانِ بنی ہاشم کے قریب تھا اور انہیں یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر اسے مجبور کر رہے تھے۔ لیکن خاندان بنی ہاشم یزید کی سب سے بڑی رکاوٹ ہو رہا تھا۔
اسے مختلف لوگوں سے یہ تک خبر ملنے لگی کہ شاید جنگ سر پر آرہی ہے۔ اور وہ ایک کاروباری آدمی! اپنا سب کچھ اپنی دانست میں لٹتے دیکھ پانے کا متحمل نہیں تھا۔ سو اس نے بڑی سوچ سمجھ کے ساتھ مدینہ سے مستقل ہجرت کرکے اپنے سسرالی علائقہ کوفہ کی طرف جانے کی ٹھان لی۔ اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا، اور تیاری کرنے لگا۔ اس نے مدینہ چھوڑنے کی ایسی تیاری کرلی کہ کسی کے کانوں کان پتہ تک نہیں چلنے دیا۔ اور ایک رات وہ بمع اپنی بیوی اور چند نوکروں کے اپنا مال متاع خچروں اور گھوڑوں پر لاد کر مدینہ سے چل نکلا۔ اس کا نام ظُہیر بن قین تھا۔”
اب یہ اتفاق تھا یا تقدیر کے لکھے ہوئے کاغذ پر عجیب تحریر، کہ اسے مدینہ چھوڑنے کے بعد راستے کی پہلی ہی منزل پر ایک دھچکا سا لگا۔ اسے معلوم ہوا، کہ کچھ ہی فاصلے پر ایک اور بھی قافلہ سفر میں ہے۔ وہ کہاں جارہے تھے، کم از کم اسے پتہ نہیں تھا، لیکن جب اسے یہ خبر ہوئی کہ وہ قافلہ جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے، وہ بنی ہاشم گھرانے کا تھا جس کی سپہ سالاری ابو عبداللہ (حضرت حسین علیہ السلام) کر رہے تھے۔ اس قافلے میں پھرتی سے ادھر ادھر گھوم کر کارواں میں موجود مستورات کی حفاظت کرنے والا وہ شخص بھی تھا کہ جس کی غیرت پورے مدینے میں مشہور تھی، وہ ابوالفضل عباس تھا۔
ظہیر بن قین کو جیسے ہی پتہ لگا، کہ وہ خطرہ اپنے ساتھ لے کر چل رہا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ وہ خوف و دہشت میں کچھ پل ساکت سا ہوگیا۔ وہ جنگ کے معاملے میں بزدل آدمی تھا۔ وہ اپنی دانست میں حسین (علیہ السلام) اور یزید کے مابین اس جنگ کا کہیں بھی حصہ بننا نہیں چاہتا تھا، اور اس طرح کی قافلہ ہم گیری اسے خطرے کی گھنٹی سی لگنے لگی۔
اس نے جلدی میں اپنے نوکروں کو سامان سمیٹنے کا بول کر اپنی بیوی سے کہا: "”ہمیں آگے چل کر پڑاو ڈالنا ہوگا۔””
وہ بیچاری کچھ نہ سمجھی، اور یوں تمام رات کا تھکا ہوا قافلہ پھر آگے سفر میں گامزن ہوگیا۔
اور پھر یہ چھپا چھپی کا کھیل چلتا رہا۔ ظہیر ہر اس جگہ سے اپنے خیمے اکھاڑتا جہاں قافلہ ہائے بنی ہاشم اپنا پڑاؤ ڈالتا، اور ہر اس جگہ اپنا پڑاؤ ڈالتا جہاں جہاں حسین ابنِ علی کا قافلہ چل پڑتا۔ وہ اکثر سوچتا، کہ اس نے ناحق مدینہ چھوڑا، لیکن اب کسے ٹالا جا سکتا ہے، اس نے بارہا اپنی بیوی سے اس بات کا ذکر کیا جس پر وہ خاموش ہوجاتی۔ وہ کر بھی اور کیا سکتی تھی۔
لیکن تقدیر ایک دن ظہیر کا ساتھ دینے سے مُکر گئی۔
وہ فرات کے کنارے پر آ پہنچا تھا۔ اس نے دور سے ہی اور بھی قافلے دیکھے۔ لیکن وہ قافلے کم کسی جنگی کمک کا حصہ لگ رہے تھے۔ سینکڑوں آدمی، تہ تیغ کرنے والے ہتھیار، تلواریں… وہ سمجھ گیا کہ یہ لشکر تھا۔ اس کا شک یقین میں بدل گیا کہ وہ یزید کا لشکر تھا جس کی کمان حر کر رہا تھا۔ اس نے عافیت اسی میں سمجھی کہ وہ ان سب سے دور فرات کی شمالی گھاٹی میں اپنا پڑاؤ ڈالے۔ سو اس نے ایسا ہی کیا۔ اب اسے بہت دور آوازیں آرہی تھی۔ اس نے اپنے دل میں ایک عجیب سا ڈر محسوس کر کے ڈھیروں دعائیں مانگی کہ صبح صادق سے پہلے وہ یہاں سے نکل جائیں۔ لیکن اب رات ہو چکی تھی اور راستہ پرخطر بن چکا تھا۔ سو وہ اپنے آپ کو دلاسے دیکر اپنے ہی من میں خدا خدا کر رہا تھا۔
وہ اپنی بیوی کےساتھ رات کا کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک ایک آواز نے اسے لرزا دیا۔ کوئی اسے بلا رہا تھا۔
اس کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑا۔ وہ یقینی طور پر اس آواز کو پہچان چکا تھا۔ وہ ابوالفضل عباس کی آواز تھی جو خیمے کے باہر اسے بلا رہا تھا۔ اس کے چہرے سے ایک رنگ اتر رہا تھا تو دوسرا چڑھ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ ابھی وہ سنبھلنے کی کوشش میں ہی تھا کہ اس نے ابوالفضل کو کہتے سنا کہ: "”اسے ابو عبداللہ (حسین علیہ السلام) بلا رہے ہیں۔””
اب وہ گرنے لگا تھا۔ بڑی مشکل سے اس نے جواب دیا: "”کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ابو عبداللہ کو جواب دیں کہ آپ مجھ سے ملے ہی نہیں، یعنی میں یہاں ہوں ہی نہیں۔۔۔”” وہ بڑبڑانے لگا۔
اس کی بیوی جو پاس ہی آکر کھڑی ہوئی تھی اس نے اپنے شوہر کی ڈھارس بندھا کر اسے کہا: "”آپ ایسا کریں کہ آپ چلے جائیں، پھر اسے کوئی سا بھی عذر دیکر واپس آجائییگا۔..کچھ نہیں ہوگا، لیکن جس کی صداقت کے کلمے پڑھتے ہیں اسی کے نواسے کے بلاوے پر کم از جھوٹ تو مت بولیے۔۔””
ظہیر نے اپنی بیوی کا کہنا مانا۔ اس نے کھانا لپٹا کر اپنے ہاتھ دھوئے، اور ابو الفضل کے ساتھ چلنے لگا۔ اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ گھر کا یہ کھانا اس کی زندگی کا آخری گھر کا کھانا تھا۔
اس کی بیوی نے اسے جاتے وقت محسوس کرلیا تھا کہ اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ اس نے برتن صاف کرکے ، چراغ کی روشنی دھیمی کی اور اپنے بستر پر آکر الہامی آیات دہرانے لگی۔ وہ بھی سہم گئی تھی۔ اس کی بھی نیند اڑ چکی تھی۔ وہ کروٹ بدل بدل کر اپنے شوہر کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔
وہ کافی دیر کے بعد لوٹے۔ بیوی نے چراغ اور روشن کیا اور اپنے شوہر کو دیکھ کر دنگ رہ گئی۔
وہ ڈرتا ڈرتا گیا تھا لیکن اب وہ بہت بڑے سکون میں دکھائی دے رہا تھا۔
جاتے وقت اس کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا لیکن اب وہ بہت روشن تھا، اس کی آنکھوں میں غضب کی چمک تھی، ٹھہراؤ تھا، وہ بہت پر وقار قدم اٹھاتے بستر پر بیٹھا اور اپنی بیوی کے کچھ پوچھنے سے پہلے اسے کہا: "” کیا ہمارے پاس اتنا مال ہے کہ ہماری کچھ پُشتیں عزت کی زندگی گذار سکیں؟””
اس کی بیوی نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر کہا: "”ہاں۔””
"”تو پھر سنو۔”” ظہیر نے اسی ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنی بیوی کو کہا: "”میں عمر بھر جس سکون کو تلاش کرتا رہا وہ آج مجھے مل گیا ہے۔ مجھے راہِ ہدایت مل گئی ہے۔ تم ایسا کرو کہ صبح سویرے یہاں سے کوچ کردینا۔ لیکن ایک وعدہ چاہیے تمہارا!””
اس کی بیوی جو مسلسل اسے دیکھ رہی تھی حیران تھی، پوچھ بیٹھی: "”آپ کو کیا وعدہ چاہیے؟””
"”کل اگر تمہیں پتہ چلے کہ میں اس دنیا میں نہیں رہا تو خدارا مجھ پر آنسو مت بہانا، کوئی دکھ نہیں کرنا۔ اور خوش ہوجانا کہ تمہارا شوہر ایک عظیم مقصد میں کام آیا۔ بس یہی وعدہ چاہیے۔””
بیوی نے وعدہ کیا، وہ سکون میں آگیا، بیوی نے سکون کی سانس لی، اور صبح کوچ کر لیا۔
عاشورہ گذر گیا۔ شامِ غریباں آچکی، خیمے جل گئے، ان معصوم بچیوں کے کانوں سے زبردستی زیور کھینچے گئے جن کے کانوں نے کبھی کسی نا آشنا کی آواز تک نہیں سنی تھی، تاریخِ عرب کا بدترین ظلم ڈھایا جا چکا تھا، اس قافلہ ہائے تطہیر میں صرف ایک بیمار مرد بچا تھا۔ باقی سب کام آچکے، جن میں ُظہیر بن قین بھی تھا۔
کوفے میں خبر پھیل گئی۔ کربلا کی ریت پر لاشیں بے گور و کفن پڑی ہوئی ہیں۔
درندگی ناچ رہی تھی، لیکن دور ایک گھر جو کہ نیا آباد ہوا تھا وہاں ایک عورت نے کفن اور کچھ دفن کا سامان اپنے نوکر کو دیکر کہا: "”تمہارا آقا مارا گیا ہے۔ وہ کربلا میں ہوگا۔ جائو اسے کفن دیکر دفن کر آئو۔””
نوکر چلا گیا۔
کچھ ہی دنوں میں وہ واپس لوٹا۔ ُظہیر بن قین کی بیوی، نے پوچھا: "”اپنے آقا کو دفن کر آئے؟””
"”ہاں، مالکہ لیکن مجھے معاف کیجیے گا۔ میں ایک ہاتھ کپڑہ دیکر دفن کر آیا ہوں، میں نے وہاں دیکھا کہ میرا آقا جس آقا کے لیے اپنی جان دے چکا تھا وہ بھی بے کفن تھا سو میں نے آقا کے لیے لایا ہوا کفن اسے پہنا کر پہلے اسے دفن کروایا، پھر اپنے آقا کو۔””
ظہیر بن قین کی بیوی کا فخر سے سر اونچا ہوگیا، اس نے محسوس کرلیا کہ اسے راہ نجات مل گئی جب اس نے یہ خبر سنی کہ آقائے دو جہاں صلعم کا پیارا نواسہ، شہیدِ اعظم ابو عبداللہ حسین علیہ السلام کے جسم پر اس کے گھر کا بھیجا ہوا کپڑا زیب تب ہوا۔ وہ محشر کے دن اپنے شوہر سے سے کہے گی، کہ میں نے اپنا فرض پورا کیا، میں کجا میری نسلیں اس کی ذات پر قربان۔
سلام یاحسین علیہ السلام۔”