مشہور عاشق مزاج امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی بایوگرافی "ایک ذاتی کتھا” میں ایک جگہ بڑی کمال کی بات کہتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ:
"وہ جاڑے کی رت تھی، میرے ساتھ تین اور دوست تاش کھیل رہے تھے۔ اتفاق ایسا ہوتا کہ میرے پاس اچھے پتے نہیں آرہے تھے۔ جبکہ میرا حریف مسلسل جیت رہا تھا۔
تو شدید غصے میں بڑی گالیاں بک رہا تھا۔
میری امی دوسرے کمرے میں شاید سویٹر بُن رہی تھی، سو وہ آئی اور بولی: "جانی ہوا کیا ہے؟ کس لیے اتنی موٹی موٹی گالیاں دے رہے ہو؟”
میں نے بتایا کہ یوں میرے پاس اچھے پتے نہیں آرہے ہیں۔
تو میری ماں نے بڑے پیار سے کہا: "دیکھو جو پتے بانٹ رہا ہے کیا وہ جان بوجھ کر تمہیں ٹھیک پتے نہیں دے رہا؟”
میں نے کہا نہیں۔۔۔
پھر وہ بولی اور تم چاہتے بھی ہو کہ تمہارے پاس اچھے ہی پتے آئیں؟ ہاں نا؟
میں نے کہا بالکل۔
تو امی نے اور محبت سے کہا: "جانی اسے کہتے ہیں تقدیر۔۔۔ چلو تم اسے اتفاق ہی کہو۔۔ لیکن کم سے کم وہ ہو رہا جو تم چاہتے ہو۔۔۔ تمہارے پاس پتے ٹھیک نہیں آرہے تو کوئی بات نہیں۔۔ تم عقل استعمال کرکے ان چھوٹے پتوں سے کھیل کیوں نہیں نکالتے ہو؟
اب سنو! دانش اسے ہی کہتے ہیں کہ خراب ترین حالات میں بھی جب تمہارے پاس کوئی چارہ نہ ہو لیکن ٹھیک وہاں سے ہی تم راستہ نکالو!”
اچھے حالات میں تو احمق بھی وہ کچھ کر جاتے ہیں کہ کوئی بندہ سوچ بھی نہیں سکتا! بات ہے برے وقتوں میں کام کرنے کی۔۔ جو صرف عقل والے ہی کر سکتے ہیں!




