وہ جو تاریک دنوں میں جھلس سے گئے

"اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے اس کا استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوالو… اور ہاں! جہاں اتنی محنت ہوگی، وہاں ایک کام اور بھی کروا لینا… اپنی یہ ناک بھی کٹوا دینا…، انسانیت کو تم پر کم از کم شرم تو نہ آسکے۔۔۔!.””
یہ وہ جملہ ہے جو پچھلی صدی کی اسی والی دہائی میں سجاول تحصیل ٹھٹہ سندھ کے ایک افسانہ نویس اور ناول نگار محترم مشتاق احمد کاملانی نے اپنی کہانی میں لکھا تھا.
کاملانی صاحب سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالبعلموں میں سے ایک تھا، جس نے اپنے افسانے "”گونگی بارش”” اور "”چپٹا لہو”” لکھ کر سندھی افسانے نگاری میں وہ نام پیدا کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نام کہانی اور افسانہ نگاروں کی صفحہ اول میں شمار ہونے لگا.
کاملانی صاحب نے اپنا ناول "”رولو”” جیسے ہی لکھنا شروع کیا تب اس کے گریجوئیشن کے امتحاں بھی سر پر تھے. اب کاملانی امتحاں بھی دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ میں اپنا ناول بھی تمام کرنے میں لگا ہؤا تھا. اس کے ایک عزیز دوست نے بتایا کہ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی اسے کہ رہا ہو کہ جلدی کرو…. ناول مکمل کرو.
امتحاں مکمل ہوئے تو ناول کا مسودہ بھی پریس میں چھپنے کے لیے پہنچ گیا. کہ اچانک ملکی صورتحال پر مارشلاء کا کالا بادل گہن بن گیا. ضیاء نے بھٹو صاحب کو ایک فرمان کے تحت سیاسی شہادت دلائی اور ردٍعمل میں پورا سندھ سراپا احتجاج بن گیا! گاؤں گاؤں میں فوجی ٹرک گدھ کی مانند منڈلاتے نظر آرہے تھے. مائیں اپنی بچوں کو اسکول یا کالج چھوڑنے کے بجائے گھروں میں باندھ کر رکھتی تھی، انسان تو دور، مارشلاء کا نذلہ گھوڑوں پر بھی جب پڑا تب ایک چھپا ہؤا بہت دبا ہؤا حلقہ ضیائی مارشلاء کے خلاف اندر ہی اندر لاوا بن کر ابھرنے لگا. اور مشتاق کاملانی نے ایک کہانی جس کا نام اس نے "”گھٹی ہوئی فضا”” رکھ کر ایک رسالے کو بھیج دی. کہانی چھپ گئی…
اس کا ناول ابھی پریس ہی میں تھا، جب اسے اپنی کہانی کے لیے حیدرآباد میں ادبی دوستوں نے بلایا اور اسے ایک ریڈیو انعام میں دیا. ابھی کاملانی صاحب حیدرآباد سے لوٹ ہی رہا تھا کہ "”سجیلے جوان”” اسے اٹھا لے گئے.
دوسرے دن اس پریس پر چھاپہ پڑا، جہاں سے اس کا نیم چھپا ہؤا ناول "”رولو”” ضبط کیا گیا، اور اس پریس کو بند کروایا گیا…. آگے خدا جانے کیا ہؤا….
ہاں کہتے ہیں کہ ڈھائی مہینوں کے بعد مشتاق احمد کاملانی کو ٹھٹہ روڈ پر نیم بیہوشی کی حالت میں پڑے پایا گیا… وہ دن… اور آج کا دن…. مشتاق احمد کاملانی صاحب فر فر انگریزی بولتا ہے. فارسی، پنجابی اور اردو تو جیسے جیب میں پڑی ہوں…. اگر آپ اس سے ملنا چاہتے ہیں تو کوئی وقت لینے کی ضرورت نہیں، مندرجہ ذیل اوقات کار پر اس صاحب سے مل سکتے ہیں:
صبح سے شام پانچ بجے تک: ٹھٹہ کی گلیاں،
شام چھ بجے سے رات دو بجے تک: سجاول کے بس اسٹاپ پر….
آپ کاملانی صاحب کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھیں گے. وہ مانگتا صرف پانچ رپیہ ہے، پھر اگر آپ چاہیں تو وہ آپ کو انسان کی تمام تر صفات اور غلاظتیں پہلیوں میں بتائے گا، سگریٹ کی پڑی ہوئی خالی پیکٹ پر آپ کا نام خوشخطی میں لکھ کر دیگا…اس کے سر کے بالوں نے اگر کبھی کبھار بارش دیکھی تو بھیگ گئے، نہیں تو آج کل دریائے سندھ کی مانند سوکھے ہی رہتے ہیں. اس کے چہرے پر آپ دو مخالف کیفیتیں ایک ہی وقت یکسان دیکھیں گے، یعنی آنکھوں میں آنسو، اور ہونٹوں پر تمام انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ… اس کی حالت دیکھ کر آپ مت روئیے گا…. کیونکہ ہم نے اپنے ضمیر قتل کر دیے ہیں… یہ ہمارے پورے نسل کے ساتھ سانحہ ہے.”