ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی ڈیئر بابا اشفاق احمد

ٹررررررررررررر…….. ٹررررررررررررر……ٹررررررررررر…..ٹرررر (ٹڑک) ہیلو!
دوسری جانب پشتو آمیزش ملا جواب پاکر میں نے عرض کیا: “السلام علیکم، جی مجھے اشفاق صاحب سے بات کرنی ہے.”
“جی صیب تو بیمار ہے، آپ کون صیب؟”
“جی میرا نام فیاض ہے، اور میں سندھ سے آیا ہوں ، اشفاق صاحب سے ملنا چاہتا ہوں! پلیز آپ اس کو بتادیجیے.” میں نے ترلے والے انداز میں اس پٹھان خانصاماں کو عرض کیا.
“او نئی صیب! ڈاک صیب نے منعا کیا ہے، آپ کل پھون کرو، مہربانی.” اور لائین کٹ گئی،
دوسرا دن ہؤا تو میں نے اپنا پینترا بدلا، اب کوئی خاتون دوسری طرف تھی، میں نے عرض رکھی کہ مجھے آپا بانو صاحبہ سے ملنا ہے. خاتون نے ایک منٹ کہ کر مجھے ہولڈ کرادیا. دو منٹ گذرے ہونگے کہ دوسری طرف آپا کی حلیم و لطیف آواز آئی: “جی السلام علیکم…”
اور میں جیسے گہری کھائی میں گرتا ہؤا خود کو محسوس کیا. “یہ بانو قدسیہ ہے! جو راجہ گدھ میں زندگی کو جیسے پلیٹ میں رکھ کر دنیا کو دکھا رہی ہے، جو علمٍ نفسیات کے پاتالوں سے سگمنڈ فرائڈ یا ہومر کی “اوڈیسی” سے کرداروں کو پینٹ شرٹ پہنا کر ہمارے جیتے جاگتے سماج میں لا رہی ہے، یا مولا! یہ میں بانو صاحبہ سے مخاطب ہوں…..!!!!”
دوسری طرف پھر آواز آئی: “جی بولیے!” میں جیسے لاشعوری طور پر جواب دینے لگا: “دیکھیں بانو صاحبہ! آپ اسے کہیں کہ بھٹائی کی دھرتی سے فیاض آیا ہے!”
خاموشی…… اور تین منٹ گذرنے کے بعد ایک عجیب لیکن پر سحر آواز بلند ہوئی: “فیاض! بابا کیسے ہیں! اب بھلا بھٹائی کی دھرتی سے مجھے کوئی بلائے تو میں قبر سے بھی نکل کر آؤنگا، کہاں ہیں آپ ابھی؟”
یہ اشفاق صاحب تھا. اور سچ تو یہ ہے کہ میں جیسے اس حصار سے نکل آچکا تھا جو آپا کے صرف آواز یا اس کے احساس سے میرے من میں پیدا ہوگیا تھا.
اشفاق صاحب نےمیرے بتائے ہوئے پتے پر گاڑی بھیجی اور میں آدھے گھنٹے کے بعد اس کے خوبصورت ڈرائنگ روم میں موجود تھا. اشفاق صاحب پہلے ہی وہاں موجود تھا. اس کی ٹانگ میں معمولی سا فریکچر تھا، بیٹھے بیٹھے ہی اس نے مجھے جپھی میں بھر دیا. حضرات یہ جپھی میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا. ایک محبت بھرا احساس، کہ جس سے شناسائی اس دن مجھے ہوئی!
“شیخ ایاز کیسا ہے، اترا اپنی انا سے یا نہیں؟ قمر شہباز نکلا جیل سے؟ اور سنیں کیا بنا امر جلیل کا، ٹھیک ہے وہ؟ آغا سلیم، اور ہاں نورالہدیٰ شاہ کیسی ہے؟ اب بھی وہ ہی بغاوت؟ اس کی کربلا گذر گئی یا اب بھی ہے؟ وغیرہ وغیرہ…..
اور میں ایک ایک سوال کا نپا تلہ جواب دیتا گیا!
(یا اللہ ! یہ کیا، سوالی سے سوال پوچھے جا رہے تھے، اور وہ بھی ایسے کہ اگر ایک بھی غلط یا لاعلمی سے کہتا کہ بابا مجھے پتہ نہیں تو اپنے اندر شرم کے بوجھ سے دبتا جاتا)
خدا خدا کرکے میرے جوابات کی نشست تمام ہونے لگی تو میں نے پوچھ لیا:
“بابا! کیا سمجھتے ہیں ڈپٹی نذیر احمد کی مرۃ العروص سے بانو قدسیہ کی سیمیں تک!، کیا اب اردو ادب تھوڑا دھیما نہیں پڑ گیا؟”
“شاید….” بابا سوچ میں پڑ گیا! اور بولا: “ٹھیک کہتے ہو! جیسے مرغی انڈے دینا چھوڑدیتی ہے، جسے ہم پنجابی زبان میں ‘کڑک’ کہتے ہیں، ٹھیک اسی طرح واقعی لگتا ہے کہ اردو کہانی یا ناول کڑک کی حالت میں آگیا ہے. لیکن فیاض! یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا! جب ہمارے ادیب سمجھ جائیں گے کہ ڈپٹی صاحب کی مرۃ العروص کو اب ساڑھی میں نہیں بلکہ جینز میں لانا ہوگا، تب پھر یہ کارواں رواں دواں ہوجائے گا! فی الحال تو ہمیں نام نہاد اخلاق نے مار دیا ہے نہ! ہم تھوڑا شش و پنج کی حالت میں بھی ہیں، ہماری ایک ٹانگ مشرق میں ہے تو دوسری ٹانگ مغرب میں ٹھوک رہے ہیں، ذرا سا ہیجان ہے ابھی! انتظار حسین لکھ رہا ہے، لیکن اسے ترقی پسندی کی چھاپ نے پڑھنے والوں میں محدود کر دیا ہے، عبداللہ حسین نے لکھا لیکن وہ بھی آج کل چپ ہے.
مظہر الاسلام کو اپنے استعارے اور محبت کا روگ ایسا لے بیٹھا ہے کہ وہ اس سے نہیں نکل رہا، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ذبردست لکھ رہا ہے. لیکن جتنا لکھنا چاہیے اتنا نہیں لکھا جا رہا!
میں لکھتا ہوں، لیکن مجھ پر تو باباؤں کی چھاپ لگا دی ہے. (وہ ہنس پڑا) اب دیکھو نہ! کسی اور کو کیا کہیں، اپنے گھر کی بات بتا رہا ہوں!
میں جب روم سے واپس آیا تو مجھ پر ایک بھوت سوار تھا کہ میں جانوں کہ روحانیت کیا ہے، وہاں مجھ سے یہی سوالات کیے جاتے تھے، اور میں گاکھ بنا ایسے ہی ٹال مٹول کیا کرتا تھا. لیکن بابا! یہ ہماری میراث ہے، ہم نہ جانیں گے تو کون جانے گا! خیر، پھر میں منو بھائی، ابنٍ انشاء کو ساتھ لیکر درگاہوں کے چکر کاٹتا رہا!
اب مزے کی بات سنو: اگر شوہر کسی کوٹھے یا جؤا کے اڈے پر جائے اور اس کی بیوی اسے منع کرے تو بات صاف ہے، بیوی بہت اچھی ہوگی نا!
لیکن اگر شوہر کسی درگاہ یا روحانی ڈیرے پر جاتا رہے اور اس کی بیوی اسے وہاں سے منع کرے تو اس کی بیوی کو کیا کہا جائے گا؟” وہ ہنسنے لگا. ہنستے ہنستے اچانک میری پشت سے آواز آئی:
“نا مجھے کوئی جبرائیل تو نہیں آتا تھا نا؟” اوہ خدا یہ آپا تھی، جو ہماری کچہری کے درمیاں چپکے چپکے ڈرائنگ روم میں آگئی تھی اور پیچھے والے صوفے پر بیٹھ گئی تھی.
ہماری ہنسی کشادہ ہوگئی تھی.
چائے آئی اور خانصامہ نے چائے بنانا شروع کی تو میں نے موضوع کو بدل دیا:
“بابا! کیا سمجھتے ہیں کالا باغ ڈیم! سندھ میں پانی نہیں، زمینیں تو بنجر ہو ہی رہی ہیں اور اب تو لوگ بھی پانی کی قلت کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، اور ادھر پنجاب پانی کا میگا پروجیکٹ بنا کر پانی جمع کر رہا ہے؟ کیوں؟ ایک ادیب ہونے کے ناتے آپ کیوں نہیں بول رہے ہیں اس موضوع پر؟، کیا یہ جرم نہیں کر رہے؟”
اشفاق صاحب ہنس دیا: “فیاض بچہ! آپکا پی پگارہ کیوں کہتا ہے کہ بناؤ! صرف وہاں کے چند ناراض سیاستدان کیوں احتجاج کر رہے، ٹائر جلا کر، روڈ بند کر رہے!
میرے پیارے فیاض یہ کالا باغ ڈیم بنے گا ہی نہیں…. یہ لکھ لو!”
میں نے کہا “چھاپ دوں؟”
“ہاں چھاپ دو! یہ نہ تو سیاسی مسئلہ ہے، نہ ہی زمینی…. یہ فطرت کے ساتھ مذاق کیا جائے گا اگر یہ کالا باغ ڈیم بنے گا تو! میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ نہیں بنے گا، اب جب مجھے یقین ہے کہ نہیں بنے گا تو میں کیوں اس پر بات کروں، جس گلی کا وجود ہی نہ ہو میں کیوں اس کی خیالی حدود و اربع کی بات کروں؟”
روحانیت کے سوال پر اشفاق صاحب نے کہا: “پتہ ہے اگر ہم ایک طرف ہوجائیں تو بات صاف ہوجائے، لیکن ہم منافقت کی حدود تک نکل جاتے ہیں، ہم بوٹی حرام اور شوربہ حلال قرار دے کر کافی باتوں سے منہ پھیر دیتے ہیں. ابھی ٹھہریں، جب مغرب پلیٹ پر سجا کر “جین” اور کلوننگ ہمیں دے گا کہ یہ لیں یہ سب آپ کے پرکھوں کی امانت ہے جسے ہم نے سنبھال کر اسے عیاں کرکے آپ کو دے رہے ہیں تب ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم کیا تھے، اور نماز کے تکبر نے ہمیں کہاں تک پہنچادیا ہے.
ہم صرف اپنئ ثقافت کا پندار لے کر اگلی دنیا کی صف میں کھڑے ہونگے، اور اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں عرب اپنی صف میں کھڑا کر کے اکیسویں یا بائیسویں صدی میں لے چلے گیں تو یہ بھول ہے ہماری! ہمارے ساتھ بلہا شاہ، سلطان باہو، سید علی ہجویری، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست ہونگے تو وہ بھی پہچانے گیں، ورنہ بیٹا بغیر معرفت کے صرف ملا کے کہنے پر ہم تو مارے جائیں گے!”
اس رات روحانیت سے لے کر مادیت تک، اتنی باتیں ہوئی کہ میں جیسے ہوا میں اڑ رہا تھا.
اور آج کا دن اس عظیم انسان کا جنم دن ہے.
اس نے کہا تھا کہ: “میرا بابا مجھے کہتا تھا کہ دیکھو بچہ، اگر تمہارا حال تمہارے ماضی کی شاہدی نہ دیتا ہو تو سمجھو کہ تمہارا ماضی جھوٹا ہے، اگر کل سرکارٍ دو عالم صلعم کی ذات موجود تھی تو آج بھی ہے، سو تعظیم کرو اس کی، جو ہمارے درمیاں ہے، تمیز سے بات کرو کہ اس کی دربار ہے، حیا سے رہو، کہ وہ دیکھ رہا ہے!”
اور میں‌ اپنے دل میں وہ پہلی رات کا تصور کیے نذرانہٍ عقیدت کے پھول سنبھالے کھڑا ہوں اور کہ رہا ہوں
“ہیپی برٹھ ڈے تو یو، ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی ڈیئر اشفاق بابا!”