میرا چچا، جو ایک دریک کے درخت کی مانند تھا

کہتے ہیں کہ ہم سب اس فانی جہان میں آتے ہی اسی لیے ہیں کہ واپس جائیں! یہ بھی کہا جاتا ہے (خصوصی طور پر لاماؤں میں) کہ ہم پیدا ہوتے ہی ایک بڑی جیل میں داخل ہوجاتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
ہاں اتنا جانتا ہوں کہ بقول فراق گورکھپوری کے کہ:
قبل اس کے کہ ہو فیصلہ خیر و شر
جینے کا ثبوت دے زمانے کو بشر
بے حس کردار نیک سے موت بھلی
نامراد اخلاق سے جرائم بہتر!
تو وہ بھی ایسا ہی تھا! کراچی میں اپنی ٹیست کرانے اور ایک چینل پر مہمان کے طور پر گیا تو جانے سے پہلے اس سے ملا! وہ کمزور دکھائی دے رہا تھا! جلدی میں بولا، “فیاض! ہو آؤ! چل چلاؤ کا وقت ہے، کہیں چل نہ پڑیں”، میرے جسم میں ایک جھرجھری سی ابھر گئی!
ایک پل اپنے ذہن کے کینواس پر اسے دیکھا! وہ گاؤں کے ایک فیصے میں بطور منصف بیٹھا ہؤا تھا! اچانک ملزم (جو کہ واقعی مجرم بھی تھا) نے کہا کہ : “وڈیرا سائیں مجھے قرآن کی قسم دیں میں نے یہ گناھ نہیں کیا”؟
اور وہ بطور منصف آپے سے نکل گیا! کہنے لگا کہ مجھے قرآن مجید کی ایک بھی آیہ شریف دکھادو کہ جس میں لکھا ہو کہ پرائی دیوار کو پھیلانگنا چاہیے؟ جب تم پہلے ہی قرآن مجید کی انحرافی کر چکے ہو تو کاہے کو تمہیں قسم دیں!
اس طرح کے انقلابی فیصلے جو کہ صدیوں کی دھول سے لٹے ہمارے سماج کو کھوکھلا کر رہے تھے ان میں اس نے دراڑیں ڈالی!
دلیر اتنا کہ گاؤں کو پولیس اسٹیٹ بننے سے بچانے کے لیے بھری بازار میں اس نے ڈی ایس پی کو ایک تھپڑ مار کر بولا” قانون نے تمہیں کب سکھایا ہے کہ ایک شریف انسان کو ذلیل کرکے ننگا کرو؟۔ وہ ہی آگے چل کر پھر تم لوگوں سے انتقام لینے کے لیے بندوق ہاتھ میں پکڑے گا!”
وہ میرا دلیر چچا آج شام اس سفر کو چلا گیا جہاں ہمارے بڑے پہلے ہی جا چکے ہیں! اور آج نہ کل ہم سب کو جانا ہوگا!
کہتے ہیں کہ ننانوے اعشاریہ نو نو نو نو نو نو نو نو نو فیصد لوگ کھٹیا کی موت مرتے ہیں!
مجھے فخر ہے کہ چچا کھٹیا کی مروجہ گھٹیا موت مرنے کے بجائے آخری وقت بھی اپنے بیٹے کو کہ کر دم دیا کہ “خدا کا حساب خدا جانے، لوگوں کا حساب بہت اوکھا ہے۔ تم نے اللہ نہیں دیکھا، لیکن انسان دیکھا ہے، لہٰذا انسان کی قدر کرنا”۔
اور اس نے ایک لمبی سانس لی اور مسکراتے اپنی آنکھیں بند کی!
میرا چچا آج ہمارے ساتھ نہیں، لیکن مجھے ایک بات یاد دلاتا ہے۔
بابا سائیں کہتا تھا کہ تم موت کے بعد مرنے والے کا چہرہ ضرور دیکھنا!
ایک آسودہ ترین زندگی کی موت بھی آسودہ ہی ہوتی ہے۔ اس کے چہرے سے تمہیں کوئی ملال نظر نہیں آئے گا! کیونکہ، موت کو وہ ہی جان پائے ہیں جو زندگی کا مطلب اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
اور میں نے چچا اللہ ڈنو کے چہرے پر وہ مسکراہٹ دیکھ لی۔ جیسے اس نے موت کو بھی “بھلی کرے آیا” کہ کر اس سے بغلگیر ہؤا ہو!
اوہ میرے چچا، میرے بابا!
جانتا ہوں کہ جب کوئی آنگن سے درخت کٹ جاتا ہے تو ایک سونا پن تو فطری نظر آتا ہے، لیکن اس دھوپ سے کون بچائے جو آپ کے نہ ہونے کی وجہ سے چھاؤں کی جگہ گھیرا تنگ کر رہی ہے!
او میرے چچا!
میری انگلی پر اس مسل کا ابھی تک ایک احساس موجود ہے جو بچپن میں مجھے آپ نے مسل کر کہا تھا کہ “تاریکی سے مت ڈرا کرو، ماں کی کوکھ سے لیکر قبر تک تاریکی کا ہی راج ہے، یہ تم اور ہم ہیں جو اس تاریکی میں اپنے ناموں کی روشنائی سے جگنو کی مانند نور پھہلاتے ہیں”۔
میرا چچا آج ادھر واپس گیا جہاں سے وہ آیا تھا!
انا للہ و انا الیہ راجعٰون