میں اگر اپنی زندگی کی دوربین اور خوردبین دونوں کو ہٹا کر دیکھتا ہوں، خود اپنے آپ کو یا سب کو تو پاتا کیا ہوں؟ مسائل ہی مسائل. اور جوق در جوق قطاریں! مسائل کی قطاریں، قطاروں کے مسائل اور اس لامتناہی سلسلے میں بس آدمی ہی ان کا شکار! مسائل کی آغوش میں پنپ کر مسائل کی قبر میں سونے والا آدمی، پورے کرہ ارض پر یہ "میڈ ان مسائل” کا ٹھپہ لگوائے ہوئے جابجا مسائل گھر اور "گر” یہ بنی آدم!
اپنی تمام زبانوں میں ہر دوسرے جملے میں مسئلہ لفظ کا استعمال کردہ یہ آدمی! میں تو اس حد تک کہتا ہوں کہ یہاں کائنات میں سب کے سب بنی بشر مسائل کا شکار ہیں، اور جو مسائل سے باہر ہیں وہ یہاں سے باہر ہیں، یعنی کوئی نہیں!
کہیں بھول کر بھی یہاں یہ سمجھ نہ بیٹھیے گا کہ میں نے کہا مسائل سے باہر رہنے آدمی باہر رہتا ہے کا مطلب پاکستان سے باہر کسی اور ترقی یافتہ ملک میں بیٹھا ہو! کبھی نہیں! ذرا ان کو دیکھو تو سہی! جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں! آپ نے کیا یہی سمجھ رکھا ہے کہ وہ لاکھوں کروڑوں میں کھیل رہے؟ ان کو زندگی کی تمام تر آسائشیں میسر ہیں سو وہ مسائل سے مبراء ہیں؟ نہیں نہیں..
بہت خیال سے دیکھو گے بہت گہرا دیکھو گے تب آپ کو معلوم پڑجائے گا کہ وہ ہم سے زیادہ پریشان ہیں! کسی کو اپنی بیٹی کا غم کھائے جا رہا ہے کہ وہ پیٹر، جیکب، ایڈورڈ کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے تو کوئی اس پریشانی میں ہے کہ بیٹا اب کوکین کی لت میں پڑ گیا ہے! کوئی اس واہمے کا شکار ہے کہ اگر یہاں پردیس میں اس کا کریا کرم ہوگیا تو وہ کس منہ سے خدا کے حضور پہنچے گا تو کوئی ٹیکس کی وجہ سے پریشان ہے.
بس فرق یہ ہے کہ غم مٹانے کو ہم لوگ چھپ کر شراب پیتے ہیں تو وہ کھل کر، ہم کسی تاریک گوشے کو دیکھتے ہیں جہاں کچھ پل خود کو دے سکیں اور پھر سے خود کو سمیٹ سکیں اور وہ کار کے ہی اندر یا ٹیوب میں دھکوں سے بچ کر کسی کونے میں روتا ہے. کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم سب روتے ہیں، ہم سب بھگت رہیں ہیں، ہم سب آہیں بھرتے ہیں، شکاگو ہو یا شیخوپورہ، سان فرانسسکو ہو یا سکھر، لندن ہو لنڈی کوتل، بئنکاک ہو یا بینظیر آباد… سب کے سب پریشان ہیں!
باہر جائیں تو روڈ بے قطار ٹریفک کی وجہ سے جام دکھائی دے پڑتا ہے راشن کارڈ کی جگہ اب سپورٹ پروگرام کے کارڈوں نے جگہ لی ہے اور قطاریں بنانا بھی چاہو تو نہیں بن پا رہی اور دھکم دکھیلوں میں بندے بیہوش، کہیں کہیں تو اکہ دکہ مرنے مارنے کی نوبت آہی جاتی ہے، اور اب تو یہ روز کا معمول ہے. ہم نے یہ سمجھا کہ قطاروں کو اگر اپنایا نہ جائے تو مسائل کی قطاریں بن جاتی ہیں! لیکن یہ کیا! اب پتہ لگتا ہے کہ مسائل اور قطار ایک ہی سکے کے دو طرف ہیں!
مسائل بنائو یا قطار بنائو! لیکن بیس کروڑ کی آبادی میں جہاں صرف چند ہی جگہ قطاریں بنانے پر زور دیا جائے تب مسائل اور بڑھنے لگتے ہیں. یہ یونانی بڑے پلستر قسم کے لوگ تھے! بہت سیانے، کہ جن لوگوں نے فطرت انسانی کو دیو مالائی داستانوں میں کھل کر سمجھایا ہے. اور ان ہی داستانوں میں وہ پینڈورا کی پیتی والے مسائل! ہر طرف یہ آدمی مسائل کا شکار، دکھوں کی پوٹلی اپنے سر پر رکھے، بڑی بڑی آفیسوں میں بڑے بڑے صاحب لوگوں سے لیکر کھیت کھلیانوں میں کام کرنے والے دہقانوں تک، سب کو آبائی جہیز میں ملنے والے دکھڑے سب کی زباں پر جیسے شاہ حسین فقیر کی کافی لہرا رہی کہ مائے اے نی میں کینوں آکھاں!



