تمام رات اردو اور انگریزی والے دونوں "سفر” بھگت کر اپنےگھر پہنچتے ہی حسب عادت بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ دیکھنی شروع کی. چائے، سگریٹ اور بی بی سی ایک ایسا مرکب بن گیا ہے کہ اگر کبھی ناغہ واقع ہوجائے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اہم چیز گم ہوگئی ہو، اور عالمِ حیرت یہ بھی کہ پتہ نہیں کیا گم ہوا ہے؟… لیکن بی بی سی کے صفحہ اول پر ہی مختاراں مائی کی ایک نہیں، دو نہیں بلکہ پوری سات رپورٹس (بشمول تازہ ترین ویڈیو انٹرویو کے جو اس نے ابھی بی بی سی اسٹوڈیوز میں رکارڈ کروایا ہے) جیسے میرا منہ چڑا رہی تھیں.”
سن 2002ع کے اس انسانیت سوز واقعے کا پڑھ کر میں جیسے کانپ اٹھا تھا، پھر دن گذرتے رہے اور میں اس میڈیائی اچھل کود کے بدلتے تیور میں خود کو ڈھال کر اور سانحات میں گم ہوگیا. اس دوراں میری ملاقات مختاراں مائی سے بھی ہوئی لیکن ایک رسمی سی.
اور میں کافی باتیں نوٹ کر کے اپنے پاس ایسے چھپا کے رکھ لی کہ اگر ظاہر کروں تو مجھ پر جیسے کفر کے فتوے لگ جائیں، لیکن اب صبر کا پئمانہ پھٹ پڑا، جب مائی نے بی بی سی کے انٹرویو میں روایتی انداز میں بلا کسی پروپوزل کے اپنا مدعا کچھ یوں بتایا کہ: "”میرے پاس کچھ سیونگ سے جس سے میں تمام منصوبے چلا رہی ہوں۔ میں لوگوں سے بھی یہی کہتی ہوں اور آپ کے ادارے کے توسط سے بھی میرا پیغام یہی ہے کہ اگر میرے منصوبوں میں کوئی تعاون کرنا چاہے تو آگے آئے اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے۔””
اور میں حیرت کی وادی میں گم ہوتا جا رہا ہوں. کم لوگوں کو پتہ ہے کہ سن 2002 کے بعد مختاراں مائی کو کتنی رقم کہاں کہاں سے ملی ہے. خود مجھے ہی لیجیے. مجھے صرف کینیڈا کی مدد کا مصدقہ پتہ ہے جب کینیڈا حکومت نے مختاراں کو اسی برس دو پیشکشیں رکھی تھی:
اول: کہ وہ مستقل کینیڈا کی شہریت لیکر یہاں رہ سکتی ہے. (جسے اس نے رد کردیا تھا اور اپنا کیس لڑنے کے لیے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا)
دوئم: کہ اگر وہ پاکستان میں رہتی ہے تو اسے پئنتالیس ملین ڈالر (تین ارب پچاسی کروڑ اور پچاس لاکھ روپے تقریباّ) امداد دی جائے گی. (جو اس نے قبول کرکے رقم لی تھی)
اس کے ساتھ اسے امریکا، برطانیہ، آسٹیرلیا، سے کیا رقم ملی وہ یا تو وہ ممالک جانیں یا خود مختاراں مائی، ہمیں معلوم نہیں، اور اس کے ساتھ مختاراں مائی کو لاکھوں ڈالر اپنی کتاب "”ان د نیم آف آنر”” پر جدا ملے جو کہ کتاب امریکا میں چھپی اور دنیا میں بیسٹ سیلر کی قطار میں کھڑی ہوگئی. چھوٹے چھوٹے ایوارڈ اور گلیمر رسالے کے سر ورق پر اپنے پروفائیل سے کتنا سرمایہ حاصل کیا، وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے.
لیکن یہ سب کچھ جو بھی ہوا، "”زنا بالجبر”” سے میڈیائی "”ثنا بالخبر”” تک جس میں کس نے کیا کیا، اور کیسے کیسے ڈرامے چلائے مجھے اس سے کچھ لینا دینا نہیں، نہ مجھے چنداں ضرورت ہے کہ آپ سب کو جذباتی کروں، لیکن میرے ذہن میں ایک آدھ سوال ضرور ہیں کہ وہ سلجھائے نہیں سلجھتے.
اگر مختاراں مائی کے ساتھ کوئی کیپٹن حماد اس طرح حرکت کرتا تو کیا یہ سب ہوتا؟ اگر نہیں تو یہ سب ڈرامہ کیا ہے؟
کیا مظلوم بھی ایک وقت آتا ہے ظالم کی طرح سوچتا ہے….. کیا مختاراں کو ڈاکٹر شازیہ خالد کا کچھ پتہ ہے؟ اگر ہے تو وہ اس کے لیے کیا کر رہی ہے؟
یہ ہر آئے دن کبھی برطانیہ تو کبھی آمریکا کے چکر ایسے لگانا جیسے کوئی پکنک پر جا رہا ہو آخر کس سمت کا اشارہ ہے؟ یہ ادارے کھولنا ہے یا اب ظالموں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک اور ظالم ابھر آیا ہے؟
کوئی ہے کہ اسے کہے کہ مائی اب یہ ڈھنڈورا مت پیٹو، گھر میں رہو؟ اور جو ملا ہے اس پر قناعت کرو! نہیں تو اداکارہ میرا یا وینا ملک اور تم میں بس اتنا ہی فاصلہ رہ گیا ہے جس طرح سمندر میں نمکین اور میٹھے پانی کے درمیاں ہوتا ہے.”



