﴿ لیکچر – از امر فیاض﴾
بعد از سلام ایک چھوٹا سا لطیفہ حاضرِ خدمت ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے کی ریاست خیرپور کے والی میر علی نواز ناز خانصاحب، پکے راگوں کے رسیا ہوتے تھے، کہتے ہیں کہ وہ کلاسیکل راگ کے سرگم اور تال میل کو ایسے سمجھتے کہ ہارمونیم پر ابھی انگلیوں سے چار پانچ چابیاں بھی نہ لگیں تو میر صاحب سمجھ لیتے تھے کہ کون سا راگ گایا جانے والا ہے. ایسی ہی راگ رنگ کی ایک محفل میں ایک مقامی فنکار سرکار سچل سرمست کی کافی گا رہا تھا. پہلا ہی مصرحہ تھا جسے میر صاحب کی فرمائش پر چار بار مکرر کے طور پر فنکار گا رہا تھا. اور جب میر صاحب نے پانچویں بار مکرر کرنے کا اشارہ دیا تب اس فنکار نے انتہائی مؤدبانہ عرض رکھی: "میر سائیں اس کافی کے ابھی چار مصرحے اور بھی ہیں! وہ بھی سن لیجیے!”
تو جواب میں میر صاحب جنجھلاکر غُرائے: "ارے مورکھ! تُو پہلے یہ تو مصرحہ ٹھیک طرح سے گا، میں تمہیں بار بار کہ رہا ہوں کہ تھوڑا اچھا کر کے گائو، ٹھیک طرح سے گائو لیکن تم سمجھ ہی نہیں رہے………..!”
اور میں راگوں پر نا تجریبکار اس فنکار کی طرح چاروں اطراف ایک بھیڑ دیکھ رہا ہوں! کہ مجھے اگر کسی موضوع پر بات کرنی ہے تو میں بلا جانے کہ وہ موضوع ہے کیا؟ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟ کیا اس موضوع پر جو نام رکھا گیا ہے وہ درست بھی ہے کہ نہیں؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ مجھے اس موضوع پر آیا دسترس بھی ہے کہ نہیں! لیکن یہاں میری دُم باندھ کر "مہری” (اونٹ کی ایک شاندار قسم) بنا کر بٹھایا گیا کہ لو جی آپ بات کرو! اور میں "اب ڈھول گلے میں لٹکایا گیا ہے تو بجانا ہی پڑے گا” کی مصداق اسے بجانے میں جُٹ جاتا ہوں، غیر ترتیبوار ہی سہی، ماترائوں سے بےخبر ہی سہی لیکن بجانے پر زور ایسے دے رہا ہوں کہ سننے والا ڈھول کی آواز سے ہی وحشت کھا گیا ہے، لیکن مجھے اب چپ کون کروائے! (بڑا مسئلہ ہے اب! )
اب دیکھیے نا، یہاں مجھے روحانیت پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا ہے! اور میں ایک پل کے لیے کیا جب سے مجھے باقاعدہ دعوت دی گئی ہے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہوں! حالانکہ میں نے جناب نقوی صاحب کو اپنی مشکل بتا بھی دی تھی کہ مجھے اس موضوع پر بُلانے سے بہتر ہے کہ آپ کسی خانقاہ سے سفید پوش کس پگڑی شگڑی والے پیر فقیر کو بلائیں! یہ گورکھ دھندہ مجھ سے بالا ہے، لیکن شاید نقوی صاحب یا صابر صاحب کو کڑوی بادام کھانے کا واقعی بھی چسکا سا لگ گیا ہے.. سو انہوں نے مجھے بلانے کی ٹھان ہی لی، اور باقاعدہ طور پر دعوتنامے چھپوا کر آپ صاحبان کو بھی بلا لیا ہے. سچ تو یہ ہے کہ مجھے آپ سب سے ہمدردی ہے کہ ابھی آپ مجھے بڑے بُرے طریقے سے جھیلیں گے! (حاضرین میں قہقہ) اور ہاں یہ بھی کہ پہلے نقوی صاحب کو مطلع کرتا چلوں کہ پچھلی بار میری گاڑی کو جلتا دیکھ کر وہ سکھ سے شاید نہیں بیٹھے اور اب کی بار وہ اپنی آفس جلانے کے بعد ہی دم لینگے! بہرحال مجھے آپ سب سے واقعی دلی ہمدردی ہے کہ مجھے یہ گمان ہوگیا ہے کہ آپ درد جھیلتے جھیلتے بہت میسوکسٹ بن چکے ہیں.. (حاضرین میں قہقہ)
خیر، تو مجھے اس پر بات کرنی ہے کہ "روحانیت ہے کیا اور اس مادی دنیا میں اس کا کیا کردار ہے؟”
بڑا دلچسپ موضوع ہے، اور سچ میں میرے جیسے ایک نادار بندے کے لیے تو یہ اس مداری کی طرح ہے جو بغیر توازن کو سالم رکھنے والے بانس کے لکڑے کے رسے پر چل رہا ہو! لیکن دوستو میں اول تو آپ کو بہت مایوس کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا یہاں جس پس منظر میں ہم بات کر رہے ہیں وہاں اس "روح” کا تو کباڑہ بنائیں. پتہ نہیں کیوں مجھے اس لفظ سے وہ مزہ نہیں ملتا جو میں "آتما” پکار کر لیتا ہوں. وجہ انتہائی صاف ہے. کہ ہم یہ اسم جس بھی کیفیت، یا لا مرئی حقیقت کو دے رہے ہیں وہ سچ میں کسی میٹر سے پرکھی نہیں جاتی اور نا ہی آپ اسے اپنے حواسِ خمسہ کی مدد سے پرکھ سکتے ہیں. یعنی یہ مادہ نہیں ہے، یعنی یہ صرف اور صرف عقل کے کسی نہ کسی گوشے میں سوچی تو جا سکتی ہے لیکن چھوئی نہیں جا سکتی، چکھی نہیں جا سکتی، سونگھی نہیں جا سکی دیکھی یا کہ سنی نہیں جا سکتی. سو یہ سب سے پہلے طئے کریں کہ یہ مادہ نہیں ہے. اور اگر ہم اس نتیجے پر کُلی ادراک سے پہنچ جائیں کہ یہ کسی شئے کا نام نہیں تو پھر اس پر مادہ نام کیوں رکھیں؟
دیکھیں نہ، قدیم کالدی اور عبرانی زبان میں ہوا کو "ریح” کہتے تھے. ان لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ ہمارے اجسام میں درحقیقت یہ آتی جاتی سانس ہی ہمارے زندگی کا پیش خیمہ ہے اور صرف نتیجے پر آنکھ رکھ کر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ زندگی درحقیقت اس ہوا کا نام ہے جو اپنی موسیقائی حرکت سے ہمارے اجسام کو چالو رکھے ہوئے تو انہوں نے اس پر نام رکھ دیا "روح”. اور یہ لفظ جو ہوا سے نکالا گیا وہ آج تک ایسے ہم سب کی لسانیات اور تصورات پر راج کر رہا ہے جیسے آج کل دنیا کا عظیم اردو گرامردان اور جدید دور کا اکبر بادشاہ جناب پرویز مشرف!
سو میرے حساب سے یہ لفظ کم سے کم اس عظیم قوت اور کائنات کی بہت ہی لطیف ترین توانائی پر جچ نہیں رہا! یہ تو ایسے ہُوا جیسے آپ سرکار لطیف بھٹائی کے لیے کہیں کہ وہ گائوں کا ایک چرواہا ٹائپ شاعر تھا! جسے نہ تو لسانیات کی ابجد آتی تھی اور نا ہی علمِ عروض کا پتہ تھا! یا ایسے جیسے آپ ایشیا کی بڑی جھیل "منچھر” کو ایک تالاب کہ کر پکاریں! ایسے ہی ہمیشہ تصورات اور اشیاء کو ان کی حیثیت والا اسم دیا جاتا ہے. اور اگر ہم غلط نام دیں تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے. اور لگے ہاتھوں یہ بات یہاں عرض رکھنا چاہونگا کہ دنیا کی کوئی بھی زبان تہذیبِ انسان کے کسی بھی مکتب ہائے فکر کے ساتھ وابستہ الفاظ کے ساتھ ضروری نہیں کہ سو فیصد انصاف کر سکے. آپ دنیا پر راج کرنے والی انگریزی زبان کو دیکھیں. جب میں ڈکشنری ترتیب دے رہا تھا تب مجھے تو سچ میں بڑی حیرانگی ہوئی یہ دیکھ کر کہ اگر ڈکشنری سے فرانسیسی، یونانی، لاطینی، عربی سندھی، ہندی وغیرہ زبانوں کے الفاظ نکال لیے جائیں تو وہ بچے گی کتنی؟ حیرت ہے، آپ کو شاید یہ سن کر حیرت ہو کہ اگر انگریزی لغت کی کتاب سے یہ تمام زبانوں کے الفاظ نکال لیے جائیں تو یہ کتاب تو دھڑام سے گر پڑے گی! یعنی بالفرض اگر اس کے ایک سو صفحات ہیں تو باقی بچیں گے کوئی سات یا آٹھ یا زیادہ سے زیادہ کوئی بارہ!
میں تو کہتا ہوں کہ یہ لوگ بڑے سیانے تھے اور آج بھی ہیں. وہ پوری دنیا سے اپنی زبان کو حاملہ کراتے رہے. انہوں نے قانون اور حکومتوں والے الفاظ فرینچ سے لیے تو علم و دانش کے الفاظ لاطینی اور یونان سے، کارہائے زندگی سے وابستہ الفاظ جہاں ملے انہوں نے اٹھالیے.. اور یوں انہوں نے اپنی زبان کو کبھی بانجھ رکھنے نہیں دیا! اور یہی بات ہے کہ پوری دنیا کے لیے یہ زبان اپنی اپنی سی لگتی ہے.. مانا کہ کئی اور بھی وجوہات ہیں لیکن یوں یہ زبان مختلف تہذیبوں میں سرایت کرتی جا رہی ہے. مارکیٹ ہو یا فلسفہ ہمیں انگریزی اپنی لگتی ہے.
سو میں بات کر رہا تھا کہ کوئی بھی ایک زبان ضروری نہیں ہے کہ زندگی کے سب مکتب ہائے افکار سے وابستہ الفاظ کے ساتھ انصاف کر سکے. جیسے ہمارے موضوع کا اہم لفظ ہے "روح” تو کیا آپ جس تناظر میں یہ تصور سوچ رہے ہیں تو ذرا ایک پل کے لیے ہی سوچیں کہ یہ اس حقیقت کے ساتھ انصاف کر پا رہا ہے یا نہیں؟ یقینی طور پر نہیں! اب میں یہاں اس کی جگہ ہماری زبان کا لفظ اٹھاتا ہوں. یعنی "آتما”. ہاں یہ لفظ زبردست جچتا ہے. کیونکہ جب بھی میں آتما پکارتا ہوں تو میرے ذہن میں کسی ٹھوس چیز کا تصور بغلگیر نہیں ہوتا! کیونکہ یہ لفظ بڑا وسیع ہے. بہت بڑا وسیع!
دیکھیں یہاں کس طرح سندھی زبان انصاف کر رہی ہے اس حقیقت سے! آتما، یعنی "آتم” یعنی "میرا اپنا آپ” جو بہت عقلی ہے. اجسامی نہیں! یہ میرا ہونا! یہ سب کا ہونا ہے… اس "میں” لفظ کی بہت کرامت ہے. یہ بہت بڑا وسیع لفظ ہے. میں.. دنیا میں اربہا اربہا "میں” کہنے والے ہزاروں برسوں سے اس "میں” کو مکمل طور پر عیاں نہ کرسکے! "میں”. اس "میرے ہونے پن” (Amness) پر کتنی ہزاروں کتب لکھی گئی؟ کتنی داستانیں رقم ہوئی لیکن یہ "میں پن” وہ ہی کنوارہ ہی رہا! یہاں یہ بہت پیارا اور حسین لفظ ہے. اب میں گذارش کرونگا کہ ذرا سا اس لفظ کو اپنے ذہن میں جگہ دیجیے تو ہمیں بہت آسانی ہوگی اور اگر "ریڈی میڈ لفظ روح” پر ہی اٹک گئے تو مشکل ہوجائے گی، میرے لیے بھی تو آپ کے لیے بھی! مشکل اس لیے ہوگی کہ آپ کے تصور میں صرف یہ غلط لفظ ہی نہیں گھومتا رہے گا بلکہ اس سے جُڑے ہزاروں اور بھی غلط حکایتیں پانی میں اندر جمی ہوئی کائی کی طرح چپٹی ہوئی رہیں گی…
میں نے سنا: ایک بچہ جگرافیہ کی مشق کر رہا تھا! اس کے نذدیک اس کی دادی اماں بھی بیٹھی ہوئی تھی، تو بچے نے دادی سے پوچھا:
"دادی جان! دریائے سندھ کہاں سے بہتا ہے؟”
اس کی دادی جو کچھ دنوں سے زکام میں مبتلا تھی اور اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا وہ جلے دل جنجھلا کر بولی: "بیٹا میرے سر سے.”
بچے نے ایک پل کو اپنی دادی کی طرف گُھُور کر دیکھا، اس کی ناک بہ رہی تھی. تب بچہ اچانک چیخ کر بولا: "امی امی! سامان اندر کریں دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے”. (حاضرین میں قہقہ)
سو ٹھیک آپ بھی اس بچے کی طرح پھر غلط تصور پر اٹک کر الٹی سیدھی حرکتیں کرنا شروع کردیں گے. لہٰذا میں یہاں نقوی صاحب سے معذرت کے سات روح کی جگہ آتما کہوں گا!
تو جیسے میں نے کہا کہ جب ہمارے ذہن میں کسی بھی حقیقت کا تصور منصفانہ نہ ہو تو ہم بہت ساری غلطیوں کے مرتکب بھی ہوجاتے ہیں. مثال اگر آپ گہرائی سے دیکھیں اور سمجھیں تو اب تک آپ کو یہی بتایا، سنایا اور باور کرایا گیا ہے کہ یہاں سب کی اپنی اپنی روح ہے…! لیکن اگر آپ اس پر انتہائی غور و فکر کریں تو یہ بات آپ کو "سامراج” کی سازش ہی لگے گی. صدیوں سے بلکہ ہزاروں برسوں سے انسانذات کو مختلف ناموں سے بانٹا گیا ہے. ذات پات، دین دھرم، رنگ نسل، اور مادی طبقات میں انسانذات کو موقعہ پرست، طاقتور گروہ نے بانٹ کر رکھا ہے. اس سامراج نے ہر خطے میں، ہر دور میں ۔
کبھی دیوتا بن کر تو کبھی پنڈت کا سہارا لےکر، تو کبھی خود کو خُدا منوا کر دوسروں کو زیر کر کے رکھا ہوا ہے، اور میں تو اس حد تک کہتا ہوں کہ ان کا آج بھی بول بالا ہے.. تو انہوں نے یہ "آفیم” کی ایک اور خوراک تیار کی کہ ہم سب کی آتمائیں جدا جدا ہیں… تم غریب ہو کیونکہ تمہاری آتما سے بہت بڑا ظلم ہُوا تھا، میں امیر ہوں کیونکہ میری آتما تو بڑی پاک ہے، تم بھگت رہے ہو کیونکہ تمہاری آتما بہت نچلے درجے کی ہے، ہم مزے میں ہیں کیونکہ ہماری آتمائیں بہت اعلیٰ اور مقدس ہیں… اور ہم سب نے صدیوں سے بلا سوچے، بلا غور کیے اس بیہودہ ستیاناسی نظریہ کو مان کر اپنے گلے کا طوق یونہی پہنے رکھا ہے کہ ہماری آتما ہی کمین ہے تو اب کیا کیا جائے؟
دیکھا آپ نے؟ ایک غلط تصور نے کس طرح سامراج، بھتہ خور، بورژوا، اور انسان دشمن گروہ کو پالتے ہوئے رکھا ہے؟ اب اگر ایک پل کے لیے سوچیں کہ میری یا تمہاری، اس کی یا اُس کی، پوری انسان ذات کی کوئی جُدا جُدا آتما نہیں ہے اور ہم سب ایک ہی آتما کے طفیل سانس لے رہے ہیں تو، سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوگا؟ معاشرے کے دُھتکارے ہوئے اور صدیوں سے پسے ہوئے طبقے کا یا اس گروہ کا جو ہزاروں برسوں سے ہمارا خون چوس رہا ہے؟ آج بھی اگر کوئی آدمی یہ جرئت کرکے کسی مولوی، کسی پنڈت، پادری یا ربی کو یہ کہے کہ "میاں کاہے کی جدا روحیں؟” کہاں لکھا ہے یہ؟ اور ہم کیوں بھگت رہے ہیں ایسے تو ملے گا کیا آپ کو؟ ایک سند کہ تم ناستک ہو! کہ تم دہریہ ہو! کہ تم خبیث ہو… وغیرہ وغیرہ….
لیکن میرے دوستو ان سے صرف اتنا پوچھو کی کہاں ہے لکھا یہ مقدس کتاب میں؟ کسی ایک بھی آسمانی کتاب میں کہ یہاں "روح” کا جمع صیغہ بھی ہے؟ آپ کو حیرانگی ہوگی کہ پورے قرآن پاک میں یہ لفظ ہے ہی نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ "روح” (میں اب پرانا لفظ استعمال کرتا ہوں) کا جمع صیغہ یعنی "روحین” ہو…. بس کہ صرف "روح”.
تو جب ہم اس بات پر یقینی قائم ہوجاتے ہیں کہ آتما امر ہے، اسے کوئی موت نہیں آتی، اور وہ تمام کائنات میں یکسان ہے، کوئی جگہ اس کے بغیر خالی نہیں اور اہم بات کہ ہم سب انسان ایک ہی آتما سے زندہ ہیں تو کئی سامراجی چالیں ناکام ہوجاتی ہیں. مادی ہو یا غیرمادی لیکن تفریق ختم ہوجاتی ہے (کم سے کم اس تناظر پر تو!)
سو ہم سب کے اندر باہر، جنگل، بیاباں، ہوا، پانی خلا نیز کیا ہے اس لامحدود کائنات میں جہاں یہ "آتما” نہ ہو! یکساں، برابر اور ایک ہی طاقت کے؟ کتنا اچھا بول گیا وہ شاعر کہ:
ہر ذرہ چمکتا ہے انوارِ الاہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے، ہم ہیں تو خدا بھی ہے!
ہر سانس؟ کتنا لطیف احساس ہے.. کہ بس اپنی آنکھیں موند کر ایک پل کے لیے سوچو کہ میں ہوں تو خدا بھی ہے، خدا ہے تبھی تو میں ہوں… اب اسے خدا کے لیے الفاظ کے میلے گدلے اور باسی ہتھوڑوں سے پاش پاش مت کرنا! اس لطیف احساس کو یونہی رکھنے دو! آپ دیکھیں گے کہ یہی آتما آپ کو اپنی کرامات دکھانا شروع کردیگی کہ تم ہو جیسے ٹھیک ویسے اور بھی ہیں… وہ بھی اسی طرح سے سانسیں لیتے ہیں، تمہیں بھوک لگتی ہے تو تم چیخ اٹھتے ہو، ٹھیک ویسے وہ بھی بھوک پر چیختے ہیں… تمہیں کوئی گالی دے تو تم آگ برسانا شروع کرتے ہو، ٹھیک اسی طرح سے دوسرے بھی ایسے ہی محسوس کرتے ہیں.. تمہیں وہ پھر پوری کائنات سے ملا دیتی ہے، تمہارے وجود میں ایک لامرئی تال میل پیدا کرتی ہے، ایسا تال میل کہ پھر تم انسان تو کیا کسی درخت کا پتہ تک یونہی نہیں اکھاڑتے! وہ احساس پھر تمہیں اس پوری کائنات کے ساتھ احساس کا ایک رشتہ بناکر پرونا شروع کرتا ہے۔
میں یہاں ایک مثال دیتا ہوں! جین مت کا بہت بڑا نام مہاویر جو کہ کسی بھی جیون کا آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ کسی درخت کا پتہ اس لیے نہیں توڑتا تھا کہ اس پتے سے جو رس نکلتا تھا وہ اس کے بھی درد کو سمجھتا تھا وہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں "کل میں تمہاری طرح تھا، اور آنے والے کل میں تم میری طرح ہوجائوگے…” اسی بات کو تو مولانا رومی نے بھی آگے بڑھایا تھا، اب مجھے اجازت دیجیے کہ میں پہلے فارسی میں مولانا رومی کا یہ خوبصورت ترین شعر آپ کو سنائوں:
از جمادی مُردم و نامی شدم، وز نما مُردم بحیوان سرزدم
مُردم از حیوانی و آدم شدم، پس چہ ترسم کی ز مردن کم شدم
حملہء دیگر بمیرم از بشر، تا برآرم از ملایک بال و پر
وز ملک ہم بایدم جستن ز جو، کل شییء ہالک الاوجہ
بار دیگر از ملک پران شوم، آنچہ اندر وہم ناید آن شوم
پس عدم گردم عدم چو ارغنون، گویدم کانا الیہ راجعون
اب سنیے کہ وہ کیا کہ رہا ہے: میں پہلے پہل جمادات میں تھا پھر فنا ہو کر ارتقا کرتا نباتات میں ظاہر ہو گیا، پھر فنا ہوا اور اب حیوانات کی صورت میں نمودار ہوا۔
اور اب میری حیوانیت بھی فنا ہو گئی اور اب کی بار ترقی کرکے انسانی صفات میں طلوع ہُوا۔ اور اب مجھے فنا ہونے کا خوف نہیں۔ کیونکہ فنا سے مجھ میں کوئی کمی نہیں پیدا ہوتی۔
حیات مادی کے بعد مجھ پر پھر فنا کا حملہ ہوتا ہے۔ اب میری بشریت معدوم ہوتی ہیں اور فرشتوں کی مانند مجھے بال و پر عطا کئے جاتے ہیں اور مجھے وہ سب حیرت سے دیکھتے ہیں اور میں عالم ملکوت سے میں پرواز کر کے ایسے مقام پہ پہنچ جاتا ہوں، جہاں وہم و قیاس کا گذر نہیں ہو سکتا۔ میں آخر میں عدم ہی عدم ہو جاتا ہوں اور ساز کی طرح ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے میرا ورد ہو جاتا ہے۔
اب آپ نے یہاں غور کیا کہ اس اشکالی کائنات میں تمام مادی وجود مختلف اشکال میں اپنے اپنے رنگ بدلتے ترقی کرتے ہوئے ملتے ہیں لیکن ان سب میں ایک قوت یکساں ہے، جو انہیں پاتال سے اٹھاتی معراج کی اعلیٰ منزل تک پہنچاتی ہے. جو لامرئی ہے جس کو آپ سب ایک سستا لفظ "روح” کا نام دیتے ہیں اور جسے میں سندھی زبان کا لفظ "آتما” پکار رہا ہوں! جو واحد ہے. جس کا اگر کوئی شرک کرتا ہے یا اسے غلط مفہوم دیتا ہے تو نقصان کسی اور کو نہیں البتہ انسانی زندگی کو دھچکے لگنا شروع ہوجاتے ہیں، اور یہاں طبقے بنتے بنتے انسانیت بٹ جاتی ہے. کبھی سوچا اس بات پر؟
یہ وہ لامرئی قوت ہے جو ہوسکتا ہے پانچویں قوت ہو! سائنس یہی تو کہتی آرہی ہے کہ کائنات میں چار قوتیں موجود ہیں. ایک کمزور، ایک طاقتور، ایک کشش ثقل اور ایک برقیائی مقناطیسیت… اب تو سائنسدان اس کھوج میں ہیں کہ اگر ان چاروں کو ملایا جائے تو وہ پانچویں قوت کونسی ہوگی؟
ڈاکٹر عبدالسلام کو اسی بات پر تو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا کہ اس نے یہ نظریہ دیا تھا! وہ کہتا تھا کہ "ایک قوی ہیکل وحدانیت کا نظریہ” (Grand Unification Theory) اور وہ بہت قریب آچکا تھا! لیکن میں تو کچھ اور آگے کا سوچتا ہوں، کہ ہوسکتا ہے آتمائی قوت کبھی ساری کی ساری سمٹ کر کسی لیبارٹری میں نہیں آسکتی، کم سے کم مجھے اب تک یہی ادراک ہے، لیکن کیا پتہ؟ کل یہ حضرت سائنسدان پہنچ ہی نہ جائیں… اور دوستو یہ ممکن ہے. میں اسے ممکن سمجھتا بھی ہوں! کیونکہ یہ میں جانتا ہوں کہ اب تک میں اپنے ادراک میں کچا ہوں، ابھی میری اڑان بہت بہت کمزور ہے. سو اب تک میں نے یہی محسوس کیا ہے کہ یہ آتمائی قوت پوری کائنات میں یکساں ہے جو اوپر بیان کی ہوئی قوتوں کی ماں ہی لگتی ہے.
میں سمجھ رہا ہوں کہ میں نے بہت وقت لے لیا ہے آپ سب کا! اور سچ تو یہ بھی ہے آپ احباب شاید اپنی بیویوں کی بدعائوں کو بُھگت رہے ہیں کہ اس دقیق موضوع پر اتنے انہماک سے بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے برداشت کر رہے ہیں. لیکن دو منٹ بس.. اب صرف دو منٹ لونگا کہ یہ بات یہاں صاف کرتا چلوں کہ اس مادی دنیا میں اس آتما کا بہت اہم منصب ہے. لیکن یہ بات بارہا میں ان مقدس صحیفوں کو سامنے رکھ کر کر رہا ہوں کہ یہ باتیں صرف ان کے لیے ہیں جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں… بس یہ سمجھنا اہم ہے کہ ہم اس کائنات میں ایک مقدس اکائی میں ہیں، یہاں کوئی کسی پر مالکیت نہیں جما سکتا اور نہ ہی محکوم ہونا چاہیے، بس کہ صرف تم سمجھ جائو آتما ایک ہے. ہم سب ایک ہیں، کام کی نوعیت ہزاروں بار جدا ہوں لیکن بڑائی سب کی ہے، اور اگر نہیں تو کسی بھی انسان کی نہیں… ہے تو بس اسی قوت کی! خدا آپ سب کو بہت ساری آسانیاں عطا فرمائے اور کبھی بھی بھوک اور بد امنی کی عفریت کے سامنے نہ لائے. بہت مہربانی آپ سب کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال ۔ آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ آپ ہی کے بقول "آتما” ایک ہے، کچھ وضاحت کرینگے ؟
جواب ۔ بالکل کرسکتا ہوں. دیکھیں اول تو یہ طئے کیجیے کہ میں نا تو کوئی سند ہوں اور نا ہی میں کوئی حتمی فتویٰ درج کر رہا ہوں. یہ میرا مشاہدہ ہے یہ میرا اپنا تجربہ ہے. بس کہ میں آپ کو مزید سوچنے کی دعوت ضرور دے رہا ہوں. بات یہ ہے یہاں میں ایک انتہائی ادنیٰ سی مثال دے رہا ہوں، میں مانتا ہوں کہ جس حقیقت یا قوت کا یہاں ذکر ہو رہا ہے اس کے آگے یہ چھوٹی سی مثال چیونٹی سی ہے جسے ہم سیارہ مشتری سے ملانا چاہ رہے ہیں، لیکن مجھے معاف کیجیے گا کہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے.
بہرحال، آپ کو پتہ ہوگا کہ ہم جو ریڈیو سنتے ہیں وہ درحقیقت دو قوتوں سے چلتا ہے. ایک اندرونی جسے ہم بیٹری کا نام دیتے ہیں اور دوسری وہ فریکوئینسی جو اس سے گذر رہی ہے جس سے وہ نہال ہے. یعنی ڈوبا ہُوا ہے. اب اگر آپ کمرے میں بیٹھ کر ایک ریڈیو آدھے والیوم پر چلاتے ہیں اور اسی کمرے میں اگر ایک ہزار ریڈیو بھی اسی فریکوئینسی پر چلائیں اور ان کا والیوم بھی آدھے پر ہوں تو کیا آپ کہ سکتے ہیں کہ پہلے ریڈیو کی آواز کچھ ماند پڑجائے گی؟ کیونکہ اب اسی فریکوئینسی پر اور ایک ہزار ریڈیو چلنا شروع ہوگئے ہیں؟ نہیں.. ایسی کوئی بات نہیں… ایک ہی فریکوئینسی پر ایک ہزار کیا لاکھوں ریڈیو چلیں تو اس فریکوئینسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا. کیونکہ وہ یکساں ہے.
اب میں دو حالات سامنے لاتا ہوں…
اول: آپ ریڈیو کو یونہی چلنے دیں، دن رات وہ چلتا رہے تو ظاہر ہے اس کی اندر کی بیٹری ماند پڑنے لگے گی، اور یوں وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی ہوئی ایک وقت آئے گا ختم ہوجائے گی. آواز بند! لیکن کیا وہ فریکوئینسی بھی ختم ہوئی؟ نہیں وہ جیسے تھی ویسے ہی رہے گی.
دوئم: آپ چلتے ریڈیو کو اٹھا کر زور سے دیوار پر ماردیں… اندرونی اعضاء بکھر جائیں گے. اس کا سارا تال میل ختم ہوجائے گا. لیکن کیا وہ فریکوئینسی بھی اس ریڈیو کے ساتھ وہاں ختم ہوجائے گی؟ کبھی نہیں… وہ سالم، دائم و قائم تھی اور رہے گی.
اب یہ دونوں مثالیں زندہ حیاتیوں پر لاگو کر کے دیکھیں. پہلی مثال آپ کو طبعی موت جیسی لگے گی اور دوسری حادثے والی موت کی!
ہم سب حیات رکھنے والے جاندار بھی ٹھیک اسی طرح دو قوتوں کی مدد سے زندہ ہیں. پہلی قوت "میٹابولزم” کی شکل میں ہم جو کھاتے پیتے ہیں وہ بیٹری جیسی ہے، اور دوسری وہ قوت آتما کی ہے.. جو ہمارے وجود سے تال میل کھا کر ہم سے عیاں ہے. وہ درحقیقت ایک ہی ہے.
ایک اور اہم بات، وہ یہ کہ صارف کا طریقہ کار بڑا اہم ہوتا ہے. ہمارے وجود میں فطرت نے ایک عجیب و غریب پیچیدہ سا تال میل بنا کے رکھا ہُوا ہے، جو ہمیں اس ابدی قوت یعنی آتما کی مدد سے رونما ہورہا ہے. ٹھیک یہی تال میل نباتات میں اور حیوانات میں اس طرح نہیں ہے جس طرح ہم میں ہے. ہم سب درحقیقت اس آتما کے جیسے "صارف” ہیں… ہم سب کے سب، درخت، پرند، چرند نیز سب کے سب… اب جو صارف کے پاس نظام ہے ٹھیک اسی طرح سے وہ آشکار ہوتا ہے… عقلی طرح سے اور اجسامی طرح سے بھی… جی!
16 جنوری 2003
لاہور



