ڈاکٹر ذاکر نائک پر میری رائے

پچھلے دنوں سے سوشل میڈیا پر اپنے انتہائی قریبی دوستوں کی پوسٹنگس جو کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے بارے میں لکھی گئی تھیں وہ پڑھیں، پھر اچانک بنگلادیش میں اس صاحب کے نجی تبلیغی چینل پر پابندی کے بعد ہونے والی بحثا بحثی پر اکثر دوستوں نے مجھ سے مؤقف جاننا چاہا کہ میری کیا رائے ہے! سچ عرض کروں کہ مجھے اس بحث میں کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ ایک تعفن سا محسوس کرتا ہوں۔ لیکن اگر خود کو خود کی کورٹ میں پیش کرکے اپنا مؤقف رکھنا چاہوں تو وہ یہ ہے:
1۔ اول تو میں شرع شریعت، مذہب و مذہبیت جیسے دقیق اور خشک باتوں پر "عشق” کو ترجیح دیتا ہوں۔ مجھے جنت و جہنم سے زیادہ وہ عشق بھاتا ہے جو ان اصحاب کو تھا جو دس محرم کی رات جنابِ حسین ع کے ساتھ تھے، کہ جنہیں یہ حکم دیا جا رہا تھا کہ آپ لوگ اپنے گھر تشریف لے جائیں، کیونکہ کل اختمام کا دن ہوگا۔ ان سے یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ قیامت کے دن وہ ان کے ساتھ اٹھائے جائیں گے، لیکن وہ نہیں جا رہے تھے۔ شمعیں گل کی گئیں کہ شاید پہل کرنے میں کسی کو کوئی حجاب نہ ہو، لیکن جب بتیاں جلائی گئیں تو وہ صحابہ امام حُسین ع کے ساتھ وہیں کے وہیں بیٹھے پائے گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیوں نہیں جا رہے آپ لوگ تو حضرات ذرا جواب سنئیے ان کا! انہوں نے جواب دیا تھا کہ: "سرکار! ہمیں جنت سے کیا کام، اگر ہم آپ کے ساتھ نہ ہوں تو؟ ایسی جنت ہمارے لیے جہنم ہی ہوگی، سو ساتھ جئیں گے ساتھ مریں گے۔” تو کیا آپ لوگ نہیں سمجھ رہے کہ شرع شریعت سے عشق بازی پر بازیاں لیتا جا رہا ہے! مجھے حضرت اویس قرنی کا عشق اصولیات و فروعیات و ارکانِ دین سے زیادہ بھاتے ہیں جو ایک دانت کے عیوض سبھی دات تڑوا بیٹھتے ہیں! پتہ نہیں کیوں مجھے عشق کی لطافت ان شرعی باتوں سے ہزاروں گنا بھاری لگتی ہے جو کہ ہمارے صوفیاء کرام کے پاس تھی، جو کہ ہماری میراث ہے؛ لیکن افسوس کہ وہ لطافت مجھے ڈاکٹر ذاکر کے پاس نظر نہیں آتی!
2۔ مجھے ڈاکٹر ذاکر نایک صاحب کی تعلیم، خطرناک حدوں تک حافظہ، منطق اور "اور مذاہب” پر الفاظ کے نشتر تان کر چڑھ جانا زیادہ مرعوب نہیں کرتا۔ وجہ صاف ہے۔ اگر علم کی بات ہے، اگر عبادات کی بات ہے، اور اگر فصاحت و بلاغت کو ہی پئمانہ بناکر "احسانمندی” مانی جائے تو ذرا موجودہ "ابلیس” جو کہ درحقیقت "عزازیل” تھا جو کہ "ملک الملائکہ” تھا اس پر تو نگاہ ڈالیں! آپ سوچ سکتے ہیں اس کی عباتوں کو؟ آپ سوچ سکتے ہیں اس کی ریاضتوں کو؟ کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ کائنات کا وہ کون سا چپہ ہے جس پر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا تھا؟ لیکن وہ لعنتیر کہلوایا۔۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ بات کا جوہر نہ سمجھ پایا، کیوں کہ اس نے حکم عدولی کی، کیوں کہ اسے اپنے علم پر فخر جاگ گیا تھا! اگر روزہ نمازیں اور ایسے ارکان کو ہی عین شرع سمجھا جائے جن کی تبلیغ و ترویج جناب ذاکر صاحب کر رہے ہیں تو کیا کربلا میں سپاہِ یزید بشمول شمر و ابنِ زیاد و سپاہ نمازی نہ تھے؟ کیا وہ روزے نہیں رکھتے تھے؟ اور اگر ہر روزیدار ہر نمازی کے بارے میں ہم ایسی شرع و شریعت کو اصل فعل مانیں تو کیا میں پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ قرآن پاک میں "سورۃ منافقون” کن لوگوں کے بارے میں آئی تھی؟
3۔ یہ کلی حقیقت ہے کہ محبت جوڑتی ہے اور نفرت توڑتی ہے، کیونکہ وہ تفاوت کرنا چاہتی ہے۔ محبت باہم ہونا چاہتی ہے۔ اور آپ جب بھی کسی سے جدا ہونا چاہیں تو آپ صرف وہ پہلو دیکھیں جو آپ میں نہیں یا اس کی الٹ میں مشترکہ باتیں دیکھیں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہم کتنے قریب ہیں! یہی اصول جب ہم ڈاکٹر صاحب پر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ صرف تفاوت دیکھتا ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ہم میں کتنا تفاوت ہے۔ اس کی حدِ نظر اور ارتکازِ نظر اس پر نہیں کہ ہم سب ایک ہیں ایک ہی فطرت کی تخلیق ہیں، بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم میں اور "اوروں” میں کیا فرق ہے۔ جو کہ میں نہیں سمجھتا کہ ایک صحتمند بات ہے۔
4۔ سچ عرض کروں، پتہ نہیں کیوں مجھے ڈاکٹر ذاکر نائک کا لہجہ، اندازِ تخاطب، آوز نہیں بھاتے! شاید میں زیادہ حسن پرست ہوں، ہاں شاید مجھے فطرت کا ترنم، سانس سانس کی دھڑکن، کویل کی کُو، ہوا کی سائیں سائیں زیادہ لبھاتی ہیں، جنہیں سن کر میں حسن کو قریب سے محسوس کرتا ہوں، کہ دل اچانک خالقِ کائنات کے حسین ترین احساس سے لبریز ہوجاتا ہے اور میں دل کی گہرائیوں میں سر بسجود ہوجاتا ہوں۔ ایسے میں مجھے کرخت لہجے، خشک چہرے اور الفاظ کی لاٹھیاں اداراک سے بیگانہ کردیتی ہیں، میں اسی لیے ڈاکٹر ذاکر صاحب کو پسند نہیں کرتا۔
5۔ اب اگر کوئی یہ دلیل دے کہ ڈاکٹر ذاکر نایک کے پاس کتنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، غیر مذاہب کے لوگ آتے ہیں اور اسلام سے متاثر ہوتے ہیں تو مجھے ان کی "عقلی یتیمی” پر ہنسی آتی ہے۔ جو لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا کتنی بے معانی ہوتی جا رہی ہے؟ یہاں پر ایک سرمائیدار طبقہ ہے جو دھرتی پر حقیقی مقتدرہ "دھڑا” بن کر پوری دھرتی کو ذلیل و خوار کر رہا ہے، جہاں اخلاقیات کی دھجیاں ادھیڑی جا رہی، ایسے ماحول میں اس غیر یقینی صورتحال میں نوجوان لوگوں کو زندگی عدم تحفظ والی نظر آئے یا بے مقصدیت کا راج ہو تب وہ "فینٹیزی” ٹائیپ کی چیزوں میں پناہ نہ لیں گے تو کہاں لیں گے؟ جب لوگ اپنی بنیادی ذمیواریوں کو پورا نہ کر پا ئے ہوں، جب لوگوں نے معاشی گناہ کر رکھے ہوں، غریبوں کا خون چوس چوس کر اپنا بئنک بیلینس بھردیا ہو اور جب انہیں "بقول ان کے” سب کچھ پا کر بھی چین نہ ملا ہو تو وہ کہاں جائیں گے؟ اب ظاہر ہے ہماری ریاستوں میں "تعمیرِ نو” مراکز تو نہیں کھلے ہیں کہ جہاں جا کر لوگ نفسیاتی طور پر کائونسلنگ کروا سکیں، ہرجانہ بھر کر دوبارہ اس معاشرے میں کام کر سکیں! اب وہ کہاں جائیں گے؟ ہم آپ اور سبھی متاثرہ لوگوں نے تو انہیں "پیٹ بھرے، سامراج، عیاش” کہ دیا، بلکہ انہیں عاق کر دیا، تو وہ کیا کریں گے؟ ٹھیک یہیں پر ڈاکٹر ذاکر نائک، جیسے، مولوی طارق جمیل جیسے "مذہبی افیونچی” لوگ انہیں سہارہ دیتے ہیں، کہ جناب اتنی مساجد بنوائو، اتنی عبادات کرو، اتنا ہمیں چندہ دو، تو تمہاری جنت "فری پھوکٹ” میں دستیاب ہے۔ سو عارضی طور پر ایسے سماجی کوڑھ لوگوں کو یہ مولوی لوگ "مقدس شارٹ کٹ” دیتے ہیں۔ جو پھر اپنے بچوں کو بھی یہاں لاتے ہیں، اور ان کے بچے؟ جو اپنی مائوں، باپوں کو اور مائوں باپوں سے ادل بدل (Wife Swapping) کرتے دیکھ کر اکتا کر اس مذہبی فینٹیزی میں منہ چھپا کر ڈوب جاتے ہیں۔ سو میرے دوستو، یہ ذاکر نائک یا طارق جمیل کی مدلل تقاریر کا نہیں بلکہ سماجی گھٹن اور معاشی عدم برابری کی وجہ سے یہ خلا پیدا ہوئی ہے۔
6۔ آپ سب کو ڈاکٹر نائک صاحب اس لیے اچھا لگتا ہے کیونکہ آپ کو "مذہب” کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ کیونکہ آپ اب تک تواریخی تسلسل اور ارتقا کے فلسفے کا مشاہدہ و مطالعہ نہیں کر سکے ہیں، کیونکہ تقابلی تنقید جیسے سائنسی اصطلاح کہ جس کے ابے (یونانی ہرق لاطیس سے لیکر مولانا فارابی تک) کو آپ لوگوں نے نہیں پڑھا، کہ آپ ابن عربی یا بایزید بسطامی سے ناشناسہ ہیں، اور شاید آپ کو ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ کس طرح کارل مارکس ویدانتی تصوف کے امام جناب ابنِ عربی سے متاثر تھے کہ جس کی تعلیم سے اس نے "سرپلس ویلیو” اور اشتراکیت کا قانون نکالے تھے، اور وہ ابنِ عربی کس کے راستے کا راہی تھا؟ اس کا روحانی استاد کون تھا؟ اٹھائیں تواریخ اور پڑھیں کہ ابنِ عربی جس مکتب کا شاگرد تھا اس مکتب کی بنیاد بایزید بسطامی نے ڈالی تھی جس کا استاد ایک سندھی تھا جس کا نام ہے "بو علی السندھی” جس نے مشرقِ وسطیٰ کے کوڑھ لگے تصوف میں ویدانت کی روح ایسے ڈالی جس طرح تھیلسیما کے مریض کو نیا خون دیکر حیاتی دی جائے! کیا کبھی آپ لوگوں نے "رگ وید” کا مطالعہ کیا ہے؟ اس کے پہلے ابواب کی بذاتِ خود تشریح پڑھی ہے؟ مجھے یقین ہے نہیں، کیونکہ اگر پڑھی ہوتی تو اس طرح موجودہ "نام نہاد پیروں و مولویوں” کے سحر میں نہ پڑے ہوتے! اور جب بات اتنی بے خبری تک پہنچ جائے کہ ہمیں اپنے حقیقی جدِ امجد کا پتہ تک نہ ہو تب یقینی بات ہے کہ ہمیں پرائی باتیں زیادہ لبھائیں گی اور یہی وجہ ہے کہ ہم سب کمپلیکس کے مریض لوگوں کو عربوں کی سوکھی سڑی تاریخ کا پیوند لگاتے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اور اس ذہنی غسل گیری کا سارہ طرہ ایسے زبان دراز ذاکر نائک جیسے لوگوں کے کاندھوں پر جاتا ہے۔
اسی طرح اگر میں یہاں منطقی طور پر ذاکٹر ذاکر نائک یا حتیٰ کہ یہاں طارق جمیل جیسے لوگوں پر علمی تنقید کروں تو مجھے یقین ہے آپ الٹیاں کردیں گے۔ میں بارِ دگر دوستوں کو عرض رکھتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں کی تشفی ہوجاتی ہے تو میں تیار ہوں، علی الاعلان براہِ راست ٹیلیوژن پر ان دونوں مولویوں کے ساتھ میرا مذاکرہ کروایا جائے۔ اگر دو گھنٹوں میں یہ چت نہ کردوں تو میرا نام نہیں!
شرط ایک ہے:
وہ یہ ہے کہ یہ لوگ کتابیں رکھیں گے سائیڈ پر، اور صرف مجھ سے منطقی باتیں کریں گے، تجربے کی باتیں کریں گے، جو تجربہ سب کا ہو۔ سو ٹھیک اسی بات کا اصول بنا کر ان سے کہیں کہ کتابوں کو لپیٹ کر آجائیں اور دوبدو باتیں کرتے ہیں۔ میری ایک بات ان کے سامنے وہ ہی ہوگی جو کہ سنت کبیر کی تھی کہ:
تم کہو کاگج کی لیکھی،
میں کہوں نینن کی دیکھی!
(تم کتابی باتیں کرتے ہو اور ہم اپنی آنکھوں دیکھی کرتے ہیں)