بٹوارے کرائو اور حکومتیں کرو (Divide & Rule) کا دؤر ہوگا، بلکل تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد خصوصی طور پر سرد جنگ والے دور میں تو یہ طاقتور ممالک کا مرغوب ترین ہتھکنڈہ تھا۔ لیکن امریکا بہادر جان گیا کہ اب مزید اس طریقے سے لوگوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی، سو سرد جنگ کے دوراں ہی امریکا کی بہت بڑی یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور ڈاکٹر نئے عزم کی کھوج کے لیے معمور کروائے گئے اور بالاخر روس کے ٹوٹنے سے پہلے ہی انہیں ایک گھنائونا منصوبہ مل گیا۔ وہ کیا تھا؟
اسے (Shock & Awe) یعنی جھٹکا دو، دھماکے کرائو اور لوگوں کو ڈرائو، پھر ان پر حکومت کرو۔
اس نظریے کے بانی نیشنل ڈفینس یونیورسٹی امریکا کے دو پروفیسر جناب "ہرلن کے المین” اور جناب "جیمز پی ویڈ” تھے جنہوں نے دو ہزار آٹھ سئو صفحات پر انسانی نفسیات، معاشیات اور سماجوادی اصولیات پر اپنی جامع رپورٹ بنا کر امریکا کے اصل حکمرانوں کے حوالے کی کہ جناب اب اس نظریے پر کام شروع کیا جائے۔
اور پھر کیا ہوا؟ اندازہ کریں:
نوے میں روس ٹوٹ گیا سو امریکا کو اپنے لیے خوفناک دشمن بنانے ضرور تھے سو القاعدہ بنوائی گئی، اور پھر القائدہ کے ماتحت کئی اور جنگجو تنظیمیں پیدا کروائی گئیں۔ مزے کی بات دیکھئیے، ڈالر امریکا کے، مہلک ہتھیار امریکا کے لیکن جنہیں یہ دونوں دیے گئے انہیں یہ بھی کہا گیا کہ "ہمیں گالی دینے والے کو یومیہ اتنا ملے گا۔” (یہ مذاق میں کہ رہا ہوں)
ایمن الظواہری جیسے لوگ سامنے آئے، پینٹاگون سے لیکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نچلے فلور پر دھماکے کروائے گئے، مقصد کیا تھا؟
اول: امریکی عوام کو یہ ثابت کروایا جائے کہ تمام دنیا آپ کی جمہوریت سے ڈرتی ہے اس لیے آپ کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔۔ کل روس تھا سو ہم مقابلہ کرتے آپ کو بچاتے رہے لیکن اب خردماغ عرب ہیں۔۔ سو ان سے بچنے لیے آپ ہمیں زیادہ سے زیادہ ٹیکس دیں اور ہماری بیعت یونہی کرتے رہیں جیسے کرتے آرہے ہیں۔ نیز وقت بوقت دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی سفارتخانوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکی لوگ مروائے گئے، اور یوں امریکی عوام کو یہ یقین بیٹھ ہی گیا کہ ہمارے آقا بالکل ٹھیک کہ رہے ہیں۔ سو وہ سماجی تحفظ یا انشورنش اور بہترین سہولیات کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک خوف کی وجہ سے امریکی حکومت کے زیرِ سائے ایسے دبکے رہے جس طرح چوزے مرغی کے پرندوں میں گھس بیٹھئیے بن کر نظر بھی نہیں آتے۔
اور پھر نائین الیون ہوگیا۔ پوری امریکی عوام پہلے شدید خوف میں اور بعد میں ہر داڑھی والے پر شدید غصے میں آگئی اور یوں امریکی حکومت کو شاک اینڈ ایو کی صورت میں زبردست حکمتِ عملی مل گئی۔
دوئم: پوری دنیا کو باور کرایا گیا کہ "تم دہشتگردوں کے ساتھ ہو یا ہمارے؟۔۔۔ اگر ہمارے ساتھ ہو تو ہماری جنگ میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائو۔۔ نہیں تو۔۔ سمجھ جائو۔”
اور یوں اس کریہ ترین جنگ میں اچھے سے اچھے مذاہب کے پیروکار اور عالم بھی بیگار کیمپ میں بیٹھ کر ارادی طور پر یا غیر اردای طور پر امریکا کے اس گھنائونے منصوبے میں شامل ہوگئے۔
دیکھتے دیکھتے طالبان بنے، چچینیا میں فورسز بنی، بوسینیا میں جنگ چھڑ گئی، اور پوری دنیا میں دھماکوں پر دھماکے ہوتے گئے۔ وہ اسپین میں ریل دھماکوں کی صورت میں ہو یا لندن میں بس دھماکے، بالی کلب میں دھماکہ ہو یا اوکلاہاما میں ڈفینس آفیس پر خود کار بم دھماکے۔۔۔ پاکستان میں کراچی کی ایک پل پر تیل ساز ادارے کے انجنیئروں کا قتل یا ڈینئیل پرل جیسے بہترین صحافی کو بَلی کی بھینٹ چڑھانا، نیز جتنی تیزی سے یہ کارروائیاں ہوتی گئی، امریکا کی ڈرل مشین پوری دنیا کے ممالک میں سوراخ کرتی داخل ہونے لگی اور ان پر رعب ڈال کر کہنے لگی۔۔۔ (We the Americans) ادب کے کھڑے ہوجائو۔۔۔
اور اب مزے کی بات اور۔ شاک اینڈ ایو میں امریکا کا بہترین پروپیگنڈا والا ہتھیار کیا تھا؟ میڈیا!
جس میں سب سے بڑا حصص ہالی ووڈ نے ڈال کر پوری دنیا میں یہ بات ثابت کردی کہ: تم سب شدید خطرے میں ہو اور تمہیں اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ ہے امریکا۔
تو میرے دوستو، یہ شاک اینڈ ایو کی رموٹ لیبارٹری والے ممالک جو ٹھہرے ان میں ہمارا الباکستان سر فہرست نکلا۔
اب کیا ہوا کہ پاکستان میں پنجاب اسٹبلشمینٹ نے جب شاک اینڈ ایو کو سمجھا تو فوری طور پر وہ ہی ہتھکنڈہ، وہ ہی طور طریقے یہاں بھی استعمال کیے۔
لیکن افسوس کہ یہاں نکاراگوا، القائدہ، اور طالبان ملک کے باہر کے نہ سمجھے گئے بلکہ صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے معصوم لوگ ۔۔ اور پیارے پاکستانی کون؟ پنجاب کے بالائی علائقے۔۔۔
یوں جس طرح امریکا بہادر اپنے لوگوں کو پروپیگنڈہ کرتا رہا ٹھیک اسی طرح سے پنجابیوں کے دل میں یہی بٹھایا گیا کہ تم سب خطرے میں ہو۔۔ یہ سندھی یہ بلوچی تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ سو آئو ہمارے ساتھ کھڑے ہوجائو۔۔ ہم تمہیں میگا پروجیکٹس دے رہے، ہم تمہیں لیپ ٹاپس دے رہے، صحت اور انشورنس وغیرہ وغیرہ۔۔ اور یوں۔۔۔ امریکا میں "وی د امریکنس” اور یہاں "ہم پاکستانی” کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔۔ لیکن کن لوگوں میں؟
میرا خیال ہے شاک اینڈ ایو والے نظریہ سمجھنے کے بعد اتنا تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔۔۔ کیوں؟ یا نہیں؟



