دعا کیا ہے؟

” وہ جن کو آسماں سے من و سلوا کے طعام نزول ہوتے تھے، وہ جو کائنات میں خدا کی پسندیدہ مخلوق کہلواتے تھے! جن کے لیے خدا کے ساتھ کلام کرنے والا پیغمبر رو رو کر دعائیں ماگتا تھا! آج ان کا حشر کیا ہے؟ وہ جن کے لیے سرورٍ کائنات محبوبٍ الاہی گڑ گڑاکے دعائیں ماگتا تھا، کہ اس کی امت کو سلامت رکھ! وہ جو مولائے کائنات کی جنگٍ خندق میں ایک ضرب سے خوش ہو کر تمام کلمہ پڑھنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دے گیا! آج اس کی امت کہاں ہے، کس حال میں ہے؟ جس امت کے ایک امیر (شیخ محمد عیسا آف ابو داہبی) کی پر تشدد ویڈیو دیکھ کر تمام دنیا کے لوگ پوری مسلم دنیا کو “اچھے اچھے الفاظ” سے یاد کر رہے ہیں! "
آج ایک مسلم دوسرے مسلم کو ذبح کرکے اللہ اکبر کا نعرہ ایسے لگا رہا ہے جیسے اسلام تباہی کے دہانے پر تھا، اور اس نے ہی تو اسے بچایا ہے!
کہتے ہین کہ ماں کی دعا عرش کے سب عرشے اکھاڑ کر منزل پر پہنچتی ہے…
پھر یہ کوٹھوں پر بنتٍ حوا کا رقص اور نوٹوں پر اس کی عزت کی نیلامی!
کیا اس کی ماں نے اپنی بیٹی کے لیے یہی دعا مانگی ہوگی؟
دعا … دعا … دعا …
انسان پیدا بھی نہیں ہوتا اور دعائیں شروع ہوجاتی ہیں، اور آخرکار مرجاتا ہے پھر بھی دعائیں!
کوئی دعا غلط نہیں ھوتی!
پھر یہ کیا ہے؟
سارا اثر الٹا!
کہاں ہے دعا؟
کیا دعا اپنا اثر کھو چکی ہے؟
کیا دعا اپنا کام کرتی ہے؟
کہاں ہے دعا؟
کیا ہے دعا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو صدیوں سے جیسے انسان کے دماغ میں آتے تو ہیں لیکن کوئی تشفی بخش جواب نہیں مل پا رہا. میں نے بارٍ دگر ان سوالات کو مختلف جگہ رکھا ہے، لیکن پاتا پھر سے کوئی نیا سوال ہی ہوں. پھر اپنے تجربے کی آنکھ سے دیکھتا ہوں تو حالت عجیب سی ہو جاتی ہے. غالب کی طرح نقطہ چیں طبیعت اور اضطراب آہنگ. پھر خود ہی جواب کی تگ و دو میں امی یاد آجائے.
میری امی میرے لیے ابھی تک ایک پہیلی رہی ہے. عجیب عجیب باتیں کہتی جن سے مجھے اکثر اپنی تعلیم پر ایک مبہم شک سا ابھرتا. پھر چند دن نہیں گذرتے کہ ان باتوں کا جواب ایسے دے جاتی کہ میں پھر عالمٍ عجائبات میں کھو جاتا.
ایک دن مجھے دعا کے متعلق بتایا کہ دعا کچھ نہیں ہوتی اگر آپ کو سلیقہ دعا نہیں آتا!
دعا بس اپنی امید اور خواہش کا اظہار ہے. تب میں نے پوچھا تھا کہ پھر مطلب دعا کا کام اللہ میاں سے نہ ہوا نہ؟
تو بولی: “اللہ میاں تب سنتا ہے، جب آپ اپنا کام پورا کر چکے ہوتے ہو.”
فیاض بابا! یاد رکھو، ایک ہی مقصد کے دو کام ہوتے ہیں. ایک آپ کرتے ہیں، اور دوسرا پھر اللہ میاں کرتا ہے.
نماز آپ نے پڑھی، اب قبولیت کا کام اللہ میاں کا ہے.
بیمار کی دوائی کا بندوبست آپ نے کیا، اب شفا اللہ میاں دیتا ہے.
کسی بھی کام کی شروعات آپ نے کی، اب اس کو انجامٍ خیر تک اللہ میاں ہی آپ کو توفیق دیتا ہے….
جیسے ایک لفظ ہوتا ہے “حیلہ”! اور جب یہ حیلہ کیا جاتا ہے تب ہی اس کے “وسیلہ” کا کام شروع ہوتا ہے!
بچہ بیمار ہوگیا ہے، آپ نے اس کی دوائی کروانی ہے. وہ ضرور ہے. اب آپ نے اپنا کام کیا ہی نہیں اور بیٹھے ہو دعائیں مانگنے! کہاں پوری ہوگی دعا؟
ایک کام ہوتا ہے جو آپ کے کرنے کا ہے، اس کو اللہ میاں نہیں کرے گا.
اور جو اللہ میاں کا ہے اسے آپ نہیں کر سکیں گے. کیونکہ وہ اللہ میاں کے کرنے کا ہے!
سندھ کے کلاسیکل ادب کا ایک کردار ہے، نام ہے اس کا “وتایو فقیر”. سانگھڑ ضلع میں اس کی قبر کے نشاں بندہ ناچیز دیکھ کر آیا ہے. عجیب و غریب باتیں اس کی مشہور ہیں! لوگوں نے تو اسے صرف مزاحیہ کردار بنادیا ہے. لیکں سچ بتائوں صاحبو! کہ میں نے بہت بڑا سنجیدہ کردار دیکھا ہے اس میں!
اس کے شگوفے سندھ کے سب لوگوں کی زباں پر رہتے ہیں. انہیں میں سے یہاں ایک عرض رکھونگا، تاکہ موضوع کو سمجھنے میں دقت پیش نہ آئے.
“کہتے ہیں کہ فقیر نے ایک گدھی پال رکھی تھی، جس پر وہ سواری کرتا تھا. اب ہوا کیا کہ پڑوس کی ایک گائے روز رات کے وقت آتی، اور اس گدھی کا گھاس کھا جاتی. گدھی بھوکی ہی رہتی، دن بدن کمزور ہوتی جاتی. اور جب فقیر کو سارا ماجرہ معلوم ہوا تب اس نے جذبات میں ااپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ لی.
دعا کیا تھی، سن لیجیے: “اے اللہ! مہربانی کرکے کانوں والی بچائو، اور سیگوں والی کو مار دے، کیونکہ سارا دن گھاس میں کر آئوں اپنی کانوں والی کے لیئے اور کھا جا تی ہے سینگوں والی! اے اللہ یہ کیسا انصاف!”
صبح ہوئی، فقیر اپنی دعا کا اثر دیکھنے باہر نکلا تب پتہ چلا کہ اس کی کانوں والی (گدھی) مر چکی تھی، اور گھر کے باہر وہ گائے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی. فقیر کو آگیا غصہ، اور ایک اندھے آدمی کو لیکر اپنی گدھی کے پاس آیا اور اس کو بولا کہ : “بتا! یہ کیا جانور ہے؟”
اندھا اپنے ہاتھ ٹٹول کر بولا: “لگتا تو گدھے جیسا ہے!”
تب وتایو فقیر نے اوپر دیکھ کر بولا: “واہ رے اللہ تیرے کام! اندھا جان گیا کہ گدھا ہے، پر تم نہ جان سکے!”
سب لوگ ہنستے ہیں آج تک فقیر کی اس بات پر، لیکن سچ تو یہ ہے کہ کم جانتے ہیں کہ اس لطیفے میں کمال کی بات پنہاں ہے.
بات یہ ہے کہ اللہ میاں نے ہمیں تمام حسیات سے نواج کر دھرتی پر اتارا، اور اس پر کرم اور بھی کہ تمام مخلوق سے افضل بھی قرار پایا!
گدھی فقیر کی اپنی تھی، تمام دن گھاس بھی وہ اپنے ہاتھوں سے کاٹتا، اور ایک پرائی گائے آتی اور اس گدھی کا رزق کھا جاتی، تب فقیر کیوں نہیں اٹھتا، اور ایک چھڑی لگاتا اس گائے کو؟
جب اس کا حق کھا یا جا رہا تھا، تب اس نے خود کیوں نہیں کچھ کیا؟ اور چلا دعا مانگنے؟
اس نے اپنا کام کیا تھا؟
خدا بھی اس کی مدد کرتا ہے جو پہلے تو اپنی مدد آپ کے تحت اٹھ پڑتا ہے…
یہ کیا؟
آپ نے دیکھا کہ دعا ہماری خواہشات کا اظہار ہوتی ہے. ہم نئ مشیعتٍ ایزدی کی منشاء کو جانے بغیر دعا کا استعمال اتنا کیا ہے کہ اب تو لالی ووڈ کی اکثر فلم ہیروئن کے انٹرویوز تو ملاحظہ فرمائیں!
میں سمجھتا ہوں کہ دعا انتہائی سستی ترین چیز ہو کر رہ گئی ہے. مشہور مغربی روحانی عالم گرڈجیف نے کیا خوب کہا کہ: “میں نے دس ہزار دعائیں سنیں اور ان میں نو ہزار نو سو ننانوے دعائیں صرف اپنی بچکانہ خواہشوں سے لبریز پائی”!
یوں سمجھیں کہ بچہ بیمار ہوا، ‘ڈپتھیریا’ سے پورا گلہ پکڑا ہوا ہے، اور رات کو موصوف نے فرمائش کی کہ اسے آئیس کریم کھانی ہے!
ادھر ڈاکٹر کہ رہا ہے کہ اگر بچے نے کچھ ٹھنڈی چیز کھالی تو اللہ ہی کی امانت ہوجائے گا! تو کیا اسے آئیس کریم دی جائے گی؟ قطعی نہیں…..
بہلایا جائے گا اسے، جھوٹ موٹ کہا جائے گا کہ آج کا دن ٹھہرو بیٹا! کل…. کل کھلائینگے.. وغیرہ وغیرہ..
کیونکہ بچہ نہیں جانتا، لیکن آپ جانتے ہیں…. کہ آئیس کریم بچے کے لیے موت کا ساماں ہوجائیگی. سو آپ اسے نہیں کھلائیں گے.
اب اس منطق کو بہت بڑا کرکے دیکھیں:
کیا ہم آنے والے کل سے کتنا با خبر ہیں؟ کل کیا، ہم تو دوسرے لمحے سے بھی نا آشنا ہیں!
کیا ہماری نظر دیوار کی دوسری طرف جا رہی ہے؟
چلیں “قصص الانبیاء” میں کلیم اللہ علیہ السلام کی عجیب دعائوں سے بھی ہم نے سبق نہیں سیکھا!
آپ نے ایک بات نوٹ کی؟ کہ دعا کا سفر نیچے سے اوپر کا ہے. تبھی تو میں نے کبھی بھی کسی دعا مانگنے والے کا ہاتھ نیچے کی طرف نہیں دیکھا.
صاحبو! میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ مسئلہ جتنا بھاری ہوتا ہے، اس کے لیے دعا مانگنے والا اپنا ہاتھ اتنا ہی اوپر اٹھاتا ہے! حالانکہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے یہ کہیں نہیں پایا کہ دعا کے لیے اپنے تمام زور سے اپنے پورے قد سے اوپر تک ہاتھ اٹھانے سے دعا قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے. لیکن یہ انسانی نفسیات ہوتی ہے. اپنے قلب کو سکوں پہنچانے کے لیے آدمی کیا کیا نہیں کرتا ہے….
سو دعا نیچے سے اوپر سفر کرتی ہے. (یہاں یہ بات ضرور ذہن نشیں کی جائے کہ میں شرع کی بات کر رہا ہوں، تصوف کی نہیں.)
اور دعا جب نچے سے اوپر تک سفر کرتی ہے تو اس پر آپ کی خواہشوں کا بوجھ بھی بہت ہوتا ہے.
منطق ہو یا طبیعات، یہ بات اہم ہے کہ بوجھ اونچائی پر جاتے زیادہ تنگ کرتا ہے، رفتار کم کردیتا ہے.
گوری سنکر جب ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچا تب پتہ ہے اس کے پاس صرف اپنے کپڑے ہی بچے تھے. آخری منزل پر تو اس نے اپنا کیمرہ تک چھوڑدیا تھا. بوجھ لگتا جاتا! اور جب وہ چوٹی پر پہنچا تب صرف وہ اپنی جان ہی پہنچا سکا، پتہ نہیں کیا کیا ساتھ لے کے چلا تھا…!
تو کہیں دعا بھی ہمارے بوجھ کی وجہ سے بھاری تو نہیں ہوجاتی؟ خواہشوں کے بوجھ سے!
ایسی خواہشیں کہ جیسے انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند!
پیر حسام الدین راشدی، سندھ کا ہی نہیں بلکہ عالمی طور پر اپنے وقت کا بہت بڑا مفکر اور شعبہ تعلیم کا گرو گذرا ہے. (بقول ڈاکٹر این میری شمل آف جرمنی)، اس نے ایک جگہ اپنی سندھی کتاب “اھی ڈینھں اھی شینھں” (وہ دن شیر کے دن) میں ایک بڑی سبق آموز کتھا لکھی ہے.
اس کا ایک عارف صفت دوست نماز پڑھنے کے بعد جیسے ہی پیر صاحب سے ملا تو پیر صاحب نے اس سے پوچھ لیا کہ : “قبلہ! دعا پوری ہوتی ہے؟”
جواب ملا: “پتہ نہیں… ہاں البتہ قلبی سکوں بہت ملتا ہے.” میں نے جب یہ بات پڑھی تب ذہن میں جیسے کیمرہ کی فلیش لائیٹ کا جھماکہ سا محسوس ہوا.
ارشمدیس کی طرح میں بھی “یوریکا…. یوریکا…” چیخنے لگا. تو میں نے جواب پا لیا!
“قلبی سکون”، ہاں یہ صحیح ہے. دعا قلبی سکوں کا ذریعہ ہے.
اور صاحبو، دنیا میں مجھے یہ تو بتادیں کہ “سکونٍ قلب” کے علاوہ کوئی اور راحت ہے؟
اسی وقت مجھے شہیدٍ اعظم مولا حسین علیہ السلام کے جملے ذہن میں گونجنے لگے جب مولا کربلا کی تپتی ریت پر گھوڑے سے گرا، اور آہستہ آہستہ فرمایا: “اے نفسٍ مطعمنہ!”
صاحبو!
یاد رکھیے!
کائنات میں اطمینانٍ قلب ہی زندگی کی حاصلات ہے!
اور دعا، بھی اسی قلب کو سکوں دینے کا ذریعہ ہے.
باقی پوری ہونا یہ نہ ہونا!
ہم کون ہوتے ہیں اس رب العزت کے اس کارخانے میں اپنی منوانے والے؟
کرتا وہی ہے، جو اس کی رضا ہوتی ہے.
تو میرے محترم دوستو! میں دعا مانگتا ہوں، ہاں مانگتا ہوں، اس طرح سے نہیں کہ میری پوری کر!
اس طرح سے کہ “تو جانتا ہے سب، کہ تو علیم ہے!
تو سنتا ہے سب، کہ تو سمیع ہے!
تو دیکھتا ہے سب، تو بصیر ہے!
تو ہی دلوں کے بھید جانتا ہے….
سو تو کر، وہی کر. جو تیری رضا ہے…
میری مت مان!
کہ میں جاہل ہوں!
میں وہ بچہ ہوں جسے ڈپتھیریا ہے، اور رات کی سردی میں آئیس کریم مانگ رہا ہے،
وہ مجھے مت دے!
میں خوش ہوں، کہ تو میرے ساتھ ہے!
میری حیات کی رگ سے بھی قریب تر!
بس، مجھے وہ کرنے کی توفیق دے جسے مجھے کرنا ہے،
باقی تو جان، تیرا کام جانے!”