وطنِ عزیز کی لیچڑ ہی سہی لیکن جو بھی سیاست ہے اس کی ابجد سے تھوڑا سا بھی جو شناسا ہوگا اسے بھی پتہ چل جائے گا کہ جناب الطاف حسین صاحب کی سیاسی کیمسٹری عمران خانصاحب کے مقابلے طاہر القادری سے ہی مل سکتی ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ ماضی قریب یا بعید کے مختلف واقعات سے لگا سکتے ہیں کہ:
طاہر القادری نے کبھی بھی ایم کیو ایم کی قیادت یا پالیسیوں پر تنقید نہیں کی، لیکن عمران خان کھلے عام انہیں دہشتگرد کہتا آرہا تھا اور الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا کیس برطانیہ تک لیجانا چاہا تھا۔
طاہر القادری کے موجودہ یوٹوپیائی مطالبوں میں ملک کے اندر نئے صوبے بنانے کا صاف اعلان موجود ہے جو کہ سیدھی طرح ایم کیو ایم کے خواب کی تعبیر ہے۔
موجودہ دھرنوں میں ایم کیو ایم کی ثالثی کمیٹی جس کی قیادت حیدر عباس رضوی کر رہے تھے وہ جناب طاہر القادری ہی سے ملے اور سر عام کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جبکہ انہوں نے عمران خان کو گھاس تک نہیں ڈالی تھی۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے علائقوں میں جناب طاہر القادری ایک دھمکی نہیں بلکہ دست شفقت سمجھے جاتے ہیں جبکہ عمران خان صاف صاف دھمکی ہے، کیونکہ ابھی اس الیکشن میں آپ سب نے دیکھا ہوگا کہ ایک زبردست پلاننگ کے ساتھ ایم کیو ایم کی ناک کے نیچے تحریک انصاف کے امیدوار جیت گئے تھے۔
کراچی میں ایم کیو ایم مخالف جماعت اسلامی جو نظر آرہی ہے اس کا تعلق دیوبندی اسکول سے ہے جبکہ جناب طاہر القادری بریلوی اسکول کے بندے اور دیوبندی مخالف خیالات کے ہیں، اور یہ بھی بات ایم کیو ایم کی حمایت میں جاتی ہے۔
کراچی میں اردو بولنے والے نوجوانوں کی اکثریت اب بوسیدہ سی ایم کیو ایم سے کافی جگہوں پر نالاں دکھائی دیتی ہے اور ان کے لیے عمران خان ایک نئی ورائٹی کی شکل میں مل رہا ہے، جو بات ہرگز ہرگز جناب الطاف حسین صاحب کو قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
اور ایسی کڑیاں اگر آپ دیکھنا چاہیں تو چھوٹی بڑی بہت سی مل جائیں گی جن میں فطری طور پر جناب الطاف حسین طاہر القادری صاحب کے ساتھ زیادہ قریب محسوس ہوگا جبکہ عمران خان مستقبل میں ایم کیو ایم کے خلاف ایک محاذ کی طرح صاف صاف دکھائی دے گے گا۔
اس وقت الطاف حسین ان دھرنوں کے ساتھ کیوں بلواسطہ یا بلا واسطہ کیوں چپٹے ہوئے ہیں تو اس سوال کی وجوہات مجھے صرف دو لگ رہی ہیں:
اول۔ جناب پرویز مشرف کی پاکستان سے فضیلت کے ساتھ باہر روانگی اور ان تمام کیسس پر مٹی ڈالنا جو پرویز مشرف کو غدارِ ملک اور پھر سنگین سزا تک لے جا سکتے ہیں۔
دوئم: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ان دو بندوں والا مسئلہ جو کہ پاکستان میں اس وقت مضبوط ہاتھوں سے بند ہیں۔ کہ کہیں حکومتِ پاکستان، کسی دباؤ کی حالت میں وہ بندے برطانیہ کے حوالے نہ کریں۔
سو یہ ضروری ہے الطاف حسین اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے پاکستانی "اگڑم بگڑم” سیاسی حرکات میں کوئی ایسا پتہ پھینکے کہ پاکستانی حکام اس سے بھی بات چیت کر سکیں اور اس کی مجبوری کو سمجھ سکیں یا صاف بات ایسے کہ جو وہ چاہیں وہ حکومتِ پاکستان پورا کرے۔
اب آتے ہیں میاں نواز شریف صاحب کے معاملے پر تو میرے حساب سے میاں صاحب زبردست قسم کے ایک انا پرست، ضدی اور احمق قسم کے سیاستدان اور بلا قسم کے ایک بزنس مین لگتے ہیں۔ وہ مانا کہ نسلی حساب سے پنجابی ہیں لیکن وہ پنجاب اسٹبلشمینٹ کے خلاف اور ان کے غدار ہیں۔ آپ صاحبان کو جناب سہیل وڑائچ کی ترتیب دی ہوئی کتاب "غدار کون” ضرور پڑھنا پڑے گا جو کہ پرویز مشرف کی کتاب "سب سے پہلے پاکستان” کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ میاں صاحب کے ساتھیوں میں آپ جناب آصف خواجہ صاحب کی بیباک باتیں سن کر خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میاں صاحب کی جماعت چاہے اسٹبلشمینٹ کی کوکھ سے ضرور نکلی ہے لیکن اب وہ اسٹبلشمینٹ سے بالکل باغی لگ رہی ہے۔ (یہ بڑی تعجب کی بات ہے)
ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ جناب نواز شریف کو الیکشن 2013 کے نتائج کا اس قدر پتہ نہیں تھا کہ وہ ایسی نہج پر پہنچ جائیں گے کہ اگر وہ چاہیں تو بھی اکیلے سر حکومت بنا سکتے ہیں، لیکن اسے پھر بتایا گیا کہ "آپ کو ایسے کرنا ہے اور ایسے نہیں کرنا”۔۔۔۔ اور یوں میاں صاحب جانتے بوجھتے کہ پنجاب میں اسے واضع اکثریت کیوں ملی جبکہ مرغِ بادباں تحریک انصاف کی طرف دیکھ رہا تھا، ٹھیک اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کو اتنے ووٹ ہی نہیں پڑے تھے لیکن اسے جیت دے دی گئی، بلوچستان میں تو سئو فیصد انتر منتر جادو جنتر کیا گیا۔ لیکن یہ بڑے مزے کی بات دیکھی گئی کہ پاکستان میں پہلی بار "کمیونٹی بیسڈ” ووٹنگ ہوئی۔ اس الیکشن میں ذات برادری کو اہم جانا گیا۔ اور یوں ملاؤں کے صاف ووٹ کو نظرانداز کرکے خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کو حکومت دیدی گئی۔
سندھ میں پیپلز پارٹی اور بلوچستان میں برائے نام مڈل کلاس لیکن اسٹبلشمینٹ نے زبردست چال چل پوری دنیا کو دکھایا کہ ہم بلوچستان میں بھی الیکشن کروا ہی دی۔۔۔ اور یوں وہاں مڈل کلاسی قومپرستوں کو دانہ پانی دیا گیا۔
باقی پنجاب اور وفاق میں میاں صاحب کو کہا گیا کھیل بھیا اب تم۔
اور مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے احمق پنے کی وجہ سے سندھ کے اہم ستون لوگوں کو بھول گیا، جیسے سید غوث علی شاہ، جو کہ ذاتی طور پر میاں صاحب پر احسان کے اوپر احسان کر چکے ہیں، جناب ممتاز بھٹو کہ جس نے اپنی پارٹی کو ہی پی ایم ایل نون میں ضم کردیا، اور میاں صاحب صوبہ سندھ کو پیپلز پارٹی کے حوالے کرکے خود اپنی انا کے خول میں یہ بھول بیٹھا کہ اب وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اور یوں وہ پرویز مشرف کیس کے سامنے آگیا!
میرے خیال سے اس کی تمام بھولیں ہلکی پھلکی قسم کی تھی لیکن یہ بہت بڑی بھول ثابت ہوئی۔ وہ طاقت کے نشے میں یہ بات بھول گیا کہ جنرل راحیل شریف کو بلند مقام دینے سے فوج جیسے ادارے کو خرید لینا نہیں ممکن ہوتا ہے۔ اور یہی ہوا۔ میاں صاحب پرویز مشرف کو ایک فرد سمجھ کر ہتھے لینے لگا، لیکن وہ احمق یہ بھول بیٹھا کہ جناب پرویز مشرف وہ ڈھول ہے جسے اٹھایا ہی نہیں جا سکے گا اور میاں صاحب چلا تھا اسے کاندھوں پر اٹھا کر بجانے کا۔
اچھا یہاں یہ صاحب کیا سوچ رہا تھا لیکن مقدس ترین اسٹبلشمینٹ کے پاس کچھ اور پلان تھا۔ کہ اب کی بار نواز شریف سے ایسا انتقام لیں کہ وہ اکڑوں بیٹھ جائے اور عمر بھر ہمارے سامنے اپنا سر نہ اٹھا سکے۔ اس لیے ایسا کیا جائے کہ وہ ہمارے سامنے ایسا مرغا بنا رہے جیسے بذاتِ خود صدر ممنون کے ساتھ کر رکھا ہے۔
اور یوں پاکستان کی تاریخ میں وہ وہ مناظر دیکھنے کو ملے کہ سب کی انگلیاں دانتوں کے درمیاں رہ گئی۔
آئین کیا ہے؟ قانون کیا ہے؟ مقدس پارلیمنٹ کیا ہے؟ سب جائیں بھاڑ میں۔۔۔ اور گنتی کے تیس چالیس ہزار بندے ان مقدس ترین عمارات کے سامنے آئینِ پاکستان کی دھجیاں ادھیڑنے میں لگ گئے اور مقدس پارلیمنٹ کے عین سامنے لیٹرین بنانے شروع کیے۔
اب نہ تو گولی چلے، نہ دنگا فساد ہو، نہ مظاہرین کو کچھ کہا جائے، اور حکمِ اسٹبلشمینٹ یہ کہ "سیاسی حل تلاش کرو۔”
اے میرے دوستو! اس سارے کھیل میں اس شورش کا ڈنڈا کس کی کمر میں ٹھوکا ہوا لگتا ہے؟
عمران خان یا قادری صاحب کی کمر میں؟ کبھی نہیں۔۔ وہ تو جھوم رہے، ناچ رہے بلکہ پورے پاکستانی تاریخ میں لفظ تقدس کے منہ پر تَوا گھما رہے۔
پیپلز پارٹی یا اور حزب اختلافی جماعتوں کی کمروں میں؟ نہیں۔۔۔ وہ تو دبے ہونٹوں ہنس رہے۔۔ بلکہ اندر ہی اندر میاں صاحب کو ٹوک رہے کہ اب دیکھو کس طرح پھٹ رہی ہے تمہاری عقل!
بس ایک ہی پارٹی ہے جو کہ ہے میاں نواز شریف کی پارٹی۔۔۔
اب ایک اور بات اچانک رونما ہو رہی۔ وہ کیا تھا کہ مندرجہ بالا واقعات میں صوبہ سندھ اور بلوچستان کہیں بھی نظر نہیں آرہے تھے۔ اور تمام بین الاقوامی میڈیا بھی یہی بات نوٹس میں لا رہی تھی۔ کہ یہ اٹھارہ کروڑ لوگوں والا نعرہ (دونوں طرفوں سے) جو لگ رہا تھا اس میں کتنی صداقت ہے۔ کراچی تو خاموش ہے، کوئٹہ تو خاموش ہے۔۔۔ تو جناب ذرا ان کو بھی شامل کیا جائے۔
آگ کی تپش صرف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں کیوں۔۔۔ سو اچانک الطاف حسین نے چنگھاڑ کر صوبے بنانے کی بات کردی۔
تو سندھی میں ایک ضرب المثل ہے کہ "ایمنا کے پیشاب سے تیل نہیں بنتا!” تو یہاں پورا پاکستان، اسٹبلشمینٹ حتیٰ کہ خود الطاف حسین صاحب بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں سندھیوں کی لاشوں کو جلا کر انہیں ان کے گھروں میں پہنچائیں خیر ہے، یہاں سینکڑوں نوجوان اٹھا کر ان کی لاشیں ڈرل مشین سے سوراخ کرکے بھیجی جائیں خیر ہے۔ لیکن اگر کسی نے سندھ توڑنے کا سوچا تو یہ سندھی کچھ بھی نہیں دیکھیں گے اور وہ ایسا کر لیں گے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا!
دوسری بات: کراچی کو عمرانی یلغار سے بھی محفوظ رکھنا ہے جس کے ساتھ دریں پردہ مذہبی کٹر طالبانی لوگ بھی شامل ہیں سو اگر وہ کراچی میں ایسے دھرنوں کا نیٹورک پھیلا رہا ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان ایم کیو ایم کو ہوگا، سو کراچی میں "کچھ اور ہوجائے” کا فارمولا استعمال کرکے اور پورے سندھ کے لوگوں کی نظریں صرف کراچی تک محدود کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہاں ایسی بات کی جائے کہ تحریک انصاف کو بھی منہ دیا جا سکے تو پاکستان کی اسٹبلشمینٹ بشمول میاں صاحب کو بھی مجبور کیا جائے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کیس میں مطلوب وہ دو بندے برطانیہ کے حوالے نہ کیے جائیں!
سو پاکستان میں فی الحال یہ جمود لگتا ہے کچھ دن اور قائم رہے۔ آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا!



