ایک دن پاگل خانے میں

“میرا خیال ہے کہ ہم غلط وقت پر اور غلط جگہ پیدا ہوگئے ہیں، اور یہ کوئی اچھنبے والی بات بھی نہیں ہے. فطرت سے بھی اکثر اوقات غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں! شاید فطرت بھی ہماری طرح ارتقا پذیری کی حامل ہے…..” یہ تھے الفاظ کراچی نفسیاتی ھسپتال میں داخل ایک مریض کے جسے اس کے رشتیدار کوئی پانچ مہینے پہلے داخل کراکے چلے گئے تھے. اس کا نام وجاہت علی تھا. عمر کوئی ستائیس برس کی ہوگی. بہت گورا اور چہرے سے بھی وجیہ لگ رہا تھا. اس کے رشتیدار ہر مہینے ھسپتال کے کائونٹر پر ہی تیس ہزار روپے جمع کر کے چلے جاتے ہیں. دو بار اس سے ملے تھے لیکن وہ بھی صرف دس منٹ کے لیے. “ایک طرف چرس پینے والا رونالڈ ریگن جسے بعد میں الزہمیر کا مرض ہوگیا تھا وہ پوری دنیا کے طاقتور ملک کا صدر بن سکتا ہے، تو دوسری طرف مجھ جیسے انسان کو دو سگریٹ چرس پینے پر یہاں پاگلوں کی ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے. اور باء د وے، میں یہاں باہر کے نام نہاد عاقلوں کی دنیا سے بہتر محسوس کر رہا ہوں. کم از کم مجھ پر فتویٰ تو نہیں لگائے جاتے……..!”
اس کی بات کاٹ کر میرا دوست حیدر جسے یہاں داخل ہوئے دو مہینے ہوچکے ہیں اس نے کہا: “فیاض! مسئلہ یہی تو ہے. خدا اور انسان کے بیچ سیدھا تعلق ہے. رابطہ ہے. یہ کسی سیٹلائیٹ کا محتاج نہیں ہے، یہ ہر رکاوٹ کو نہیں قبول کرتا. اب میں خدا کے لیے کیا سوچتا ہوں، یا اس سے کیسے مخاطب ہوتا ہوں، یہ تو میرے اور خدا کے مابین سلسلہ ہے نا! اب کوئی تیسرا آکر کہے کہ نہیں جی خدا سے اس طرح بات کرو، یا ایسے نہیں ویسے رجوع کرو اور اپنے “ڈوز اور ڈائونٹس” (Dos & Donts) مجھ پر تھوپے تو یہ تو بڑی زیادتی ہے نا…!”
اور میں ان سماج کے پاگل قرار کیے ہوئے دوستوں کے بیچ ایک عجیب اور غریب دنیا میں کھو جاتا ہوں.
میرا دوست حیدر جو مجھ سے دو برس چھوٹا ہے. جب اس کی ماسٹرس ڈگری کی فائنل تھیسز مکمل ہوئی تب اس نے وائیس چانسلر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، سید محمد ابراہیم شاہ اور اپنے تمام لیکچرر پروفیسرز اور شاگردوں کے سامنے اپنے تھیسز کی پریزینٹیشن دی تھی. مجھے یاد ہے وہ دن نائین الیون سے پانچ مہینے پہلے کا ایک گرم دن تھا، جب اس نے ایک گھنٹہ دس منٹ متواتر انگریزی میں افغانستان امیریکا اور پاکستان کی پالیسی پر بات کی تھی، جس میں اس نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شاید بہت جلد امریکا افغانستان پر دھاوا بول دیگا. تمام ہال پر جیسے ایک سکتہ سا چھا گیا تھا. اس نے فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن میں ایم اے بین الاقوامی تعلقات میں پاس کیا اور قائدٍ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے لیے اسکالرشپ پر ماسٹرز آف فلاسافی کرنے نکلا. ایم فل آدھی چھوڑنے کا سبب وہاں کی بے تاج مہارانی میڈم روزینہ صدیقی سے کسی پالیسی پر چپقلش تھی. اور وہ یوں اپنے گاؤں میں دن رات امریکی سیٹلائیٹس کو افق پر چکر مارتے دیکھ کر کہتا رہا کہ عنقریب امریکا ساؤتھ ایشیا پر کنٹرول کریگا. مجھے یاد ہے 2007ع میں اس سے وہ بات چیت، جس میں اس نے کہا تھا کہ پاکستان نے ایٹم بم بنادیا ہے، لیکن یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک نشے میں دھت آدمی کے ہاتھ بھری ہوئی بندوق دی جائے. اس نے بی بی سی پر اپنے خیالات کا اظہار کئی بار کیا، اور ایک دن وہ خیرپور شہر گیا کہ پھر دو مہینے سات کلومیٹر کے راستے میں لگ گئے. وہ غائب ہو چکا تھا.
وہ لوٹا تو عجیب باتیں کرنے لگا.
“یہاں مجھے ہر کوئی تاڑ رہا ہے. پرویز مشرف مجھ پر آنکھیں تانے کھڑا ہے. میں کبھی کبھی آسمانی آوازوں کی موسیقی سن رہا ہوں. وغیرہ وغیرہ. اس نے چرس پینا شروع کیا، ویلیم کی گولیاں پھانکنے لگا.
اور اس کے والد صاحب اسے نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس لے گئے. اسے الیکٹرک شاکس دی جانے لگی، کبھی کبھی وہ سنبھل جاتا پھر وہ چوتھے آسمان کی باتیں کرنے لگتا.
جس دن اسے کراچی نفسیاتی ہسپتال داخل کرایا گیا اس سے کوئی ایک مہینہ پہلے وہ مجھ سے ملا تھا. بال بڑے ہوکر کاندھوں کو چھو رہے تھے. وہ بہت کمزور ہوچکا تھا. کم بول رہا تھا. رخصتی کے وقت صرف اتنا بولا: “امریکا کو حق دیا جا رہا ہے کہ وہ ہم پر حکومت کرے، اور اچھا ہے! یہاں عنقریب ملاؤں کا راج ہوگا. اور ہم پھر پہلے عربوں کی کمینگی کا شکار ہونگے اور بعد میں امریکانوز کے.”
اور اب وہ ہسپتال میں داخل تھا. وہاں اس کے قریبی دوست تین تھے. پہلا، وجاہت، دوسرا علی اور تیسرا فرزند.
حیدر نے وہاں فرزند کا تعارف مجھ ایسے کرایا کہ، “یہ ہے فرزند، پانچ سؤ ایکڑ زرعی زمیں کا مالک. انجنیرنگ میں گریجوئیٹ ہے، اور اسے یہاں اس کے چچا زاد بھائی داخل کرا گئے ہیں. کیوں فرزند…؟”
فرزند، حیدر سے ہاں میں ہاں ملا کر بولا: “یہ ہسپتال والے بزنس مین ہیں. مہینے میں تیس ہزار روپے دے کر یہاں آپ کسی بھی با شعور آدمی کو پاگل قرار دلوا کر اس کی ملکیت پر قبضہ کر سکتے ہیں.”
“بہرحال ہم یہاں خوش ہیں، اگر یہ لوگ ہمیں الیکٹرک شاکس نہ دیں تو!” علی جو مسلسل چپ بیٹھا تھا، بول پڑا : “حیدر آپ کی باتیں اکثر کیا کرتا ہے، کیا آپ لکھتے ہیں؟” اس نے مجھ سے پوچھا، میری ہاں پر اس نے کہا کہ: “آپ نے سنا ہے کہ ہسپتال معاشرے کا پیرامیٹر ہوتے ہیں؟”
“نہیں.” میں نے جواب دیا تو وہ بولا: “ہاں، آپ کسی معاشرے کی تنزلی یا ترقی کا پیمانہ اسٹاک ایکسچینج یا یونیورسٹی میں مت دیکھیں، دیکھنا ہے تو اس معااشرے کی ہسپتالوں میں جاکر دیکھیں، کون سی بیماریاں ہیں وہاں، ڈاکٹر کیسے ہیں، دوائیاں مل رہی ہیں کہ نہیں، اور سب سے اہم، آپ وہاں کے پاگلوں کو دیکھیں! یقین مانیے، اصلی پاگل باہر گھوم رہے ہیں، اور ہم جیسے نیم پاگل ہر روز الیکٹرک کی شاکس برداشت کرتے ہیں.” وہ رو پڑا.
سیب کھاتے وجاہت بڑی سنجیدگی سے بولا: “صاحب! مسئلہ ہمارے ساتھ یہ ہے کہ ہم مشرقی پڑھے لکھے لوگ ابھی تک روٹی اور جنس کی قید میں ہیں. اور مغرب ان مسائل سے آزاد ہوکر مریخ اور مشتری پر اڑان بھرنے لگا ہے. وہاں اب پئسہ حاصل کرنا مسئلہ نہیں بلکہ اسے استعمال کس طرح سے کیا جائے یہ فکر لاحق ہے ان کو.”
اور اس طرح سے باتیں کرتے کرتے میرے تین گھنٹے پورے ہوئے اور اگلی بار چکر کاٹنے کا وعدہ کرکے وہاں سے رخصت ہؤا.
ڈاکٹر نعیم افغان جو میرا دوست تھا، اس سے جاتے جاتے میں نے پوچھا کہ کیا واقعی یہ پاگل ہیں؟
نعیم ادھر ادھر دیکھ کر بولا: “قطعی نہیں، یہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں، اور مس فٹ ہیں اس معاشرے میں! انہیں ہم نے نہیں ان کے ماحول نے پاگل قرار دیا ہے، اور ہم؟ بزنس مین کو پئسہ عزیز ہے، کسی کی ذہانت یا وجدان نہیں….”
علی کی بات کی طرح گرو رجنیش نے بھی ایک جگہ کہا تھا کہ “دنیا کو دیکھنا ہے تو پاگل خانے چلے جاؤ!”
اور مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم سب پاگل ہیں، جو اپنے وجدانوں، ذہنوں اور عاقلوں کو پاگل خانوں میں قید کرکے باہر اپنے بوسیدہ باتوں کا زہر آنے والی نسلوں کی رگوں میں ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں. کہ ہمارے قبرستان آباد رہیں، کہ ہمارے ماضی کی بلی پر قربانیاں ہوتی رہیں، اور ہم پروہت بن کر ماضی کے مزاروں پر دکانداری کرتے رہیں!