یہ ببلیاں، جو بہنیں نہیں جو بھائی نہیں

"ہم کو کس نے انسان سمجھا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم عام زندگی کیوں نہیں گزارتے!” ببلی جس کا آبائی نام بادل تھا اور وہ پیدائشی تیسری جنس لیکر آیا تھا اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر مجھ سے بولی(بولا)!صاحب! آج تک ہم کو نہ تو کسی نے بھائی کہ کر پکارا اور نہ بہن۔۔۔، ہمارے لیے رشتے ہیں کیا؟ ہم تو رکھیل بھی نہیں بن سکتے، تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ ہماری کوئی عزت کی زندگی ہوسکتی ہے”!
بادل، رحیم یار خان کے ایک گاؤں میں آج سے کوئی چوبیس برس پہلے پیدا ہؤا۔ بچپن سے اس کی عادات و اطوار عجیب تھے جن کے سبب اس کے تمام رشتیدار بمع ماں باپ ، اس سے خائف رہتے تھے۔ وہ عورتوں کے بیچ میں رہتا تھا۔ اسکول جانے کی جب عمر ہوئی تو وہ بھاگ جاتا اور دور ایک ٹیلے پر گھنے درخت کی جھاڑیوں میں چھپ جاتا، واپس آتا تو ڈنڈے کی پٹائی اس کا سواگت کرتی، اور وہ روتا روتا ، گھر کے ایک کونے میں پڑے تھال سے چھپ کر روٹی اٹھا کے باہر بھوسہ رکھنے والی جگہ پر بیٹھ کر کھاتا!
"مجھے سب سے بڑا ڈر ابا جی سے لگتا ، جو میرے دو بڑے بھائیوں کی مدد سے مجھے دھواں دیتا” وہ کہ رہا تھا۔ دھواں ایک خالی ہانڈی میں کپڑے کے کسی ٹکڑے کو جلا کر بنا یا جاتا جو بعد میں بادل کے منہ کے ساتھ لگایا جاتا۔ جس سے اس کی سانس گھٹتی اور وہ تڑپ اٹھتا۔ “اب آپ ہی بتائیے، اگر اللہ میاں نے مجھے ایسے بنایا تو اس میں میرا کیا قصور۔۔۔” اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
پھر ایک دن اس کے ہم ناجنس لوگ آئے۔ اور اسے اس کے ماں باپ سے خرید لیا۔ (صرف ایک مٹھی نمک کے عیوض، یہ رسم ہے ان کی)
وہ بادل تھا، لیکن اب وہ ببلی بن گئی۔
چولہے پر پانی رکھا گیا۔ اس کے پاؤں نیم گرم پانی میں ڈال لیے گئے، اور اس کی چھٹھی کی رسم منائی گئی۔ “مجھے وہ سب کچھ بہت پیارا لگ رہا تھا۔ میرے کان اور ناک کشید کیے گئے، لیکن اس درد میں بھی مجھے مزہ آرہا تھا۔ سہرے گائے گئے، مجھے دلہن بنایا گیا، اور زنانہ کپڑے پہنائے گئے، لال لال کپڑے کہ جو میرا خواب تھا۔ میں ناچی تھی پہلی بار کھل کر۔۔۔”
ببلی آسماں کی طرف نظر اٹھا کر اپنے ماضی سے واقعات چوری کر کے مجھے بتا رہی تھی۔
ببلی اپنے گرو کے ہاتھوں پلتے پلتے بڑی ہونے لگی، اور سولہ برس کی عمر میں اس کی شادی کروائی گئی۔
"ہماری شادی آپ لوگوں کی شادیوں کی طرح ہی ہوتی ہے، بس فرق یہ ہوتا ہے کہ ہمارا دولہا ہماری جنس کا نہیں ہوتا ہے وہ آپ ہی کی طرح باہر کا مرد ہوتا ہے۔ ہمارا نکاح آگ کی ایک رسم ہوتا ہے، اور ہم پھر مٹھائیاں ، بریانی اور میٹھے چاول کی دعوت کرتے ہیں۔ ہمارا خاوند “گری” کہلواتا ہے۔ ”
شادی کے ٹھیک چالیس دن بعد ببلی عام لوگوں کے درمیاں جانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ ان چالیس ایام میں ببلی کو تمام تربیت دے دی گئی کہ مردوں کو کس طرح لبھایا جا سکتا ہے۔ ننگی اور فحش فلموں سے اسے عملی تربیت سے مکمل طور پر مزین کیا گیا ۔ “میں نے ان چالیس دنوں میں کوئی بیس مرد بدلے ہونگے۔۔ اور وہ مرد کوئی بازارو نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے اپنے ہی ہوتے ہیں۔ دیکھیں نہ،” مڑھی” (ببلی والوں کا محلے) میں سب کھسرے بھی تو نا مرد نہیں ہوتے نہ! اب تو آدھے سے زیادہ ہمارے قبیلے میں مرد ہوتے ہیں جو پیدائشی کھسرے نہیں ہوتے، بس ان کو یہ لت لگ جاتی ہے۔۔” ببلی کہتے کہتے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر چپ ہوگئی۔ میں نے اسے دو سؤ روپے دیے مگر اس نے ایک سؤ روپے یہ کہ کر لوٹا دیے کہ: “ایماندار ہوں صاحب! جب آپ نے کچھ کیا ہی نہیں تو آپ سے مزید پئسے کیوں لوں!” ببلی کی کہانی ایک مفعولی کہانی لگتی ہوگی، لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہر مخنث ببلی جیسا ہی ہو۔
تصویر کا ایک اور بھی رخ ہے۔
بوبی، جس کا اصل نام سید الماس شاہ ہے۔ راولپنڈی میں رہائش پذیر یہ اپنی برادری کا سیاسی گرو بھی ہے۔ بوبی کے تعلقات اگر گہرائی سے دیکھے جائیں تو کسی صوبائی منسٹر کے تعلقات سے کم نہ ہونگے۔ رینٹ اے کار اور پراپرٹی کے کاروبار کے ساتھ اس کا کافی سرمایہ مختلف کاروباروں میں گھوم رہا ہے۔ کم از کم چار سو سے زیادہ مخنث اس کے گروپ میں ہیں، اور وہ ان سب کا گرو بھی ہے۔ اس کا کام اپنے گروپ میں شامل مخنثوں سے ہر ماہ ایک ہزار روپے لے کر انہیں پولیس یا دوسری طاقتوں سے بچانا ہے۔
"دیکھیں جی! ہم بھی انسان ہیں، آخر ہمیں بھی اپنی زندگی گذارنی ہے، اگر گذارنی ہی ہے تو بندہ کتے کی طرح کیوں گذارے؟ رہے تو شان سے ورنہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرے”۔ بوبی فخریہ انداز میں کہنی لگی۔ “ابھی پچھلےمہینے ہمارے گھر کو ملا لوگ اپنی جائداد بنانے کے چکر میں قبضہ کرنے چلے آئے، طالبانی ہونگے شاید، تب اگر ہمارا تعلق “بڑی آسامیوں” سے نہ ہوتا تو میں کیسے کہتی انہیں کہ اگر میں چاہوں تو آپ کے سب محلے ایک منٹ میں ملیا میٹ کر سکتی ہوں، اور وہ بھاگ گئے۔، اب آپ ہی بتائیے کہ ہمارے پاس پئسہ یا “بڑے آدمیوں کے رفرنس” نہ ہوتے تو ہم تو کب کے مر کھپ چکے ہوتے!”
بوبی تو اچھے خاصے سرمائے سے ایک ٹھاٹھ اور رئیسانہ زندگی گذار رہی ہے لیکن خیرپور کی مقیم عالیہ جس کا اصل نام محمد بخش ہے اور جس کے والدین لسبیلہ میں رہتے ہیں وہ ماہانہ اپنے گھر دس سے پندرہ ہزار روپے بھیجتی ہے۔ بہت ملنسار اور خوش خلق ہونے کے ناتے یہاں ہر کسی شادی یا خوشی میں پیش پیش رہتی ہے۔ “دیکھیں جی! انسان اپنے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے نا! میں کوئی پکی مسلمان تو نہیں، ہاں البتہ اتنا جانتی ہوں کہ اچھا ااخلاق ہی انسان کو ٹھنڈی چھاؤں میں بٹھاتا ہے۔” وہ کہ رہی تھی: “میں ہر وہ دھندا کرتی ہوں جسے آپ لوگ غلط کہتے ہیں، حالانکہ میں بھی اسے غلط سمجھتی ہوں، لیکن مجھے بتائیں کہ حلال میں برکت کہاں ہے؟” اس نے سوال چھوڑ کر سگریٹ منہ میں دبادیا۔
یہاں درگاہوں پر سالانہ عرس کے ایام میں عالیہ جیسی ہزاروں بوبیوں، ببلیوں، بالیوں اور ریمائوں کی بزنس چمک اٹھتی ہے، جو موت کے کنویں، سرکس، عارضی ہوٹلوں میں ناچ کر اور جنسی کاروبار کرکے لاکھوں روپے کی بزنس اور کروڑھا روپے خرچ کرنے والی بیماریاں پھیلاتی ہیں۔ مقامی پولیس کے اہلکار ان نامعلوم جنس کے افراد سے لاکھوں روپے لیکر پہریدار بن کر گھومتے ہیں۔
جہاں دنیا میں مخنث اچھے اچھے عہدے پر فائز ہیں، کرکٹر ہیں، مصنف اور اداکار ہیں وہاں پاکستان میں ان کی شناخت تو دور کی بات ، انہیں جان بوجھ کر اس دھندے پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔
“میں نے ان مخنثوں پر تین پروپوزل بنائے، کہ پہلے تو انکو شخصی احترام اور سماجی انصاف ملنا چاہیے، جو کہ ان کے لیے مخصوص ادارے بنانے پر ہی ممکن ہوسکتا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بہت مشکل ہے”۔ شاہنواز ایک سماجی تنظیم کے اہلکار نے بتایا: “جب ہمارے ملک میں عورتوں یا معذوروں کے لیے مخصوص ادارے بنائے جاتے ہیں تو کیوں نہیں معاشرے کے دھتکارے ہوئے ان انسانوں کے لیے بنائے جا سکتے ہیں؟”
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سماجی تنظیمیں معاشرے کے اس ممنوعہ شجر کی مانند طبقے پر اربوں روپوں کے پروجیکٹ لے کر اپنا بینک بیلینس بڑھا رہی ہیں، پر “یہ شہر ہمیشہ ترسا ہے یہ شہر ہمیشہ ترسے گا” کی طرح گلیوں اور پارکوں پر یہ طبقہ دعائیں دیکر پئسے لیتا اور اپنے گاہک تلاش کر رہا ہے۔
کیا سماجی رہنما محترم عبدالستار ایدھی صاحب کوئی ایسا کام کر سکتا ہے ، کہ جس میں ان کے لیے ایک بہتر مستقبل کی شروعات ہی ہوسکے! کہ جس میں ان کا کچھ تو مقام پیدا ہوجائے! یہی اہم سوال ہے۔
“آپ کیا سمجھ رہے ہیں کہ صرف ہم ہی کھسرے ہیں؟ راولپنڈی کی بوبی دھماکہ کرکے بتا رہی تھی : “ہم تو جسمانی کھسرے ہیں، کم از کم بتاتے ہیں کہ ہم یہ ہیں۔۔۔ آپ کی نظر ان بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے والے لوگوں پر کیوں نہیں جاتی ، جن کو پولیس کا تحفظ بھی حاصل ہے، لیکن ارادوں میں وہ ہمارے ہی بھائی بند ہیں”۔